درویش بے نیاز

درویش بے نیاز
 درویش بے نیاز

  

روزِ اول سے یہ قانونِ فطرت رہا ہے کہ جب بھی کسی خوش نصیب کے باطن میں دبی آتشِ عشق کی چنگاری بھڑکی، پور پور میں خون میں بسی جسم کا رواں رواں سلگنے لگاکوچہ تصوف میں تصوف اورمعرفت الٰہی کی پُر اسرار مشکل ترین گھاٹیوں سے گزرنا مقدر ٹھہرا، راہ سلوک کی مشکل گھاٹیوں سے جتنا کوئی پامردی اور استقامت سے گزرا قدرت نے پھر اُس کواتنی ہی شان بخشی، قدرت نے پہلے سے ہی انسان کو جنون کی دولت بخشی ہے، پھر یہی جنون دشوار تاریک راستے کی مشعل راہ بن جاتا ہے، راہ فقر کی یہ گھاٹیاں بھیس بدل بدل کر سالک کے پائے استقلال کو ڈگمگانے کی کوشش کرتی ہیں، یہاں پر سالک خدا اور مرشد کے سہارے استقامت سے گزرتا ہے اور پھر منزل مراد پر پہنچ کر امر ہو جاتا ہے، بلھے شاہ کی زندگی کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے، ایک کے بعد ایک مشکل آزمائش بلھے شاہ کا دامن تھا متی نظر آتی ہے، بلھے شاہ کئی سال جھنگ دریا کے کنارے عبادت ریاضت فاقہ کشی اور مجاہدوں کے بعد جب مشاہدہ حق کے بعد مرشد کے چرنوں میں آتا ہے تو چند دن گزارنے کے بعد مرشد کا اگلا حکم جاری ہوتا ہے کہ سید زادے اب تم اپنے گاؤں ’’پانڈوکے، جاؤ جہاں تمہارا بچپن گزرا۔ ماں باپ بہنیں تمہارا ترستی آنکھوں سے انتظار کر رہے ہیں اور پھر طویل عرصے کی غیر حاضری کے بعد بلھے شاہ اپنے گاؤں آتے ہیں تو ماں باپ بہنیں دیکھ کر خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں۔

درویش روز اول سے خانہ بدوشی کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں،کیونکہ راہ فقر معرفت الٰہی کے مسافر خدا اور اُس کی فطرت کی رعنائیوں کو پسند کرتے ہیں، اِس لئے یہ کوچہ کوچہ ملکوں ملکوں پھر کر اپنی متجسس فطرت کو سکون دینے کی کو شش کرتے ہیں، کیونکہ بلھا بھی اِسی فطری اضطراب اور بے قراری کا مالک تھا، اِس لئے بہنوں کو اب یہ فکر ستانے لگی کہ ہمارا لاڈلا بھائی ماضی کی طرح پھر چند دن گزار کر دوبارہ اُنہیں چھوڑ کرکسی اور منزل یا آستانہ مرشد پر نہ جائے، اِس لئے انہوں نے ماں باپ کو تجویز دی کہ بلھے شاہ کے پاؤں میں زنجیر ڈالنے کے لئے اِس کی شادی کر دی جائے، گھرداری کا بوجھ بلھے شاہ پر ڈال دیا جائے، تاکہ بلھے شاہ پھر بیوی بچے اور گھر کا ہی ہوکر رہ جائے۔

ایک دن باپ نے بلھے شاہ کو بٹھایا اور پیار سے کہا کہ اب میں اپنی نسل کو پروان چڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں، تمہاری شادی کرنا چاہتا ہوں۔ بلھے شاہ اپنے مزاج سے بخوبی واقف تھے، اِس لئے نہایت ادب سے درخواست کی، بابا جان شادی قید ہے، میری فطرت قید ہونا پسند نہیں کرتی بیٹے کے مسلسل انکار سے باپ نے کہا شادی تو نبیوں پیغمبروں ولیوں نے کی ہے۔

تم کس مذہب یاروش کے مسافر ہو، جو شادی سے انکار کر رہے ہو، بلھے شاہ ؒ نہایت ادب سے بولے بابا جان آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، لیکن میں اپنے مزاج سے خوب واقف ہوں، میں مرد آزاد ہوں پابندی مجھے برداشت نہیں ہے۔

بلھے شاہ ؒ کا انکار دیکھ کر باپ بہت پریشان ہوا، کیونکہ اُس کی نسل بڑھتی ہوئی نظر نہیں آرہی تھی، جب گھر والوں کے شدید اصرار پر بھی بلھے شاہ ؒ انکار ہی کرتے رہے تو پورا گھرانہ اِس مسئلے کا حل ڈھونڈنے پر لگ گیا کہ کس طرح بلھے شاہ ؒ کو شادی پر تیار کیا جائے آخر بہنوں کو لگا کہ یہ سب بلھے شاہ ؒ کے مرشد حضرت عنایت قادری ؒ کی وجہ سے ہو رہا ہے، جب تک بلھے شاہ ؒ مرشد سے دور نہیں ہوگا، اُس وقت تک بلھے شاہ ؒ شادی نہیں کرے گا۔ بلھے شاہ ؒ پر مرشد کا رنگ خوب چڑھ چکا ہے، پہلے مرشد کا گہرا رنگ اتارنا ہوگا، پھر ہی مسئلہ حل ہوگا، اب بہنوں نے باپ سے کہا بلھے شاہؒ کو حضرت عنایت قادریؒ سے دور کر دیا جائے، مگر باپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں نے خود ہی تو بلھے شاہؒ کو کامل مرشد کے پاس بھیجا تھا، اب میں اُسے مرشد سے دوری کا مشورہ کیسے دے سکتا ہوں، لیکن تم اپنی محبت کا واسطہ دو تو شاید وہ مان جائے، کیونکہ بھائی بہنوں سے بہت پیار کرتے ہیں، اب بہنیں اکٹھی ہوکر بھائی کے پاس آئیں اور بولیں بھائی تم ہم سے کتنا پیار کرتے ہو اور آپ ہمارے لئے کیا کرسکتے ہو تو بلھے شاہؒ بولے بہت پیار کرتا ہوں اور تمہارے لئے کچھ بھی کرسکتا ہوں۔

اب بہنوں نے اپنا مدعا بیان کیا، بھائی اگر تم ہم سے محبت کرتے ہو تو ہمارے لئے مرشد سے دور ہو جاؤ، مرشد کی محبت کم کرکے اب ماں باپ کی محبت اپنالو، نیک اولاد کی طرح اب ماں باپ کی رضا اور خدمت میں زندگی گزارو، اب بہنوں نے ماں باپ کی خدمت کا مقام بتانا شروع کردیا۔ بلھے شاہؒ آرام سے بہنوں کی بات سنتے رہے، لیکن شادی کی بات سے پھر انکار کر دیا اورکہا میں تو خدا اور مر شد کا ہوچکا، اب ہمارے درمیان کوئی تیسرا کیسے آسکتا ہے۔

مَیں مرشد سے دوری کا تصور بھی نہیں کرسکتا، تاریخ تصوف میں ایسے نازک مقام اور بھی فقیروں پر آچکے ہیں، مثال کے طور پر شہنشاہ پاک پتن زہد الاولیاء بابا فرید گنج شکرؒ کے سگے بھانجے مخدوم صابر کلیر کی والدہ ماجدہ نے جب صابر کلیرؒ کی مرضی کے بغیر اپنے بیٹے کی شادی کردی اور جب دلہن کو آپ کے سامنے لایا گیا تو مخدوم زادے نے شدید حیرت سے کہا یہ کون ہے تو والدہ بولی فرزند یہ تمہاری دلہن ہے، جس سے تمہاری شادی ہوچکی ہے تو صابر کلیرؒ جذب وسکر کے عالم میں بولے، میں تو پہلے ہی کسی کا ہوچکا، اب میرے اورحق تعالیٰ کے درمیان کوئی تیسرا کیسے آسکتا ہے۔

کن فیکون کے مقام پر فائز نوجوان درویش کو جلال آگیا، دلہن کے کپڑوں کو آگ لگ گئی اور پھر چند لمحوں میں ہی دلہن راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی، قافلہ شب و روز کی رفتار کے بعد پھر ایک درویش اُسی طرح ہی بول رہا تھا کہ میں تو کسی کا ہوچکا ہوں، اب درمیان میں کسی دوسرے کے آنے کی گنجائش نہیں ہے، بہنوں نے جب منت سماجت کرلی تو اب آخری وار کرنے کا فیصلہ کیا، اب آپ کو ایک فیصلہ کرنا پڑے گا یا تو اپنے مرشد کو چن لو یا پھر بہنوں کو، بلھے شاہؒ نے بہنوں کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ مجھے اِس آزمائش میں نہ ڈالو میرے ساتھ ایسی شرط لگانے کی کوشش نہ کرو، اگر آپ زیادہ اصرار کروگی تو ان شاء اللہ میں اِس آزمائش میں بھی پورا اتروں گا۔

کاش آپ میری زندگی مانگتیں تو سوچے سمجھے بغیر ہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آپ کو پیش کر دیتا اور میں اپنی جان خوشی خوشی دے دیتا، لیکن جو بات آپ کر رہی ہو، وہ میرے بس میں ہی نہیں ہے، میں کسی بھی چیز اور رشتے کو قبول نہیں کروں گا، جو میرے اور میرے مرشد اور خدا کے درمیان آنے کی کوشش کر ے، اگر میرے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈال کر پوچھا جائے کہ زندگی یا مرشد تو میں زندگی ہنستے ہنستے دے کر مرشد کی غلامی گلے میں ڈالوں گا۔ بلھے شاہؒ کی مستقل مزاجی اور ضد دیکھ کر بہنیں اداس واپس چلی گئیں۔

اب باپ نے بھی بہنوں کو کہہ دیا کہ بلھے شاہؒ اپنے مرشد اور خدا کے عشق میں اتنا غٖرق ہوچکا ہے کہ اب دنیاداری اور رشتہ داریاں اُس کے لئے کچھ بھی معنی نہیں رکھتیں۔ اب بلھے شاہ ؒ کے گھر والوں رشتہ داروں اور عزیز اقارب نے بلھے شاہ ؒ کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا، بلھے شاہ ؒ مرشد کے عشق کی ایک اور گھاٹی بھی استقامت سے سر کرچکا تھا، بلھا واقعی فنافی الشیخ کے مرتبے پر فائز ہوچکا تھا، بلھا اپنا آپ بھولنے کے بعد اب رشتہ داری کی زنجیروں سے بھی خود کو آزاد کرچکا تھا، مرشد اور حق تعالیٰ ہی مرشد کے لئے اول آخر تھے، شادی مذہبی فریضہ ہے، بلھے شاہؒ مانتے بھی تھے، لیکن وہ اپنے آزاد مزاج کی وجہ سے اِس زنجیر کو پاؤں کی بیڑی نہیں بنانا چاہتے تھے، بلھے شاہ ؒ بہنوں کا خیال کرکے اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے:

بلھے نوں سمجھاون آئیاں بھیناں تے بھر جائیاں

آل نبی اولاد نبی دی توں کیوں لیکاں لائیاں

بلھے شاہؒ معرفتِ الٰہی عشق حقیقی مشاہدہ حق پانے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ چکا تھا، منزل پانے کے لئے وہ بڑی سے بڑی قربانی خوشی سے دینے کو تیار تھا، وہ مجبوریوں اور رشتہ داریوں کی تمام زنجیروں سے آزاد ہوچکا تھا۔

مزید :

رائے -کالم -