وائس چانسلر کو استعفا کیوں دینا پڑا؟

وائس چانسلر کو استعفا کیوں دینا پڑا؟
 وائس چانسلر کو استعفا کیوں دینا پڑا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پنجاب یونیورسٹی گراؤنڈ سے ملحق ایک ٹیوب ویل تھا۔پتہ نہیں اب ہے یا نہیں۔ پاکستان بننے کے بعد مزنگ کے ایک صاحب ملک جہانگیر بلوچ اس ٹیوب ویل کے آپریٹر تھے۔ملک جہانگیر کو پہلوانی کا شوق تھا۔ ٹیوب ویل کے احاطے میں انہوں نے ایک اکھاڑا بنا لیا۔

صبح صبح مزنگ کے نوجوانوں کا ایک گروہ اس اکھاڑے میں زور کرتااور نہا دھو کر نماز ادا کرتا۔کچھ دنوں بعد انہوں نے وہاں نماز کے لئے ایک احاطہ بنا لیا۔کئی برسوں بعدلوگوں کو خیال آیا کہ کیوں نا یہاں ایک مسجد کی بنیاد رکھی جائے۔

خیال کو عملی شکل دینے کے لئے جدوجہد شروع ہو گئی۔ چندہ اکٹھا ہونا شروع ہوا اور تھوڑے دنوں میں ایک چھوٹی سی مسجد تیار تھی ۔عرصے تک لوگ وہاں خود ہی امامت کراتے رہے اور نماز پڑھتے رہے۔ پھر ایک امام صاحب آ گئے اور توسیع کا عمل شروع ہو گیا۔

یہ مسجد آج کل مولانا فضل الرحمان گروپ کے پاس ہے۔مزے کی بات کہ یہ ساری زمین ،جس پر یونیورسٹی گراؤنڈ اور ہیلی کالج آف کامرس ہیں اور جس کا ایک بڑا حصہ سڑکوں کی نذر ہو چکا، سر گنگا رام نے اپنے وقت میں پنجاب یونیورسٹی کو عطیہ کی تھی۔


ایک زمانہ تھا کہ لوئر مال روڈ کی چوڑائی بہت کم تھی۔ یونیورسٹی گراؤنڈ کے جنگلے کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا نالہ تھا ، چند جگہ نالے پر پل نما سلیب ڈالی ہوئی تھیں۔لوگ کسی سلیب سے نالہ عبور کرتے ۔ ایک دو چھوٹے چھوٹے گیٹ تھے۔

وہ کھلے ہوتے تو ٹھیک ورنہ جنگلہ پھلانگ کر گراؤنڈ میں آ جاتے۔ ریواز گارڈن کی تعمیر کے ساتھ ساتھ لوئر مال روڈ کی بھی توسیع ہوئی ۔ یہ توسیع ہر دو چار سال بعد مزید ہوتی رہی اور ہر توسیع کا ملبہ یونیورسٹی گراؤنڈ پر گرتا رہا۔

گراؤنڈ اس طرف سے چھوٹی ہوتی رہی۔ لیک روڈ کی توسیع نے بھی یونیورسٹی ہی کی زمین کو کم کیا۔ ہیلی کالج والی روڈ نے بھی اپنی توسیع کے لئے یونیورسٹی کی گراؤنڈ ہی کو استعمال کیا۔ بچپن میں ہم نے جو ایک زبردست گراؤنڈ دیکھی تھی، جہاں بڑے بڑے میچ ہوتے تھے ، جو عملاً ایک چھوٹا سٹیڈیم تھی، تینوں طرف کی سڑکوں کی توسیع کے سبب اب سمٹ کر ننھی منی گراؤنڈ رہ گئی ہے ۔ حال ہی میں اورنج ٹرین نے بھی اس کا کچھ ررقبہ حاصل کیا ہے۔

اندھی لوٹ مار ہو اور مولانا فضل الرحمان کو حصہ نہ ملے تو وہ حکمرانوں کو پریشان کرنے کا فن جانتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اس مسجد کی توسیع کے لئے دو کنال زمین مانگ لی ہے۔ حکومت مجبور ہے وہ مولانا کو ناراض نہیں کر سکتی۔

مگر ظفر معین ڈٹ گئے ۔شنید ہے کہ اس زمین کو دینے سے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب ظفر معین ناصر نے انکار کیا اور غیر ضروری دباؤ میں آنے کی بجائے اپنے عہدے کو ٹھوکر مارنا زیادہ مناسب جانا اورمستعفی ہو گئے۔


جناب ظفر معین ناصر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلرکے انتخاب کے لئے امیدواروں میں میرٹ پر پہلے نمبر پر تھے ،اس لئے لاہور ہائی کورٹ نے آ پ کو اپنے حکم میں نامزد کیا تھا۔پنجاب یونیورسٹی کوئی عام اور چھوٹی سی یونیورسٹی نہیں ۔

ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ایک ایسا شخص جو کبھی اس ادارے میں نہیں رہا۔ جو اس کلچر سے واقف نہیں تھا۔ مگر اس کا بڑی خوبی سے اس ادارے کو چلانایقیناً قابل ستائش ہے۔ ڈاکٹر ظفر نے اس ادارے میں موجود درجنوں مافیاز کا مقابلہ کیا اور یونیورسٹی کی فلاح کے لئے جو ہو سکتا تھا کیا۔

یہ سب کسی عام آدمی کا کام نہیں تھا۔یہ کوئی اہل آدمی ہی کر سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ زمین ایک فیکٹر ضرور ہو گا۔ مگر استعفے کا سبب یہ نہیں۔ اصل وجہ حکومتی رویہ ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ظفر معین سمیت چار لوگوں کی تعیناتی بطور وائس چانسلرمستقل بنیادوں پر کی تھی۔

حکومت نے کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔ کچھ لوگ مستقل ہو گئے اور کچھ کو آزمائش میں ڈال دیا گیا۔ ڈاکٹر ظفر معین ناصر شروع دن ہی سے حکومت کی پسندیدہ شخصیت نہیں تھے۔

یونیورسٹیاں آزاد ادارے ہیں اور ان کی کوشش تھی کہ اپنی یونیورسٹی کو آزادی سے چلائیں۔ جو حکومت کو منظور نہیں تھا۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب پر مالی اور انتظامی کرپشن کے الزاماٹ لگائے گئے۔حالانکہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے وقت میں مالی معاملات کو بہت کم چھیڑا۔تا حیات پروفیسرز کا معاوضے کاکیس ابھی تک لٹک رہا ہے۔

جز وقتی اساتذہ جن میں پڑھانے کا معاوضہ بہت کم ہونے کی وجہ سے خاصی بے چینی پائی جاتی ہے ان کا مسئلہ بھی حل طلب ہے۔انتظامی معاملات میں ڈاکٹر معین کی کوئی سابق واقفیت نہ تھی۔ جو لوگ اور جو حالات انہیں ملے ان سے بہترین کا انتخاب کیا گیا۔لیکن جب زیادہ لوگ ہی اﷲ کی پناہ ہوں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔

حکومت نے ہائر ایجوکیشن کے نام پر ایک نابالغ شخص کو اس محکمے کا وزیر لگا دیا ہے۔ وہ شخص دھونس اور دھاندلی کا قائل ہے۔ وائس چانسلر کی موجودگی میں اس سے اجازت لئے بغیر سٹاف کے کچھ لوگوں کی میٹنگ بلا لینا یا ان مخالفوں کی میٹنگ میں شرکت کرنااور ان کو وائس چانسلر کے خلاف بھڑکانا، ان سے وائس چانسلر کے خلاف غلط درخواستیں دلوانا ۔

ان کی مدد سے سرکش وائس چانسلرز کو سبق سکھانے کی کوشش کرنا، کہاں کا انصاف ہے۔ ہمیشہ سے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا درجہ گورنر کے فوری بعد رہا ہے۔ ہر حلقے میں اسے انتہائی احترام دیا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں، ایک طفل مکتب جو حادثاتی طور پر وزیر ہو جائے ، کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹرظفر معین ناصر کے استعفے کی اصل وجہ حکومتی غیر ضروری مداخلت ،اس کے وزرا کا غیر اخلاقی رویہ، میرٹ سے ہٹ کر ہدایت کردہ سیاسی بھرتیوں سے انکاراور سرکار کے غیر قانونی احکامات سے سرکشی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر ظفر معین ناصر شاباش کے قابل ہیں کہ انہوں نے جھکنا قبول کرنے کی بجائے ایک اعلیٰ عہدہ ٹھکرا دیا۔

کوئی سودے بازی نہیں کی۔ امید ہے پنجاب کی بہت سی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر جو حکومتی رویے سے نالاں ہیں۔ڈاکٹر ظفر معین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یونیورسٹیوں کی آزادی کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -