وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد

  

بلوچستان اسمبلی میں وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد آج پیش کی جا رہی ہے، وزیر اعلیٰ نے اپنی جماعت (مسلم لیگ ن) کے صدر میاں نوازشریف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے سیاسی مدد طلب کی ہے اور خود بھی روابط کر رہے ہیں دوسری جانب تحریکِ عدم اعتماد کے محرکین اور ان کے حامی بھی پوری طرح سرگرم ہیں۔ استقبالیہ دعوتوں میں ارکانِ اسمبلی کی شرکت ’’شو‘‘ کرکے یہ تاثر بھی پختہ کرنے کی کوشش جاری ہے کہ تحریک کامیاب ہو جائے گی۔ فریقین کے دعوے اپنی جگہ لیکن بلوچستان کی پیچیدہ سیاست میں تحریک عدم اعتماد کا اونٹ کس جانب بیٹھے گا قبل از وقت کوئی پیش گوئی کرنا مشکل ہے کیونکہ صوبے میں بہت سے سیاسی اور غیر سیاسی عوامل ایسے ہیں جو صورتِ حال پر اثر انداز ہو رہے ہیں وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایک سے زیادہ بار یہ بات کہی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا مقصد سینٹ کے انتخابات کو روکنا ہے جو مارچ میں طے شدہ ہیں۔ ایسی ہی بات نواز شریف نے بھی کہی ہے۔

بلوچستان ایک حساس صوبہ ہے پورے ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں بڑی حد تک کم ہوگئی ہیں لیکن بلوچستان میں حالات ابھی تک معمول کے مطابق نہیں ہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ سی پیک کی زیادہ تر اقتصادی اور تعمیراتی سرگرمیاں اسی صوبے کو محیط ہیں اور یہاں مخالفین زیادہ سرگرمی دکھا رہے ہیںیہاں کی سیاست ایسی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل نہیں ہے۔ البتہ مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت ہے جس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی ہے بلوچ نیشنل پارٹی کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ڈھائی سال کے لئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا، جنہوں نے اپنی مدت پوری ہونے کے بعد استعفا دے دیا جس کے بعد نواب ثناء اللہ زہری کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا، اب سیاسی اخلاقیات کے تحت ضروری تھا کہ نواب زہری کو بھی اپنی مدت پوری کرنے دی جاتی لیکن ان کے خلاف وزیر داخلہ سرفراز بگتی متحرک ہو گئے انہوں نے استعفا دیا تو وزیر اعلیٰ نے انہیں بر طرف کر دیا۔ بہر حال انہوں نے وزیر اعلیٰ کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور بہت سے دوسرے ارکان کو ساتھ ملاکر جن میں مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دوسری جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے سرگرم عمل ہیں، دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ تحریک عدمِ اعتماد کی حمایت میں 40ووٹ آجائیں گے جبکہ کامیابی کے لئے 33ووٹوں کی حمایت ضروری ہے۔

ان اعدادوشمار کی روشنی میں وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ تحریک ضرور کامیاب ہوجائیگی کیونکہ آخری وقت پر پانسہ پلٹ سکتا ہے اور جو لوگ اس وقت بظاہر تحریک کے حامی نظر آتے ہیں مُمکن ہے وہ خاموشی سے اپنی رائے بدل لیں اور وزیر اعلیٰ کی حمایت کردیں یوں پس پردہ ایسی کوششیں جاری ہیں اور اس قسم کی صورتِ حال لمحہ لمحہ بدلتی رہتی ہے، ایسے میں ارکان اصول پسندی سے زیادہ اپنے اپنے مخصوص مفادات کو ہی پیشِ نظر رکھتے ہیں اس لئے اگر وہ آخری وقت پر اپنی رائے بدل لیتے ہیں تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ ویسے بھی جن لوگوں نے تحریک عدمِ اعتماد پیش کی اُن کے پیشِ نظر کوئی اعلیٰ جمہوری مقاصد نہیں تھے انہیں وزیر اعلیٰ سے ذاتی نوعیت کے اختلافات تھے یا اُن کے بعض مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ ناراض ہوگئے، یہ بھی ممکن ہے کہ اِن ارکان کو استعمال کرنے والے لوگ بھی پس منظر میں ڈوریاں ہلا رہے ہوں اور اگر احسن اقبال کا یہ خدشہ درست ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا مقصد سینیٹ کے الیکشن ملتوی کرانا ہے تو پھر کچھ بعید نہیں تحریک عدم اعتماد کے پس منظر میں ایسے مقاصد کار فرما ہوں جو سامنے نہیں ہیں اور جو کچھ نظر آرہا ہے وہ محض ’’سموک سکرین‘‘ ہو۔

وزیر اعلیٰ کے عہدے کی مُدّت پانچ ماہ سے کم باقی رہ گئی ہے اس لئے بظاہر یہ بات عجیب لگتی ہے کہ اس عرصے کے دوران سیاسی رواداری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے انتہائی اقدام کرلیا جائے کیونکہ اگر اب یہ تحریک کامیاب بھی ہوجائے تو بھی نیا وزیر اعلیٰ مسلم لیگ (ن) یا اس کی اتحادی جماعتوں میں سے ہی بن سکتا ہے اور وہ باقی ماندہ مدت کے لئے ہی بنے گا اِس لئے بہتر تھا کہ تحریک لانے والے تھوڑے عرصے کے لئے انتظار کرلیتے اب یہ ممکن ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتیں مل کر ایسی حکمتِ عملی اپنائیں جسے بروئے کار لاکر یہ تحریک ناکام بنائی جاسکے آج جب تحریک عدمِ اعتماد پیش ہوگی تو تیور واضح ہو جائیں گے، رائے شماری کی نوبت تو ایک دو دن بعد آئیگی۔

بلوچستان کی سیاست میں نوابوں اور سرداروں کے کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، یہی سردار اور نواب عام طور پر وزیر اعلیٰ بنتے رہے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ پہلے وزیر اعلیٰ تھے جن کا تعلق اس طبقے سے نہیں تھا اس کے باوجود صوبے کی سیاست میں استحکام پیدا نہیں ہوسکا اور ارکانِ اسمبلی زیادہ تر اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہی رہے ہیں غالباً ایسی ہی سیاست کا نتیجہ تھا کہ جب بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی مجموعی تعداد بائیس تھی تو پورے ہاؤس کو ہی وزیر بنا دیا گیا تھا یعنی صوبے کی اسمبلی ہی کابینہ بھی تھی پھر وزرا کے مطالبے پر انہیں نئی گاڑیاں لے کر دی گئیں ایسا اس لئے کیا گیا کہ جس رکن کو بھی ناراض کیا جاتا وہ حکومت مخالف رویہ اختیار کرلیتا، موجودہ تحریک عدمِ اعتماد میں بھی اگرچہ بظاہر ذاتی مفادات ہی نظر آتے ہیں لیکن میاں نواز شریف اور احسن اقبال اس کے پیچھے سینیٹ کے الیکشن ملتوی کرانے کی سازش دیکھ رہے ہیں اب آج کل میں معلوم ہو جائیگا کہ واقعی کوئی ایسی سازش ہے یا ارکانِ اسمبلی اپنے ذاتی مفادات کے لئے متحرک ہوئے ہیں اور ثناء اللہ زہری کو ہٹا کر کسی دوسرے کو وزیر اعلیٰ بنانا مقصود ہے۔

اس ساری سرگرمی سے یہ اندازہ بھی ہوجاتا ہے کہ حکومت اور اسمبلی کے ارکان نے صوبے کے نازک حالات سے آنکھیں بند کررکھی ہیں صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال خراب ہے اور حالیہ ہفتوں میں پولیس کے اعلیٰ افسروں کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا ہے، خرابی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ تیل کے سمگلروں نے ایف سی کے پانچ اہل کاروں پر تیز رفتار ٹرک چڑھا کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا، جب حکومت اور اپوزیشن کے ارکان سیاسی شطرنج کے مہروں کا کردار ادا کررہے ہوں گے تو صوبے کے حالات کی جانب کس کی نظر ہوگی ایسے میں امن و امان کی صورتِ حال کیسے ٹھیک ہوگی، بہتر یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر مصالحت کا راستہ اختیار کریں اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان اپنی جماعت میں خلفشار کا باعث نہ بنیں۔ اس طرح صوبے اور ملک کا مفاد خطرے میں پڑ جائیگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -