بظاہر معصوم سی نظر آنے والی یہ بنگلہ دیشی لڑکی دراصل کون ہے، حقیقت جان کر دنیا بھر کے سکیورٹی اداروں کے ہوش اُڑگئے

بظاہر معصوم سی نظر آنے والی یہ بنگلہ دیشی لڑکی دراصل کون ہے، حقیقت جان کر ...
بظاہر معصوم سی نظر آنے والی یہ بنگلہ دیشی لڑکی دراصل کون ہے، حقیقت جان کر دنیا بھر کے سکیورٹی اداروں کے ہوش اُڑگئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن (نیوز ڈیسک) شام و عراق میں برسر پیکار شدت پسند تنظیم داعش کے مغربی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ایک ایسا راز ہے جو بڑی حد تک دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ اس تنظیم میں نہ صرف مغربی ممالک کے نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے بلکہ ان کی دلہنیں بننے کی خواہشمند نو عمر لڑکیوں کی بڑی تعداد بھی انہی ممالک سے آتی ہے۔ ایک ایسی ہی مثال بنگلہ دیشی نژادبرطانوی لڑکی جویا چوہدری ہے، جو سات جنگجو پیدا کرنے کا عزم لے کر شام پہنچی، اور بالآخر داعش کے ایک سرکردہ کمانڈر کی دلہن قرار پائی۔
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہری جان جارجلاس نے برطانوی لڑکی جویا چوہدری سے 2004ءمیں راچڈیل کے علاقے میں شادی کی۔ دونوں کی ملاقات انٹرنیٹ کے ذریعے ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جان نوعمری میں شدت پسندی کی طرف مائل ہو چکا تھا اور اسی نے جویا کو قائل کیا کہ وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ شام کا رخ کرے، جبکہ اس وقت وہ اپنے چوتھے بچے کے ساتھ حاملہ تھی۔

’اس میں 1000 مردوں جتنی طاقت ہے‘ حلب کے لوگ اس مقامی لڑکی کے بارے میں یہ جملہ کیوں کہتے ہیں؟ جان کر آپ بھی اس کی ہمت اور جذبے کی داد دیں گے
تینتیس سالہ جان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ امریکی ایئرفورس میں ڈاکٹر کے فرائض سرانجام دینے والے سینئیر افسر ٹمیتھی جارجلاس کا بیٹا ہے جبکہ اس کے دادا نے بھی دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی فوج میں فرائض سرانجام دئیے تھے۔ جب 1980ءکی دہائی میں اس کے والد برطانوی شہر کیمبرج میں تعینات تھے تو وہ بھی یہیں مقیم ہونے کے لئے آگیا۔ بعد ازاں اس کی ملاقات کچھ مسلمان نوجوانوں سے ہوئی جن کے زیر اثر اس نے اسلام قبول کیا۔ برطانیہ میں ہی اس کی ملاقات 19 سالہ جویا چوہدری سے ہوئی اور 2004ءمیں دونوں نے شادی کر لی۔
جویا اور جان کی محبت اس قدر بڑھی کہ جویا نے عزم کر لیا کہ وہ جان کے ساتھ مل کر سات جنگجو پید اکرے گی تاہم شام پہنچنے کے ایک ماہ بعد ہی وہ بیمار ہوگئی اور اس نے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ وہ 2013ءمیں شام سے فرار ہوئی اور ایک سال بعد جان سے بھی اس کا دل اکتا گیا اور اسے طلاق دے دی۔
اب جویا نے ایک بار پھر مغربی طرز زندگی اور آزاد خیالی کا علم اٹھالیا ہے اور خود کو بائیں بازو کی آزادی پسند سماجی کارکن قرار دے ڈالا ہے۔ اس کے والدین کا تعلق ابتدائی طور پر بنگلہ دیش سے ہے، اور انہوں نے جان سے شادی کا پتا چلنے پر اسے گھر سے بے دخل کردیا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -