فوجی عدالتوں سے دہشتگردوں کو فوری سزا ملے گی، مقدمات چند دن چلیں گے ، وزیراعظم

فوجی عدالتوں سے دہشتگردوں کو فوری سزا ملے گی، مقدمات چند دن چلیں گے ، ...

  



مانامہ(اے این این)وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے فوجی عدالتوں سے دہشتگردوں کو فوری سزا ملے گی،مقدمات چند دن چلیں گے،ہمارے پاس دہشتگردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں،لوگوں کے گلے کاٹنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں،ماضی کی حکومتیں احساس کرتیں تو آج حالات مختلف ہوتے،غفلتیں پاکستان کے لئے افسوسناک ہیں،بجلی بحران اپنے دور میں ہی ختم کردیں گے،گیس کی قلت پر قابو پانے کے لئے پاک ایران منصوبے کے تحت نواب شاہ تک پائپ لائن کا ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے،کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش ہے،پاکستان اور ایران نے اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا ہے،آپریشن ضرب عضب کا مثبت نتائج آ رہے ہیں،دہشتگردوں کے ٹھکانے ،انفراسٹریکچر اور نیٹ ورکس تابہ کر دئیے،کچھ دہشتگرد افغانستان بھاگ گئے ہیں جن کے بارے میں افغان حکومت سے بات ہوئی ہے۔ پاکستانی سفارتخانے میں بحرین میں مقیم پاکستانی شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ یہاں مقیم پاکستانیوں کا بحرین کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ہے جس کے بحرین کے بادشاہ اور وزیراعظم بھی معترف ہیں، بحرین کی قیادت کی طرف سے پاکستانی شہریوں کی تعریف سن کر مجھے خوشی ہوئی ہے اور یہ بات ہمارے لئے باعث فخرہے کہ تارکین وطن پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں اوربحرین کی قیادت پاکستان کی افرادی قوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ بحرین کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوں، تجارت کو فروغ ملے ، سیاسی و سفارتی تعلقات کو مستحکم بنایا جائے۔ بحرین کی قیادت بھی یہی چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اقتصادی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں، دہشت گردی کے خاتمے اور توانائی بحران پر قابو پانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان دو معاملات پر پوری توجہ دی جارہی ہے اور ہم دن رات کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی قلت کا مسئلہ معیشت کے ساتھ جڑا ہے یہ مسئلہ برسوں سے چلا آرہا ہے ۔ماضی کی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتیں تو آج حالات بہتر ہوتے اور یہ سنگین ترین مسئلہ درپیش نہ ہوتا جو ہماری صنعت ، سرمایہ کاری، برآمدات ، صنعتی پیداوار اور گھریلو زندگی کو متاثر کرنے کا باعث بن رہاہے۔ پاکستانی عوام گیس کی قلت کے باعث بھی پریشان ہیں اس کیلئے 15 سے20سال پہلے ان اقدامات کی ضرورت تھی جو ہم آج اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی اقتصادی صورتحال اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم اپنے طورپر اس شعبے میں وسیع سرمایہ کاری کرسکے ۔ ہم چین کے ساتھ مل کر توانائی سیکٹر پر کام کررہے ہیں اور بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرینگے۔ ہم ازخود بھی ہائیڈرل پراجیکٹس پر توجہ دے رہے ہیں ۔ اس ضمن میں دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر کیا جارہا ہے جس سے 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی۔ اس منصوبے سے منگلا اور تربیلا ڈیم سے زیادہ بڑا پانی کا ذخیرہ قائم ہوگا جس سے زراعت و آبپاشی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشی اعشاریے دن بدن بہتر ہورہے ہیں، محصولات اور برآمدات میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ پیداواری سیکٹر میں بھی ترقی ہورہی ہے اور مجموعی شرح پیداوار9فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا ہے اور ابتک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 فیصد کمی کی گئی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں بھی 2روپے 32پیسے فی یونٹ کمی ہوئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے زرعی اجناس کی پیداواری لاگت میں بھی کمی آئی ہے اور کسانوں کوفائدہ ہوا ہے۔ ان قیمتوں میں کمی کا تمام شعبوں پر اثر پڑرہا ہے اور عام آدمی کو ریلیف مل رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی ہے۔ اگر ملک میں امن ہو توترقی کی رفتار کئی گناہ بڑھ سکتی ہے۔ ملک میں قیام امن کیلئے ماضی کی حکومتیں احساس کرتیں تو آج حالات کچھ مختلف ہوتے،غفلتیں پاکستان کیلئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پہلی بار سنجیدگی سے کام کیا جارہا ہے۔ اس وباء کو ختم کرنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا تھا جس کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور دہشت گردوں نے مذاکرات کے دوران بھی تشدد جاری رکھا۔ حکومت کی پرخلوص کوشش کا خاطرخواہ جواب نہیں دیا گیا۔ کراچی ایئرپورٹ حملے کے بعد آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیا گیا۔ جب دہشت گرد تشدد سے باز نہ آئے تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں50 ہزار سے زائد پاکستانی شہید اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے ۔ اچھی قومیں گو مگوں کی صورتحال میں رہنا پسند نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اور پاک فوج سمیت پوری قوم نے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس آپریشن کے بعد واہگہ بارڈر اور سانحہ پشاور جیسے دو بڑے واقعات سامنے آئے ہیں۔ چھ ماہ کے دوران مزید کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔ ضرب عضب آپریشن میں بہت سے دہشت گرد مارے جاچکے ہیں اور کچھ افغانستان کی طرف فرارہوگئے ہیں۔ ہماری اس حوالے سے افغانستان کی نئی حکومت اور افغان صدر اشرف غنی سے بھی بات ہوئی ہے۔ ان کا دورہ پاکستان بہت اچھا رہا۔ وہ پاکستان دوست اور اچھے انسان ہیں ، ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ معاملات کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں اور ماضی کی غلط فہمیوں کو دور کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کسی قیمت پر ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ شروع کردی ہے۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں، انفراسٹرکچر اور نیٹ ورکس کو تباہ کردیا گیاہے۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے بھی ہمارا تعاون حاضر ہے ۔ اشرف غنی نے نئے تعلقات کا باب کا آغاز کیا ہے ہمیں امید ہے کہ مغربی سرحد اور افغانستان کے ساتھ معاملات ٹھیک ہونگے ، ہم دہشت گردوں کا صفایا کرینگے جو ترقی کیلئے ضروری ہے۔ ہم پرامن پاکستان چاہتے ہیں اور اس کیلئے کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرینگے۔ دہشت گردوں کے خلاف آخری حد تک جائیں گے ان کا پیچھا کیا جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں اسی جذبے کے تحت میں نے نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی اور ان سے ون آن ون ملاقات اچھی رہی تھی جس میں ہم نے جامع مذاکرات کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ طے ہوا تھاکہ 25 اگست کو اسلام آباد میں پاک بھارت سیکرٹری خارجہ سطح کی ملاقات ہوگی ، ہم اس حوالے سے تیاریاں کررہے تھے کہ بھارت نے مذاکرات سے تین روز قبل ملاقات منسوخ کرنے کا یکطرفہ اعلان کردیا جو افسوس ناک ہے۔ بھارت نے اس ملاقات کی منسوخی کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن اور کشمیری قیادت کی ملاقات کو جواز بنایا حالانکہ اس قسم کی ملاقاتیں60 برس سے ہورہی ہیں جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان کوئی اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوتی ہے تو کشمیری قیادت سے مشورہ اورتجاویز لی جاتی ہیں۔ بھارت کی طرف سے اس ملاقات کو بہانہ بناناعجیب تھا۔ اگر ملاقات منسوخ کرنی تھی تو ہمیں اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا ۔ اس ملاقات کا فیصلہ دو وزرائے اعظم کی ملاقات میں ہواتھا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال اور مسلسل فائرنگ باہمی تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔ ہم معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اوربھارت کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں جن کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ جنگیں مسائل حل کرنے کا نہیں مزید بگاڑ پیداکرنے اور مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ نوازشریف نے کہاکہ ہمارے پاس دہشت گردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے، مسلح گروپ اورریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کو فوری سزا دینے کیلئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان عدالتوں کو دہشت گردوں کو10 سے 20روز میں کیفر کردارتک پہنچانا چاہیے اور پھانسی دینی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ مل کر آئین میں ترمیم کی ہے جن لوگوں نے ترمیم کے حق میں ووٹ دئیے ہیں اور جنہوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ہم ان سب کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کے گلے کاٹنے ، فرقہ پرستی کی سیاست کرنے اور ایک دوسرے کو مارنے والوں پر رحم نہیں ہونا چاہیے ۔ ہم نے مسمم ارادہ کرلیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آخری حد تک جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے 1991ء میں لاہور اسلام آباد اور پشاور تک موٹروے کی بنیاد رکھی تھی۔اب ہم کراچی سے لاہور تک موٹروے کا منصوبہ شروع کررہے ہیں جس کی بنیاد جلد رکھی جائے گی۔ میری خواہش ہے کہ یہ منصوبہ تین سال میں مکمل ہو۔ انہوں نے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت بجلی کے کارخانے لگائے جائیں گے اور خنجراب سے گوادر تک ہائی وے بنائی جائے گی جس کی تعمیر شروع ہوچکی ہے۔ گوادر کو بین الاقوامی طرز کی بندر گاہ بنارہے ہیں۔ گوادر میں ہوائی اڈابھی تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گیس کے بحران پر قابو پانے کیلئے نوابشاہ تک گیس پائپ لائن بچھانے کا ٹینڈر جاری کردیا گیا ہے، بجلی بحران پر ہم اپنے دورہ حکومت میں ہی قابو پالیں گے۔

مانامہ(آن لائن)بحرین نے پاکستان سے زیادہ سے زیادہ پیشہ ور افراد اور لیبر بلانے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کا یقین دلایا ہے جبکہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ خطے سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کی لعنت کے خاتمے کیلئے دونوں ملکوں کا دفاعی تعاون ناگزیر ہے۔وزیراعظم پاکستان سے بحرین کے وزیرمحنت جمیل بن محمد علی حمیدان،وزیرتوانائی ڈاکٹر عبدالحسین بن علی مرزا اور کمانڈنٹ نیشنل گارڈ لیفٹیننٹ جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ نے الگ الگ ملاقات کی اوران سے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ بحرین پاکستانیوں کا پسندیدہ مقام ہے اور یہاں ایک لاکھ پاکستانیوں کی موجودگی دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کا ثبوت ہے۔پاکستان کو مزید افرادی قوت فراہم کرکے خوشی ہوگی۔بحرین کے وزیر محنت نے یقین دلایا کہ پاکستانیوں کی ہائرنگ میں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔وزیرتوانائی سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ جلد از جلد پاکستان انرجی فنڈ قائم کیا جائے،جس سے ملک میں توانائی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان کا ایک اور وفد جلد بحرین کا دورہ کرے گا۔وزیراعظم نے مقامی وزیرکو وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ملاقات میں مقامی کمپنی نوغہ ہولڈنگ کے چیف ایگزیکٹو محمد الخلیفہ بھی موجود تھے،یہ تیل اور گیس کے شعبے کی اہم کمپنی ہے۔بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔اس ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس شےئرنگ اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔کمانڈنٹ نے بتایا کہ بحرین کے تمام اہم عہدوں پر فائز فوجی افسران پاکستان کے فوجی اداروں سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں،بہت سے پاکستانی بھی بحرین کی نیشنل گارڈز میں اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم کو بھرپور دفاعی تعاون کا یقین دلایا۔

مزید : صفحہ اول


loading...