اوبامہ کے امیگریشن ایکشن کو ختم کرنے کیلئے نئی کانگریس کی کوششوں کا آغاز

اوبامہ کے امیگریشن ایکشن کو ختم کرنے کیلئے نئی کانگریس کی کوششوں کا آغاز

  



واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)توقع کے عین مطابق ری پبلکن پارٹی کی اکثریت والی کانگریس جس کے ایوان نمائندگان نے 3جنوری کو اپنا کام سنبھالا ہے ۔فوری طور پر صدراوبامہ کے امیگریشن ایکشن کو ختم کرنے کے لئے اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس ایوان کا پہلا باقاعدہ اجلاس 6جنوری کو ہوا جس میں ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سپیکر جان بوہنرکودوبارہ سپیکر منتخب کر لیا گیا ۔ پارٹی کے 25 ارکان نے انہیں ووٹ نہیں دیا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے خلاف ووٹ دینے کو سزا نہ دینے کااعلان کیا۔ ایوان میں پہلے بھی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت تھی جو اب 234سے بڑھ کر 246ہوگئی ہے۔ جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی قوت 201 سے کم ہو کر 188پر آگئی ہے۔اسی طرح 435ارکان پر مشتمل ایوان میں اپنی مرضی سے قانون سازی کے لئے ری پبلکن پارٹی کی پوزیشن مزید بہتر ہوگئی ہے۔

سب سے پہلے ایوان میں مارتھا روبی نے ایک بل فائل کیا جس کے بعد رابرٹ ایڈرہولٹ نے دوسرا بل فائل کیا۔ بل فائل کرنے والے دونوں ارکان کا تعلق البامہ کی ریاست سے ہے جن کی تفصیلات کو چھوڑ کر بنیادی مقصد ایک ہے اور وہ ہے صدر اوبامہ کی طرف سے گزشتہ برس 20اور 21نومبر کو امیگریشن ریفارم کے لئے انتظامی ایکشن کو ختم کرنا۔پہلے عام معافی کے خاتمے کے بل کے ذریعے صدراوبامہ کے یک طرفہ اقدام کو ختم کرنے اور دوسرے کے ذریعے لاکھوں غیر قانونی افراد کو قانونی حیثیت دینے کے صدارتی ایکشن کی تنسیخ تجویز کی گئی ہے۔ دوسرے بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ امیگریشن کی کارروائی کے لئے صدر کو فنڈ فراہم کرنے پر پابندی لگا دی جائے اورصدر کو ورک پرمٹ،سوشل سکیورٹی اوردوسرے وفاقی فوائد فراہم کرنے سے روک دیا جائے۔ ان بلوں پر بحث کاآغاز ہوگیاہے۔ آئندہ چند دنوں میں پتہ چل جائے گا کہ ایوان ان بلوں کو اسی شکل میں منظور کر تاہے یا اس میں صدر کے لئے کچھ لچک پیدا کرتاہے۔اگر مفاہمت نہ ہوئی اور سخت بل منظور ہو گیا تو صدر اوبامہ اسے ویٹو بھی کر سکتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...