شادی شدہ جوڑے کس بات پرسب سے زیادہ لڑتے ہیں؟تحقیق نے بتا دیا

شادی شدہ جوڑے کس بات پرسب سے زیادہ لڑتے ہیں؟تحقیق نے بتا دیا

  



 برمنگھم (نیوز ڈیسک) میاں بیوی میں بحث و تکرار اور ہلکا پھلکا جھگڑا تو ہوتا ہی رہتا ہے لیکن ایک حالیہ تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ سب سے زیادہ جھگڑا کس بات پر ہوتا ہے اور سال میں تقریباً کتنی بار ہوتا ہے۔اس تحقیق میں 2,000 جوڑوں کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ نصف سے زائد نئے جوڑے اس بات پر جھگڑتے ہیں کہ گھر میں فضول سامان بہت جمع ہوچکا ہے اور میاں بیوی کے اضافی سامان سے جان چھڑانا چاہتا ہے تو بیوی میاں کی بے فائدہ چیزوں سے چھٹکارہ چاہتی ہے۔ اس بات پر سالانہ تقریباً 30 سے 35 دفعہ تکرار اور جھگڑا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اکثر ایسی اشیاءبھی گھر سے نکال باہر کی جاتی ہیں جن کی واقعی ضرورت ہوتی ہے محض جھگڑے کی وجہ سے نکالی گئی اشیاءکی قیمت ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔خواتین عام طور پر مردوں کی جن اشیاءسے جان چھڑانا چاہتی ہیں ان میں کھیل کا سامان، ورزش کا سامان، ویڈیو گیمز، بڑی LED سکرین، بڑے سپیکر اور کتابیں شامل ہیں۔ مرد خواتین کی جن اشیاءکو فضول سمجھتے ہیں ان میں بھس بھرے کھلونے، ٹیڈی بیئر، تحائف، سکول کی کتابیں اور سالگرہ کے کارڈ وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کی اشیاءکو فالتو سمجھ کر ا±ن سے جان چھڑانے سے مالی نقصان بھی ہوتا ہے اور اختلافات بھی پیدا ہوتے ہیں اس لئے ٹھنڈے دل سے غور و فکر اور بات چیت کرکے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

سردی سے بچنے کے لئے ناک کو ڈھانپنا انتہائی ضروری

لندن(نیوزڈیسک)سردی کا موسم اپنے عروج پر ہے اور اس موسم میں نزلہ و زکام لگ جانا ایک عام سی بات ہے لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنے ناک کو سرد ہوا سے بچائیں اور اسے گرم رکھیں توآپ نزلہ وزکام سے بچ سکتے ہیں۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ہماری ناک سرد ہو جائے تو جسم میں موجود مدافعتی نظام کے لئے کافی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ جراثیم کے خلاف لڑنے کے لئے کمزور ہو جاتا ہے۔امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب بھی ہماری ناک کا درجہ حرارت 33ڈگری سینٹی گریڈ تک آتا ہے تو جراثیم کے لئے یہ انتہائی سازگار درجہ حرارت ہے اور ہمیں زکام کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ Yaleیونیورسٹی کے ماہرین نے تجربات کے دوران یہ نتائج اخذ کئے کہ گرمیوں کے دوران جراثیم کنٹرول میں رہتے ہیں جس کی وجہ درجہ حرارت کا زیادہ ہونا ہے لیکن جیسے ہی سرد موسم شروع ہوتا ہے تو ناک کے ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے جراثیموں کو موافق درجہ حرارت مل جاتا ہے اور وہ انسانی جسم میں تباہی مچا دیتے ہیں۔کارڈیف یونیورسٹی ،کامن کولڈ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر رون ایکلس کا کہنا ہے کہ سردیوں میں ہم اپنے تمام جسم کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں لیکن اگر ناک کو صحیح طریقے سے نہ ڈھانپا جائے تو سردی لگنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہیے کہ اپنی ناک کو سکارف یا مفلر سے ڈھانپ کر رکھیں جبکہ سردیوں میں وٹامن ڈی کی کمی بھی ہو جاتی ہے لہذا اس کا استعمال بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن سی کا استعمال بھی آپ کو سردی اور زکام سے دور رکھے گا۔

مزید : علاقائی


loading...