’’ پنک سکوٹی‘‘:بچت ،کفایت ،سہولت اور آرام دہ سفر کا نیا تصور

’’ پنک سکوٹی‘‘:بچت ،کفایت ،سہولت اور آرام دہ سفر کا نیا تصور
’’ پنک سکوٹی‘‘:بچت ،کفایت ،سہولت اور آرام دہ سفر کا نیا تصور

  

پاکستان میں ’’ سکوٹر سوار خواتین‘‘ کا تصور نیا ضرور ہے، مگر وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ خواتین کے لئے ٹرانسپورٹ کے مسائل عرصہ دراز سے حل طلب رہے ہیں۔مختلف ادوار میں مختلف طریقہ کار اختیار کرکے خواتین کو ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی کاوش کی گئی، مگر خواتین کے مسائل میں خاطر خواہ کمی نہیں آسکی ۔ حکومت پنجاب نے لاہور شہر کے مختلف روٹس پر ایئر کنڈیشنڈ بسوں میں خواتین کے لئے الگ کمپارٹمنٹ بنوائے ،میٹروبس سروس میں خواتین کے لئے خاصا بڑا حصہ مخصوص کیاگیا، اس کے باوجود خواتین سفر کے لئے گھر سے نکلتے ہوئے ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہیں، کیونکہ عام پبلک ٹرانسپورٹ پر متعین عملہ ناخواندگی اور سماجی شعور نہ ہونے کے باعث خواتین کو وہ عزت و احترام دینے سے قاصر ہے، جس کا تقاضا دین اسلام اور ہمارا معاشرہ کرتا ہے ۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے سپیشل مانیٹرنگ یونٹ لاء اینڈ آرڈر کی اختراع پسند ٹیم نے روزانہ سفر کرنے والی خواتین، بالخصوص طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کے لئے ’’ ڈبلیو او ڈبلیو‘‘، یعنی ’’سکوٹر سوار خواتین ‘‘ کا تصور پیش کیا ہے، جس سے خواتین کی روزانہ آمد ورفت میں آسانی اور یقینی سہولت پیدا ہوگی، بلکہ دوران سفر پیش آنے والے ناپسندیدہ واقعات سے بچاؤ بھی ممکن ہو گا۔

سپیشل مانیٹرنگ یونٹ وزیراعلیٰ آفس (لاء اینڈ آرڈر)کے سربراہ اور مشیر وزیراعلیٰ سلمان صوفی نے محکمہ تعلقات عامہ آفس میں میڈیا بالخصوص لیڈی رپورٹرز کو ’’سکوٹر سوار خواتین‘‘کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہو ں نے بتایاکہ الحمراء ہال میں سیمینار کے دوران خواتین کو وومن آن ویلز پراجیکٹ کے حوالے سے آگاہی دی جائے گی ،جس کے بعد خواتین کی موٹر سائیکل ریلی بھی منعقد ہوگی، جس کے لئے 150 سے زائد خواتین رجسٹریشن حاصل کرچکی ہیں ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان خواتین کو ٹھوکر نیازبیگ آفس میں سٹی ٹریفک پولیس کے ذریعے خصوصی ٹریننگ دی جا چکی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف نے خواتین کی روزانہ آمد ورفت میں آسانی اور سہولت فراہم کرنے کے لئے ’’ سکوٹر سوار خواتین‘‘یعنی ’’ڈبلیو او ڈبلیو ‘‘ پراجیکٹ پروگرام کو شروع کرنے کا حکم دیاہے، جس کے تحت خواتین اور طالبات کو پنک کلر کی سکوٹیز فراہم کی جائیں گی ۔50 سی سی انجن سے چلنے والی سکوٹیز کو محفوظ، آسان اور آرام دہ سفر کے لئے خصوصی طور پر ڈیزائن کیاگیاہے، جسے طالبات بلاخوف و خطر ڈرائیو کرسکیں گی ۔ خواتین سواروں کی سہولت اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سکوٹیز کے ڈائزائن کو بہتر سے بہتر بنایاگیاہے ۔ سکوٹیز میں پٹرول یادیگر ایندھن سے چلنے والے انجن کی بجائے ریچارج ایبل بیٹریز نصب کی گئی ہیں، جنہیں چارج کرنا اتنا ہی آسان ہوگا ،جیسے ہم گھر میں موبائل چارج کرتے ہیں۔

ڈیز ل ،پٹرول یا کسی قسم کا اینڈھن استعمال نہ ہونے کی وجہ سے سکوٹیز کے استعمال سے نہ صرف خواتین پیسے بچا سکیں گی، بلکہ اس سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی ۔خواتین نہ صرف دفاتر، کالجوں و یونیورسٹیوں میں آمدورفت کے لئے سکوٹی استعمال کرسکیں گی، بلکہ نجی امور کے لئے بھی آمدورفت میں سہولت ہوگی ۔ لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے سکوٹی کا حجم اور وزن کم سے کم رکھاگیاہے تاکہ یہ چلانے والے کے لئے بھی آسان ہو اور ٹریفک کے ہجوم سے گزرنے میں بھی دشواری نہ ہو ۔ چین کی ایک کمپنی 50 سی سی سکوٹی تقریباً 80 ہزار روپے کی لاگت میں فراہم کرے گی ۔ابتدائی طور پر لاہور میں خواتین اور طالبات کو ایک ہزار سے زائد سکوٹیز فراہم کی جائیں گی ۔ بعدازاں اس سکیم کا دائرہ دیگر شہروں تک پھیلا دیاجائے گا ۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر خواتین کو سکوٹیز فراہم کرنے سے پہلے خصوصی ٹریننگ پروگرام کا اہتمام کیاگیاہے او رشہر بھر میں سکوٹی سوار خوتین کی سیکیورٹی کا خصوصی اہتمام کیا گیا جائے گا ۔ طالبات کے لئے ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کے باوجود سکوٹی چلانے کی خصوصی رعایت کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے ۔

مزید :

کالم -