بلوچستان میں جمہوریت کی آزمائش

بلوچستان میں جمہوریت کی آزمائش
بلوچستان میں جمہوریت کی آزمائش

  


کیا بلوچستان میں کوئی نئی بات رونما ہونے جارہی ہے، جو اتنی ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ یہ تو وہ صوبہ ہے، جہاں حکومتیں چھ چھ ماہ کے لئے بنتی رہی ہیں، اب تو عبدالمالک اور ثناء اللہ زہری کو پانچ سال ہونے لگے ہیں۔

ایک صوبے کی روایات ہیں، آپ انہیں کیسے بدل سکتے ہیں جب اس صوبائی اسمبلی کی کم نشستیں ہوا کرتی تھیں تو 22کے 22ارکانِ اسمبلی وزیر بنادیئے جاتے تھے، تاکہ کام چلتا رہے،یہ لطیفہ بھی ہو چکا ہے کہ ایک گھر میں دو دو وزیر موجود تھے لیکن پھر بھی حکومت برخاست ہوجاتی تھی، کیونکہ ہر وزیر چاہتا تھا۔ وزیر اعلیٰ بن جائے۔ سو آج اگر وزیر اعلیٰ کو تحریک عوام اعتماد کا سامنا ہے تو کون سی انہونی ہورہی ہے۔

ثناء اللہ زہری کو چاہیے تو یہ تھا کہ ہوا کا رخ بھانپ کر خود ہی استعفا دے دیتے، کیونکہ بلوچستان اسمبلی کی تاریخ یہ بھی رہی ہے کہ جب کسی کے خلاف عدم اعتماد کا بگل بج گیا تو پھر وہ بچا نہیں۔ یہ سراسر ثناء اللہ زہری کی سیاسی نااہلی ہے کہ وہ اپنی حکومت اور اسمبلی پر گرفت مضبوط نہیں رکھ سکے، اُن کے بارے میں اب جو کہانیاں سامنے آرہی ہیں، وہ بہت چونکا دینے والی ہیں۔ اس صوبے کی روایت تو یہ رہی ہے کہ یہاں سب مل بانٹ کر کھاتے ہیں، وزیر اعلیٰ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے اکیلے ہی سب کچھ کیا ہے اور اُن کے دورِ اقتدار میں بڑھنے والے اندرون و بیرون ملک اثاثے حیران کن ہیں۔ ظاہر ہے اب زہری صاحب کو یہ فکر بھی ہوگی کہ اگر وہ اس قسم کے الزامات کی بنا پر عدم اعتماد کا شکار ہوتے ہیں تو بعد میں نیب بھی اُن کے پیچھے پڑ جائے گا۔ وہ کسی معجزے کے انتظار میں نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں، جنہوں نے چند وفاقی وزراء کی ڈیوٹی بھی لگائی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو بچانے کی کوشش کریں، مگر دل سے وہ بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ کرپشن کے الزامات میں ڈوبے شخص کو بچائیں، ویسے بھی جو وزیر اعلیٰ اپنی ہی جماعت کے ارکان کا اعتماد کھو چکا ہو، وہ کیسے اس منصب پر براجمان رہ سکتا ہے۔

ثناء اللہ زہری کی صوبے کے معاملات میں دلچسپی کا بھانڈہ تو اُس وقت ہی پھوٹ گیا تھا، جب نواز شریف جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور آئے تھے اور انہوں نے داتا دربار چوک پر جلسے سے خطاب کیا تھا۔ ثناء اللہ زہری بھی اپنا صوبہ چھوڑ کر اظہار یکجہتی کے لئے جلسے میں موجود تھے، اس وقت یہ بریکنگ نیوز چلنا شروع ہوئی کہ کوئٹہ میں خود کش دھماکہ ہوگیا ہے اور کئی جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔

یہ خبر لازماً ثناء اللہ زہری تک بھی فوراً پہنچا دی گئی ہوگی، میں ایک طرف اس خبر کے بارے میں ٹکرز دیکھ رہا تھا اور دوسری طرف میری نظر ثناء اللہ زہری پر تھی۔ میں توقع کررہا تھا کہ وہ فوراً جلسے سے اُٹھیں گے اور اپنا خصوصی طیارہ پکڑ کر کوئٹہ پہنچ جائیں گے، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور نواز شریف کا خطاب سنتے رہے۔ جلسے کے بعد بھی اُنہوں نے واپس جانے کی زحمت نہ کی، بلکہ اگلے دن گئے۔

اپنے فرائض سے غفلت برت کر کسی کی چاپلوسی کرنے سے عہدہ برقرار نہیں رہتا۔ کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ ایک طرف بلوچستان دشمنوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔

بھارت اور افغانستان وہاں دہشت گردی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران جتنا زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بلوچستان بنا ہے، اتنا ملک کا کوئی اور حصہ نہیں بنا، ایسے میں تو بلوچستان کی حکومت کو چوبیس گھنٹے پاؤں پر کھڑا رہنا چاہیے، مگر اطلاعات کے مطابق حکومت کے اندر حددرجہ اختلافات موجود تھے۔ صوبے کے وزیر داخلہ کی وزیر اعلیٰ سے نہیں بنتی تھی، سرفراز بگٹی استعفا دینے والوں میں سب سے پہلے سامنے آئے۔

مخدوش صورت حال میں گھرے ہوئے صوبے کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ میں اختلافات ہوں تو سمجھا جاسکتا ہے کہ وہاں امن و امان کی صورت حال کیا ہوگی۔ نئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت اب بلوچستان کو بھی اربوں روپے کی گرانٹ ملتی ہے، کوئی بتاسکتا ہے کہ پچھلے ساڑھے چار برسوں کے دوران بلوچستان میں کون سے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع یا مکمل ہوئے۔ وہی پسماندگی، وہی جہالت اور وہی صحت و تعلیم کی مخدوش صورت حال، آج بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ہر سال لاکھوں مریض پنجاب کے ہسپتالوں میں علاج کرانے آتے ہیں، کوئی بلوچستان میں صحت کی سہولتوں میں اضافے کے بارے میں نہیں سوچتا۔ بس ساری گرانٹ ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔

وزارتِ اعلیٰ ایک پاور فل عہدہ ہے صوبے کا وزیر اعلیٰ کچھ کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ شہباز شریف کی ترجیحات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر انہوں نے اپنی ترجیحات کے مطابق صوبے کی ترقی کے لئے جو کرنا چاہا، کیا ہے۔

بلوچستان میں تو کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ حکومت کیا کررہی ہے۔ 2013ء کے انتخابی نتائج کی بنیاد پر بلوچستان میں تجربہ کیا گیا کہ وزارتِ اعلیٰ دو وزرائے اعلیٰ میں تقسیم کردی گئی۔

یہ بات بذاتِ خود کرپشن کو فروغ دینے کے لئے کافی تھی۔ تاہم عبدالمالک چونکہ کچھ نرم خو تھے، اس لئے اپنے اڑھائی برس گزار گئے، کیا انہوں نے بھی کچھ نہیں تاہم کرپشن کے حوالے سے کہانیاں بہت کم سامنے آئیں۔ پھر قرعہ فال ثناء اللہ زہری کے نام نکلا۔

اب ظاہر ہے جب آدمی کو پتہ ہو کہ وقت کم ہے اور سرمایہ زیادہ ہے تو وہ حکومت پر توجہ دینے کی بجائے سرمائے کو ٹھکانے لگانے پر توجہ دیتا ہے۔ اس جلد بازی میں غالباً وہ یہ احتیاط بھی بھول گئے کہ بلوچستان میں مل بانٹ کے کھانا پڑتا ہے۔

اکیلا کھانے والا زیر عتاب آجاتا ہے۔ سودیکھتے ہی دیکھتے ایک لاوا پکا، تحریک عدم اعتماد کی فضا بنی، جو آج ایوان میں پیش کی جائے گی اور ووٹنگ دو دن بعد ہوگی۔ اب کوئی اسے سازش قرار دے رہا ہے، کسی کے نزدیک یہ سینٹ الیکشن رکوانے کی کوشش ہے، کوئی اسے سی پیک کا شاخسانہ کہہ رہا ہے، حالانکہ سیدھی سی بات ہے کہ یہ آئینی اور جمہوری راستہ ہے، اگر وزیر اعلیٰ ارکان اسمبلی کو مطمئن نہیں رکھ سکتا تو اسے وزیر اعلیٰ رہنے کا کوئی حق نہیں، کیونکہ وہ انہی کے ووٹوں سے وزیر اعلیٰ بنا ہوتا ہے، اگر ثناء اللہ زہری اپنی جماعت کے ارکانِ اسمبلی کا اعتماد بھی کھو بیٹھے ہیں تو یہ لمحۂ فکر یہ ہے۔

سنا ہے بلوچستان کے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اس حوالے سے نواز شریف کی بات بھی ماننے کو تیار نہیں، گویا صورت حال اس حد تک بگڑ چکی ہے۔

اب ایسے میں سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں بچتا کہ قرار داد پر ووٹنگ کرائی جائے اور اگر ثناء اللہ زہری ایوان کا اعتماد کھو دیتے ہیں تو نیا وزیر اعلیٰ منتخب کیا جائے۔ احتساب کا بھی یہی ایک جمہوری طریقہ ہے اور دنیا بھر میں قائد ایوان بدلنے کے لئے یہی راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔

میرے نزدیک تو یہ اچھی روایت پڑنے جارہی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ارکان پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اس لئے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ ایوان کے اعتماد پر پورا نہیں اتررہا اور کرپشن کے الزامات کی بھی زد میں ہے۔

یوں توالزامات سبھی پر لگتے رہتے ہیں، مگر ارکانِ اسمبلی حاکم وقت کے خلاف علم بغاوت کم ہی بلند کرتے ہیں۔ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کے ارکان نے یہ علم بغاوت بلند کردیا ہے۔ ثناء اللہ زہری کی اسمبلی پر تو کیا اپنی کابینہ پر بھی گرفت نہیں رہی، اُن کے وزیر مستعفی ہوتے جارہے ہیں، یہ صورت حال اُن کی گورننس کے کمزور ترین ہونے کی دلیل ہے۔

بہر حال جو کچھ بھی نتیجہ نکلے، مگر جمہوریت کوچلتے رہنا چاہیے، اگر ثناء اللہ زہری تحریک عدم اعتماد سے بچ جاتے ہیں تو انہیں حکومت کرنے کا حق ہے، تاہم عدم اعتاد کی صورت میں نئے قائد ایوان کے اختتام میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

بلوچستان اسمبلی کے ارکان اگر یہ سب کچھ ایک بری حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے دیانتداری سے کررہے ہیں تو یہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کی طرف ایک قدم ہوسکتا ہے، لیکن اگر اُن کا مقصد کچھ اور ہے تو اس کی تائید نہیں کی جاسکی۔

ترقی و خوشحالی بلوچستان کے عوام کا بھی حق ہے، اگر کرپشن بنیادی حقوق کو چاٹ رہی ہے تو اس کے آگے بند باندھنا بھی عوامی نمائندوں ہی کا کام ہے۔ بہر حال بلوچستان کے ارکان اسمبلی کے رویے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہاں جمہوریت باقی صوبوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے اور یہ کہ وہاں کے ارکان اسمبلی مٹی کے مادھو بھی نہیں ہیں۔

مزید : رائے /کالم