1992 اور 2015 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں ناقابل یقین مماثلث، پاکستان کیلئے امکانات روشن

1992 اور 2015 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں ناقابل یقین مماثلث، پاکستان کیلئے امکانات روشن
1992 اور 2015 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں ناقابل یقین مماثلث، پاکستان کیلئے امکانات روشن

  



کرکٹ ورلڈ کپ 1992 پاکستانیوں کیلئے شاید صرف اس لئے اہم ہو کہ یہ وہ واحد ورلڈ کپ تھا جوپاکستانی ٹیم جیتنے میں کامیاب ہوئی مگر یہ ورلڈکپ باقی دنیا کیلئے کئی اور لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے مثلاً آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا ورلڈ کپ تھا۔ 1992 کے اس اہم ایونٹ میں ہی پہلی بار سفید گیند کا استعمال کرنے کے علاوہ باؤلر کے پیچھے دکھائی دینے والی کالی سکرین بھی استعمال میں لائی گئی۔ اس کے علاوہ یہ 1992 کا ہی ورلڈ کپ تھا جس میں کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار رنگین شرٹس کا استعمال عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ سب وہ عوامل تھے جنہوں نے 1992 سے پہلے اور بعد کی کرکٹ میں ایک واضح لکیر کھینچ دی تھی اور دنیا آج بھی اس ورلڈ کپ کو ایک خصوصی حیثیت دیتی ہے۔

رواں سال فروری کے مہینے کے دوران ایک بار پھر دنیا کی بارہ بہترین ٹیمیں آپس میں اس امید پر ٹکرائیں گی کہ یہ ورلڈ کپ ان کی ہی ٹیم جیتے گی مگر ’دنیا کی تاریخ اپنے آ پ کو دہراتی ہے‘ کے اصول کے مطابق 1992 کے ورلڈ کپ کی طرح 2015 کا کرکٹ ورلڈ کپ بھی پاکستان کو ہی جیتنا چاہئے۔ اوراس حقیقت کو وقت سے پہلے تسلیم کرنے کیلئے 1992 اور 2015 میں منعقد ہونے والے ایونٹس سے متعلق کئی باتیں موجود ہیں۔ ایک اچھے پاکستانی کی طرح میرا خیال ہے کہ یہ ورلڈ کپ بلا شبہ پاکستان ہی جیتنے والاہے کیونکہ

1۔ 1992 کے ورلڈ کپ کی طرح 2015کا ورلڈ کپ بھی نیوزی لینڈ اور آسٹریلیاکی سرزمین پر ہی کھیلا جائے گا۔ 1992 کے بعد یہ دوسرا موقع ہو گا کہ دنیا بھر کی ٹیمیں انہی میدانوں میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔

2۔ ورلڈ کپ 1992 کی طرح ورلڈ کپ 2015 کا آغاز بھی ماہ فروری میں ہی ہونے جا رہا ہے۔

3۔ جب پاکستان کو ورلڈ کپ 1992میں کامیابی حاصل ہوئی تو اس وقت ملک کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ہی تھے

4۔ میاں محمد نوا شریف جو 1992 کے ورلڈ کپ کے وقت اپنی پہلی مدت اقتدارکا دوسرا سال گزار رہے تھے آج2015 میں بھی نواز شریف اپنی تیسری مدت اقتدار کا دوسرا سال ہی گزار رہے ہیں۔

5۔ 1992 کے ورلڈ کپ کے دوران پاکستانی ٹیم عمران خان کی قیادت میں کھیل رہی تھی اور 2015 میں ٹیم کی قیادت مصباح الحق کر رہے ہیں مگر حسن اتفاق دیکھئے کہ ان دونوں کپتانوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر ’میانوالی ‘ سے ہے۔

6۔ 1992میں قیادت کرنے والے عمران خان کی طرح مصباح الحق بھی ’نیازی‘ خاندان سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔

7۔ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے عمران خان کی عمر 1992کے ورلڈ کپ کے وقت 40برس تھی اور موجودہ کپتان مصباح الحق کی عمر بھی 40برس ہی ہے۔

8۔ ٹیموں کیلئے ورلڈ کپ 2015 کے دوران استعمال ہونے والی شرٹس کیلئے بھی انہی رنگوں کا انتخاب کیا گیا ہے ورلڈ کپ 1992 کے دوران تھا۔

9۔ 2015 میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ میں شرٹس پر بائیں طرف عین دل کے اوپر 1992 میں کھیلے جانے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے مونو گرام (Logo) کو بھی قائم رکھا گیا ہے۔

10۔ ورلڈ کپ 1992 کی طرح ورلڈ کپ 2015 کا پہلا سیمی فائنل بھی ایڈن پارک سٹیڈیم نیوزی لینڈ میں ہی کھیلا جا رہا ہے۔

11۔ اسی طرح 1992 کی طرح اس ورلڈ کپ میں بھی دوسرا سیمی فائنل آسٹریلیا کے سڈنی سٹیڈیم میں میں کھیلا جائے گا۔

12۔ ورلڈ کپ 2015کا فائنل میچ بھی 1992 کی طرح آسٹریلیا کے تاریخی میلبورن سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

13۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے ورلڈ کپ 2015 کیلئے جس 15 رکنی ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے وہ بھی ورلڈ کپ 1992 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ٹیم کی طرح ’ناتجربہ کار‘ کہلائی جا سکتی ہے کیونکہ اس بار بھی سکواڈ میں شامل 8نواجوان کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار کسی بھی کرکٹ ورلڈ کپ میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔

14۔ 1992 کے ورلڈ کپ کیلئے قومی ٹیم میں جاوید میانداد ایک ایسے کھلاڑی تھے جو مسلسل پانچواں ورلڈ کپ کھیل رہے تھے اور اس بار شاہد آفریدی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مسلسل پانچواں ورلڈ کپ ہی کھیل رہے ہیں۔

15۔ اور1992 میں پانچویں بار ورلڈ کپ کھیلنے کا اعزاز حاصل کرنے والے جاوید میانداد کی طرح شاہد آفریدی بھی ورلڈ کپ 2015 میں قومی ٹیم میں نائب کپتان کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

ان تمام وجوہات کی موجودگی میں اس بات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ 2015 میں چیمپئن بن کر نہ ابھرے مگر پھر بھی جیسا کہ احمد فراز صاحب فرما گئے ہیں’ کہانیاں ہی سہی سب مغالطے ہی سہی ، اگر وہ خواب ہے تو تعبیر کر کے دیکھتے ہیں‘۔ مزید یہ بھی کہ ورلڈ کپ 1992 رمضان المبارک میں کھیلا گیا تھا اور اس دوران پاکستانی قوم کی بے شمار دعائیں بھی قومی ٹیم کے ساتھ تھیں اور ان دعاؤں کی ضرورت اس بار بھی ہو گی۔

مزید : بلاگ


loading...