نواز شریف کی امن کے لئے کامیاب حکمت عملی

نواز شریف کی امن کے لئے کامیاب حکمت عملی
نواز شریف کی امن کے لئے کامیاب حکمت عملی

  

پندرہ سو سال پہلے مسلمانوں نے اسلام کے ثمرات کو دُنیائے عرب سے پھیلا کر تمام انسانیت میں پہنچایا، تو برصغیر بھی اس سے مستفید ہوا اور محمدبن قاسم نے سندھ کے عوام کو راجہ داھر کے ظلموں سے نجات دلائی اور گیارہ سو سال پہلے مسلمان بادشاہوں نے پورے ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ ہندوؤں کے سماج میں انسانوں کی درجہ بندی موجود تھی، جن میں برہمن، شودر موجود تھے اور اِس درجہ بندی کی وجہ سے اسلام کی انسانیت کی برابری کی تعلیم نے جلد اسلام کو پورے برصغیر میں پھیلا دیا۔ ہندوستان کی اونچی برادری اپنی حکمرانی کے کھو جانے کی سبکی کو کبھی نہیں بھلا سکی، نہ بھلا سکے گی اور جیسے ہی انگریزوں کا سہارا ملا وہ ہندوستان کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن قائداعظم محمد علی جناحؒ کی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا اور مسلمانوں کی بڑی تعداد ہندوؤں کے انتقام کی زد میں آنے سے بچ گئی، لیکن ہندوؤں نے سازش کے ذریعے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کر دیا اور کشمیری مسلمان مسلسل ہندوؤں کے ظلم و بربریت کو برداشت کر رہے ہیں۔ ہندوؤں نے مغربی پاکستان کو غصب کرنے کی کوششیں جاری رکھیں، لیکن نواز شریف نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دوسرے دورِ اقتدار میں ایٹمی دھماکے کر کے ہندوستان کو ڈیفنسو ہونے پر مجبور کر دیا اور خطہ برصغیر میں امن کی ضمانت مہیا کر دی۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں معاشی ترقی کے لئے عارضی اقدامات کر کے بینکوں سے قرضہ دِلا کر پہلے سے مقروض عوام کو کاروں میں بٹھا دیا۔ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں کچھ سیاسی فیصلے اچھے ہوئے، لیکن پوری قوم کرپشن میں جکڑی گئی اور مُلک کا معاشی نظام بُری طرح کمزور ہوا۔ دہشت گردی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ کراچی، بلوچستان، پشاور میں ہزاروں لوگ دہشت گردی کا شکار ہوئے، معاشی اور دہشت گردی کے ستائے ہوئے عوام نے مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کا موقعہ دیا تو میاں محمد نواز شریف کے اقتدار میں آتے ہی ایک سال تک عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ٹف ٹائم دیا اور نواز شریف اپنے کسی ترقی کے ایجنڈے کو آگے نہ بڑھا سکے، لیکن میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے انتھک محنت کے بعد کامیابیاں حاصل کرنی شروع کر دی، جس کی واضح مثال کراچی میں امن کی صورت حال کا بہتر ہونا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند قومی دھارے میں شامل ہوئے، آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے دہشت گرد پسپائی پر مجبور ہوئے اور پورے مُلک میں دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی ہوئی اور بلوچستان 11سال بعد یوم آزادی کی کئی تقریبات منعقد ہوئیں۔ نواز شریف نے کامیاب بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ہندوستان کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ پاکستان اور مسلمانوں کا دشمن نریندر مودی پاکستان کا دورہ کرنے پر مجبور ہوا، جس سے امن کی راہیں کھلنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ نواز حکومت کی کامیاب سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پہلی بار بھارت میں پٹھان کوٹ پر دہشت گردی کے حملے کا سرکاری طور پر پاکستان کو ذمہ دار قرار نہ دیا گیا اور مذاکرات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔اس تمام سیاسی کامیابی کا راز تو وزیراعظم پاکستان نواز شریف بہتر طور پر جانتے ہوں گے، پاکستان اور بھارت کے حکمران جانتے ہیں کہ خطے کا امن معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

مزید :

کالم -