انسداد دہشتگردی اقدامات کیلئے بھارتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، پاکستان

انسداد دہشتگردی اقدامات کیلئے بھارتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، پاکستان

  



اسلام آباد(اے این این) پاکستان نے کنٹرول لائن پر فائرنگ سے متعلق بھارتی الزامات باضابطہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق اقدامات پر ہمیں بھارت سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں،پاکستان دہشتگردی کے خلاف اہم آپریشن میں مصروف ہے اس صورتحال میں کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ برداشت نہیں کر سکتے،پاکستان کی کوئی کشتی لا پتہ نہیں،کشتی کہانی پر بھارت میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں،جان کیری کے دورے سے پاک امریکہ اسٹریٹجک مذاکرات کا آغاز ہو گا۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان کی کوئی بھی کشتی لاپتہ نہیں،بھارت کے پاس کشتی واقعے کے ٹھوس ثبوت نہیں، اس سلسلے میں خود بھارت میں بھی سوال اٹھ رہے ہیں، نہ ہی بھارت نے پاکستان اس بارے میں مروجہ سفارتی طریقے سے آگاہ کیا ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا، پاکستان کی تمام تر توجہ ملک میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب پر مرکوز ہے،اس صورتحال میں ہم سرحدوں پر کسی بھی قسم کی کشیدگی کے متحمل نہیں ہوسکتے،پاکستان دہشتگردی کے خلاف اہم آپریشن میں مصروف ہے اور وہ کنٹرول لائن اورورکنگ باونڈری پرجارحیت برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا بے بنیاد ہے۔ بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر معصوم شہریوں کو قتل کررہا ہے، اس صورت حال میں ہمیں دہشتگردی کے خلاف اپنے اقدامات پر بھارتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پیرس میں میگزین کے دفترپرحملے کی مذمت کرتے ہیں لیکن توہین رسالت ﷺپرپاکستان کا موقف بہت واضح ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے مذاہب اور عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔ پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا نے اس واقعے پر شدید موقف اختیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پیش کی تھی جسے اتفاق رائے سے منظوری کیا گیا۔تسنیم اسلم نے کہا کہ باہمی احترام اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے جذبات اور احساسات کا احترام ضروری ہے۔بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے مذاکرات کو فروغ دینے کے علاوہ اسلام کے خلاف منفی تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے دورہ پاکستان کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی، جان کیری کے دورے کے دوران پاک امریکا اسٹریٹجک ڈائیلاگ پر بات ہوگی۔

مزید : صفحہ اول


loading...