ایئرمارشل رٹائرڈ محمد اصغر خان صاحب

ایئرمارشل رٹائرڈ محمد اصغر خان صاحب
 ایئرمارشل رٹائرڈ محمد اصغر خان صاحب

  


تحریک استقلال کے، جسے تحریک انصاف میں ضم کردیا گیا تھا ، سربراہ اصغر خان 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ پاکستان ائیر فورس کے پہلے مسلمان سربراہ جنہوں نے ایئر فورس کو منظم کیا، پاکستان انٹر نیشل ائیر لائنز کے سربراہ ائیر مارشل رٹائرڈاصغر خان اپنی صلاحیتوں کے باوجود پاکستان کی سیاست میں مقام رکھنے کے باوجود اقتدار حاصل نہیں کر سکے۔ سیاست میں وہ اس وقت داخل ہوئے تھے جب ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو قید کیا تھا۔

وقت کی ضرورت تھی کہ ایوب خان کی اقتدار سے علیحدگی کے سلسلے میں رائے عامہ ان کی حکومت کے خلاف تھی اور وہ اپنی حکومت کے مخالف سیاست دانوں کے خلاف نبرد آزما تھے۔ ایسے وقت میں اصغر خان کی سیاست میں آمد ایوب مخالف عناصر کے لئے تقویت کا باعث بنی تھی۔

اصغر خان راست گو شخص تھے جن کی دیانت داری، فرائض کی ادائیگی میں سرگرمی اور جرأت اظہار کی خصوصیت نے انہیں سیاست دانوں کی صف میں نمایاں حیثیت عنایت کی تھی۔ انہوں نے جسٹس پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ بعد میں تحریک استقلال کے نام سے پارٹی کھڑی کی۔

1970 کے انتخابات کے بعداصغر خان سابق مشرقی پاکستا ن میں بھرپور اکثریت حاصل کرنے والی جماعت عوامی لیگ کو اقتدار دینے کے زبر دست حامی تھے، پاکستان میں اس وقت برسراقتدار فوجی حکمران جنرل یحی خان اور ان کے ساتھی اقتدار عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان کے سپرد کرنے پر آمادہ نہیں تھے، عوامی لیگ کے رد عمل اور فوج کی کارروائیوں کے نتیجہ میں خانہ جنگی ہوئی، بھارت نے پاکستان پر جنگ تھوپ دی اور پاکستان دو لخت ہوا، مغربی پاکستان کو پاکستان کی حیثیت حاصل ہوئی اور بھٹو مرحوم پاکستان کے اقتدار پر فائز ہوئے،اصغر خان بھٹو مرحوم کے آمرانہ انداز سیاست کی وجہ سے ان سے فاصلہ کر گئے تھے اور ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب پاکستان میں تحریک استقلال کا ڈنکا بجتا تھا۔

بعد میں قد آور بن جانے والے کئی سیاست دان تحریک استقلال کا حصہ تھے۔ میاں نواز شریف، چوہدری اعتزاز احسن، میاں محمود قصوری، خورشید محمود قصوری، اکبر خان بگٹی، اور دیگر درجنوں مرد اور خواتین تحریک استقلال کی صفوں میں شامل تھے۔

اصغر خان چوں کہ راست گو شخص تھے اور پاکستانی سیاست کے مکر و فریب سے فاصلہ رکھتے تھے ، اس لئے وہ 1977 کے انتخابات میں پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے کامیابی کے باوجود اقتدار کا حصہ نہیں بنے بلکہ قومی اتحاد سے علیحدہ ہوگئے۔

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف تھے ، اسی لئے جب پیپلز پارٹی سمیت ضیاء مخالف سیاسی جماعتوں نے تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی تشکیل دی تو وہ اس کا حصہ بنے۔

انتخابی سیاست میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرنے کی صورت میں انہوں نے ا پنی سرگرمیوں کو محدود کر لیا تھا اور لکھنے لکھانے پر زیادہ توجہ دے لگے تھے ۔

انہوں نے اپنی ایک کتاب ’’باتیں حاکم لوگوں کی ‘‘ میں حرف اول میں تحریر کیا ہے ’’ سیاست مشکل کام ہے ۔یہ مشغلہ ہمہ وقت توجہ مانگتا ہے ۔کبھی کبھی بارآور بھی ہوتا ہے مگر اکثر کارزیاں۔

تمام تر زیاں کاری اور ٹھوکروں کے باوجود یہ کام کناروں پر رہنے والوں کو بھی لبھاتا ہے۔ جو اس کی کشش کے باعث میدان میں اتر آتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ان کیلئے اس کی کشش رہ جاتی ہے اور اس کے تقاضے غالب آنے لگتے ہیں ۔

اور پھر سیاست زندگی کا اتنا اہم حصہ بن جاتی ہے کہ باقی کاروبار زندگی بھی اس کے تابع ہوجاتا ہے ۔اگریہ سیاست کسی اصول یا عقیدے پر مبنی ہو تو با مقصد اور سکون بخش بھی ہوتی ہے ‘‘۔

انہوں نے سیاست میں جنرلوں کے عمل دخل کے موضوع کے علاوہ دیگر کئی کتابیں تصنیف کیں۔ وہ اخبارات میں ملکی حالات پر سیاسی تجزیہ بھی تحریر کیا کرتے تھے ۔ بعض تجزیئے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔

’’ صدائے ہوش ‘‘ ان کی ایسی ہی ایک کتاب ہے جو 1985 میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعض اقتباسات ملاحظہ فر مائیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اصغر خان ملکی معاملات اور مسائل کے بارے میں کیا خیالات رکھتے تھے۔

: ’’ صدائے ہوش ‘‘ میں ’’ پاکستان کے اقتصادی مسائل اور ان کا حل ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’امریکہ اور مغربی ممالک پر مکمل انحصار کی وجہ سے حکومت کو عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے مشوروں کی مکمل پابندی کرنا پڑ رہی ہے اور پاکستان کی اندرون ملک پالیسیوں اور غیر ملکی وعدوں نے اسے مجبور کردیا ہے کہ وہ گندم ، کھاد اور دوسری اشیائے صرف پر امدادی رقوم خرچ کرنا بند کردے ۔

انہی اداروں کے دباؤ کے تحت روپے کا ڈالر سے تعلق قائم کیا گیا جو دراصل روپے کی قیمت میں کمی کا عمل تھا اور یہ کہ سرکاری شعبے کی صنعت میں سرمایہ کاری کرنے میں کمی کی گئی۔ یہ بیرونی ایجنسیاں اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کے حصول کے اقدامات کرتے وقت معاشرے کے غریب عوام کی مشکلات کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں اور ترقی کے مقاصد اپنے مفاد کے لئے تیار کرتی ہیں ‘‘۔

مضمون ’’ پاکستان معاشرے میں مزدور کا مقام ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ ایئر لائن (پی آئی اے) میں اپنے اڑھائی سالہ تجربے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ مزدوروں اور اسٹاف اراکین میں اپنی ذمہ داریوں کے متعلق ایک صحت مند رحجان موجود تھا ۔

اس دوران یہاں سولہ ٹریڈ یونینیں موجود تھیں ، جن میں سے اس دوران کسی نے بھی ہڑتال نہیں کی اور نہ ہی کوئی ایسا مسئلہ پیش آیا جو خوش اسلوبی سے حل نہ کیا جاسکا ہو ۔

ایئر لائن نے فضائی تحفظ کی شاندار روایات قائم کیں ۔ یہ فضائی بیڑہ اپنی پابندی وقت اور مستعدی کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ میرے آخری سال کے دوران اس ایئر لائن نے پانچ کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا جو ہماری ایئر لائن کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے ۔

حالانکہ اس کی کارکردگی میں سب سے بڑی رکاؤٹ خود حکومت تھی ۔ افسر شاہی کی مداخلت نے اس کی کارکردگی پر تباہ کن اثرات مرتب کئے ۔ اس عرصہ میں پی آئی اے نے جو کچھ کر دکھایا ، وہ نوکر شاہی کے ہتھکنڈوں ، غیر منطقی سوچ اور تنگ نظری کے باوجود تھا ۔ نوکر شاہی اکثر فیصلوں میں تاخیر کرنے اور ایئر لائن کے کام میں بے جا مداخلت اور رکاؤٹیں پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی رہی تھی ‘‘ ۔

’’ میں نے حکومت کو بارہا یاد کرایا اور 1968ء میں ، میں نے پی آئی اے کو خیر باد کہتے وقت صدر ایوب خان کو مشورہ دیا تھا کہ اگر ایئر لائن کو موثر طور پر چلانا ہے تو اس پر مسلط بیورو کریسی کے انتظام میں زبردست تبدیلیوں کی ضرورت ہے ، میں نے انہیں یہ بھی کہا کہ اڑھائی سال کے تجربے سے مجھے یہ تاثر ملا ہے کہ افسر شاہی کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ پی آئی اے کے چلانے میں طرح طرح کی رکاؤٹیں پیدا کی جائیں۔

یہ باور کرلینے میں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اس وقت کے بعد حالات میں کوئی تبدیلی یا بہتری پیدا ہوئی ہے ۔ درحقیقت ملک کا نظام اس بات کا عندیہ دے گا کہ کنٹرول اور سزائیں سخت تر ہیں اور ایئر لائن کی انتظامیہ کے لئے مسائل حل کرنے اور نظم و نسق چلانے کے مواقع پہلے سے بہت کم ہوگئے ہیں‘‘ ۔

مضمون ’’ پاک ا فغان تعلقات ‘‘ میں تحریر کیا ہے ’’ 1967 ء میں افغان حکومت کی دعوت پر میں شہری ہوا بازی کے سربراہ کی حیثیت سے افغانستا ن گیا ۔ افغان رہنماؤں نے اس ضمن میں تین بڑے مسائل پر پاکستان سے امداد کی درخواست کی ۔

جن میں کراچی میں ان کے جہازوں کے انجن اوور ہال کرنے کی درخواست، تکنیکی عملے کی تربیت اور افغان ایئر لائن کابل کو دہلی روٹ پر پاکستان کی فضائی حدود سے براہ راست گزرنے کی اجازت شامل تھے ۔

پاکستان کی فضائی حدود سے براہ راست گزرنے کا معاملہ میں نے دفتر خارجہ اور دوسری متعلقہ ایجنسیوں میں اٹھایا ۔ ہر جگہ اس کی مخالفت کی گئی۔ ہماری ایجنسیوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ براہ راست کابل دہلی رابطے کی اجازت دینے سے بھارت کے ساتھ افغانستان کے تعلقات میں سہولت پیدا ہوگی جو ہمارے لئے قابل قبول بات نہیں ۔

بالآخر میں صدر ایوب سے ملا۔ وہ ان مشیروں سے متفق تھے ۔ میں نے اپنانقطہ نظر بیان کرتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ افغانستان کے بارے میں ایسا رویہ اختیار کرنا پاکستان کے دیرپا مفادات کے خلاف ہے ۔

ان کے رویے میں تبدیلی محسوس نہ کرتے ہوئے میں نے کہا ’’ مجھے ایسا نظر آتا ہے کہ ہم خواہ مخواہ ضد پر تلے ہوئے ہیں ‘‘۔ ایوب خان نے کہا کہ ’’بعض اوقات ضد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا ‘‘۔ ایوب خان کی سوچ ’’ بعض اوقات ‘‘ کے بارے میں تو شاید ٹھیک تھی ۔ تاہم افغانستان کے معاملے میں ، میں محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا کہ یہ رویہ ضرورت سے زیادہ سخت ہے اور ہم یہ رویہ اپنے سابق سامراجی آقاؤں سے بھی زیادہ ثابت قدمی سے اپنا رہے ہیں ‘‘۔

اسی مضمون میں آگے لکھتے ہیں ’’ دوسرا متبادل ، مخالفتوں اور خطرات میں گھرے ہونے کی باوجود اپنی سیاسی وفاداریوں کو کم کرتے ہوئے دفاعی اخراجات میں کمی کرنا ہے ۔ مگر پاکستان کا اپنی سالمیت کو درپیش خطرات سے چھٹکارا پانا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔

بھارت کی فوجی طاقت اور اس سے اپنے دفاع کو جو خطرہ پاکستان محسوس کرتا ہے وہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جسے ابھی تک پاکستان تسلی بخش طور پر حل نہیں کرسکا ۔ بھارت پاکستان کی آبادی اور وسائل کے اعتبار سے چھ گنا ، بری افواج میں تین گنا ، ہوائی افواج میں پانچ گنا اور بحریہ میں کم از کم دس گنا ہوتے ہوئے بلاشبہ پاکستان کے مقابلے میں طاقتور ملک ہے ۔ تاہم پاکستان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ بھارت کی فوجی برتری کا مقابلہ اتنی ہی بڑی فوج رکھ کر کرے ۔

یہ تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ پاکستان کی اقتصادیات تباہ کردی جائیں یا ملک کی آزادی کو گروی رکھ کر کسی بڑی طاقت کے آلہ کار کے طور پر کام کیا جائے‘‘۔ مضمون ’’سماجی جمہوریت ‘‘ میں لکھا ہے ’’ پاکستان کے قومی تشخص اور قومی استحکام کا تقاضا ہے کہ صوبائی اور مقامی سطح کے سماجی تشخصات مساوی حیثیت میں بھرپور طور پر اپنا اپنا کردار انجام دیں ۔ سماجی ، سیاسی ، اقتصادی اور انتظامی امور پر زیادہ سے زیادہ گرفت صوبائی ، مقامی اور نچلے دائروں کو حاصل ہو ۔ وفاق پاکستان کے پاس قومی سطح کے معاملات ہوں اور وفاق میں صوبوں کو مساوی شرکت کے اصولوں پر ان معاملات کو چلایا جائے ۔ سماجی جمہوریت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ملک کا اقتصادی اور معاشی نظام ایسا بنایا جائے جس میں پاکستان کے ہر شہری کے لیے ہرشعبہ میں یکساں درجے کے حقوق متعین ہوں اور کسی کے لیے کسی قسم کی خصوصی مراعات نہ رکھی جائیں۔

ہر شہری کا سیاسی رتبہ ایک سطح کا ہو اور عدالتوں سے انصاف کا حصول ہر شخص کے لیے آسان ہوجائے ۔ انتظامیہ اور شہری سب کے لیے ایک جیسا ہی قانون ہو اور دستور کے دائرے میں سب پر عدالتی انصاف کا اطلاق ایک ہی طرح ہو ‘‘۔

مضمون ’’ پاکستان کا مستقبل ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ اگر عوام کو ملک کو درپیش خطرات اور حالات کی سنگینی کا احساس نہیں ہوتا تو وہ اپنی تباہی کے خود ذمہ دار ہوں گے ۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہواہے کہ قومیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں ، کیونکہ ان میں اپنے ملک کو درپیش خطرات بھانپنے کی حس ختم ہوچکی تھی اور انہوں نے وقت کی آواز سننے سے انکار کردیا تھا ۔ بعض اوقات قومیں خودکشی کی غنودگی میں اتنی دور چلی جاتی ہیں کہ واپس آجانامشکل ہوجاتا ہے ۔

انہیں دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ اپنی تباہی کی وہ خود ذمہ دار تھیں ۔ اگر پاکستانی قوم نے حالات کی سنگینی کا احساس نہ کیا تو مستقبل کا مورخ یہ لکھے گا کہ خدانخواستہ پاکستان قائم ہونے کے مختصر عرصہ بعد ہی محض اس لئے ختم ہوگیا کہ اس کے عوام نے اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کا تہیہ کرلیا تھا ۔ ان کی آنکھیں نوشتہ دیوار نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔ اور انہوں نے حکمرانوں کو اپنی تباہی و بربادی کے مکمل اختیارات دے دیئے تھے ‘‘۔

کتاب ’’باتیں حاکم لوگوں کی‘‘ میں اصغر خان نے ایک سبق آموز واقعہ تحریر کیا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سفارت کاری کے فرائض انجام دینے والے لوگ اپنی ’’ ذمہ داری ‘‘ کس انداز میں ادا کرتے ہیں ۔

وہ لکھتے ہیں ’’ بیرون ملک معاہدہ سیٹو(ساؤتھ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن ) کے ایک اجلاس میں میں بھی شریک تھا۔ہمارے سفیر صاحب نے امریکہ کے وزیر خارجہ ڈین رسک صاحب کو دوپہر کے کھانے پر بلایا ‘مجھے بھی دعوت دی کوئی درجن بھر مہما ن تھے ان میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے امور سے متعلق امریکہ کے نائب وزیر خارجہ بھی تھے ۔امریکی وزیر خارجہ ہمارے سفیر کے پہلو میں بیٹھے تھے اور نائب وزیر اور میں ان کے سامنے ۔کچھ اور پاکستانی مہمان بھی تھے ۔۔

سفیر صاحب کھانے کے دوران اپنے پاکستانی مہمانوں کو خوش کرنے کیلئے ڈین رسک کے بارے میں اردو میں بلاوجہ غیر مہذب فقرے چست کرتے رہے۔یہ کام وہ اس وقت کرتے جب ڈین رسک کسی اور سے گفتگو کررہے ہوتے‘‘۔

’’کھانا ختم ہوا‘ کافی آگئی اس کے بعد ڈین رسک اور ان کے ساتھی جانے کیلئے تیار ہوگئے کہ اچانک نائب وزیر ہمارے سفیر اور ان کے ساتھ کھڑے دوسرے مہمانوں کو مخاطب ہوئے ۔جنٹلمین جانے سے پہلے آپ کو ایک قصہ سناتا چلوں‘ جنگ کے دنوں میں بے شمار امریکی ہندوستان آئے تھے ‘جب جنگ ختم ہوئی تو وہ واپس امریکہ چلے گئے ۔

یہ اتوار کی صبح کی بات ہے کہ ہندوستان میں کچھ عرصہ گزارکر امریکہ کے ایک دو دراز قصبے میں رہنے والے دو امریکی سپاہی ایک دکان کے پا س کھڑے تھے ۔ یہ دونوں ہندوستانی جانتے تھے ۔ انہوں نے دکان کے شیشے میں دیکھا کہ ایک تیسرا آدمی پاس سے گزررہا ہے اس کی ناک بہت ہی لمبی تھی ۔

ایک سپاہی نے لمبی ناک پر تبصرہ کرتے ہوئے دوسرے جی آئی سے ہندوستانی میں کہا‘ دیکھو اس کی ناک کتنی لمبی ہے ‘‘۔نائب وزیر نے کہا آپ یقین کریں کہ اس تیسرے امریکی نے تبصرہ سن کر ترت جواب(ہندوستانی میں) دیا‘‘’’ اتنا ہی ہوسکتا ہے کہ جتنا خدا نے بنایا ہو۔

میرا کیا قصور ہے ۔‘‘ قصہ سنانے کے بعد نائب وزیر نے کہا ۔کہانی کا سبق یہ ہے کہ آپ کسی کو عجیب و غریب جگہ پر ایسے آدمی مل جاتے ہیں جو آپ کی زبان جانتے ہوں ۔اور جناب سفیر کھانے کا بہت شکریہ!‘‘ ’’ہمارے سفیر صاحب تو اس اچانک وار پر گھبرا کر گرنے والے تھے ۔

بعد میں ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ امریکن نائب وزیر نے کچھ عرصہ علی گڑھ یونیورسٹی میں بھی گزارا تھا ‘فارسی کا اسکالر تھا اور اردو بڑی روانی سے بولتا تھا ۔جنگ کے دنوں میں ڈین رسک بھی ہندوستان میں رہے تھے ۔اور غالباً انہیں بھی گزارا کرنے کی اردو آتی تھی‘‘ ۔

مزید : رائے /کالم