بک شیلف: فائر اینڈ فیوری

بک شیلف: فائر اینڈ فیوری
 بک شیلف: فائر اینڈ فیوری

  

ابھی پانچ سات روز پہلے امریکہ میں ایک نئی کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام ’’فائراینڈ فیوری‘‘ ہے۔ 326 صفحات کی اس کتاب کا مصنف مائیکل وولف (Wolff) ہے اور اس کا موضوع امریکی صدر کی چار سالہ مدتِ صدارت کے پہلے سال (جنوری 2017ء تا جنوری 2018ء) کی کارکردگی کا وہ جائزہ ہے جس نے تمام امریکہ میں ایک ہلچل سی مچا دی ہے۔

یہ مصنف انگریزی زبان کے ایک میگزین ’’ہالی وڈ رپورٹر‘‘ کے ایڈیٹر ہیں۔ تمام امریکی صدور کی آج تک کی تاریخ گواہ ہے کہ ٹرمپ کے کسی بھی پیشرو کو عالمی سطح کی ان ناکامیوں کا سامنا نہیں ہوا جن کا صدر ٹرمپ کوہوا ہے اور یہ ناکامیاں اور بدنامیاں صدر موصوف کی اپنی پیدا کردہ ہیں۔

امریکہ کے باہر بیٹھے ہم جیسے لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر امریکیوں کی اکثریت نے ٹرمپ کو منتخب کرکے وائٹ ہاؤس میں لابٹھایا ہے تو بدنام اور ناکام صرف ٹرمپ نہیں ہوئے بلکہ ان کی قوم کی اکثریت کلنک کے اس ٹیکے کی سزاوار ہے جس کی تفصیل مائیکل وولف نے اپنی اس تہلکہ خیز تصنیف میں بیان کی ہے۔

قارئین اس امر کو بھی مدنظر رکھیں کہ اس کتاب میں تحریر کوئی بھی سٹوری یا واقعہ کسی افواہ پر مبنی نہیں بلکہ مصنف نے 200سے زائد ایسے لوگوں کا انٹرویو کرکے کتاب کا مواد تشکیل دیا ہے جو وائٹ ہاؤس کے اندر کام کرتے ہیں یا گزشتہ ایک سال کے دوران کرتے رہے تھے اور اب کہیں اور جاچکے ہیں اور جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ حالات وواقعات دیکھے اور کانوں سے سنے ہیں جن کا تذکرہ اس کتاب میں کیا گیا ہے۔

اس کتاب کی ایک اور انفرادی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ مارکیٹ میں بعد میں لائی گئی جبکہ اسے پہلے انٹرنیٹ پر آن لائن کرکے PDF بھی کردیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا اس کو نہ صرف آن لائن پڑھ سکتی ہے بلکہ PDF کرنے کی وجہ سے اس کو ڈاؤن لوڈ کرکے جب بھی وقت ملے زیرِ مطالعہ لاسکتی ہے۔۔۔

برسبیلِ تذکرہ اس سے پہلے کہ اس کتاب کے مندرجات پر نقد و نظر کیا جائے،میں ایک ایسی تجویز قوم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو پاکستان کے 22,20 کروڑ عوام کی معلومات میں اُسی تیزی سے اضافہ کرسکتی ہے جس تیزی سے مغرب کے باقی انگریزی دان اور انگریزی خوان لوگ کررہے ہیں۔

تجویز(مختصراً) یہ ہے کہ کسی بھی نجی یا حکومتی ادارے کو یہ ذمہ داری تفویض کردی جائے کہ وہ اس قسم کی تمام Best Seller کتب کو اردو میں ترجمہ کرکے اردو بازاروں میں لے آئے۔ یہ کام نہ تو اتنا مشکل ہے اور نہ ہی اتنا مہنگا ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور نہ کیا جائے۔۔۔ آگے قوم کی مرضی ہے۔۔۔ یہ قوم کا لفظ میں دوبارہ اس لئے استعمال کررہا ہوں کہ یہ ایک قومی سطح پر گویا صدقہ جاریہ ہوگا اور اس کی قومی اہمیت یہ ہوگی کہ پاکستان کا ایک معمولی لکھا پڑھا شہری بھی دنیا کی اُن اہم ترین کتابوں سے مستفید ہوسکے گا جو انگریزی زبان میں شائع ہوکر مشرق و مغرب کے انگریزی دان حلقوں میں سندِ قبولیت حاصل کرلیتی ہیں اور انگریزی محاورے کے مطابق ’’گرم پکوانوں‘‘ کی طرح ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔۔۔

اس مجوزہ پراجیکٹ کا ایک سرسری سا خاکہ یہ ہے کہ اس طرح کی کسی بھی بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ اہم اور معلوماتی کتاب کو اردو میں ترجمہ کرنے والوں کا ایک پینل تشکیل دیا جائے۔ جونہی کوئی ایسی انگریزی کتاب منظر عام پر آئے جو بالخصوص پاکستانیوں کے لئے اہم اور معلوماتی مواد فراہم کرتی ہو تو اس کا فوری ترجمہ کردیا جائے۔

مثلاً اگر 300 صفحات کی کتاب ہو تو 10مترجمین کو ایک طے شدہ نرخِ معاوضہ پر ہائر (Hire) کرکے 30,30 صفحات دے دئے جائیں جو مترجم حضرات زیادہ سے زیادہ دوتین دن میں ترجمہ کردیں۔ پھر اس ترجمہ شدہ مواد کو ماہر ایڈیٹروں کی ایک ٹیم قابلِ اشاعت بنانے کی ذمہ دار ہو۔ اس کے بعد اس کو پیپر بیک پر 60,50 گرام کے بک پیپر پر طبع کرکے مارکیٹ کر دیا جائے۔

اس طرح کتاب پر اٹھنے والے اخراجات کو کم سے کم وقت میں کم سے کم قیمت پر زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہی کتاب (Fire and Fury) جس کے 326صفحات ہیں اس کو ترجمہ کرکے شائع کرنے میں زیادہ سے زیادہ دس بارہ روز لگیں گے اور اس کی قیمت بھی زیادہ سے زیادہ ڈیڑہ دو سو روپے ہوگی اور اس پر جو منافع پبلشرز(نجی یا حکومتی ادارے) کو ہوگا، وہ خاصا پرکشش ہوگا۔

مغربی ممالک میں ایک عرصے سے یہی پریکٹس جاری ہے۔ وہاں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں نئی کتابیں ترجمہ ہوکر بکتیں، معلومات کا خزانہ قارئین کو فراہم کرتیں اور پبلشرز کی جیبیں بھرتی ہیں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ہم پاکستانی ایسا کیوں نہیں کرتے؟

۔۔۔ میرا خیال ہے ایک انجانا سا خوف یا ’’جھاکا‘‘(Inhibition) ہے جو اس پراجیکٹ کی طرف بڑھنے کی راہ میں حائل ہے اور یہ ایک ایسا حجاب ہے جس کو اگر ایک بار توڑ دیا جائے تو پھر آئینِ نو سے ڈرنا اور طرز کہن پر اڑنا بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ ہمارا مسئلہ صرف یہ ہے کہ پہل کرنے والے ’’مہم جو‘‘ آگے آنے کی ہمت نہیں کرتے!

میں ’’فائر اینڈ فیوری‘‘ نامی اس کتاب کا ذکر کررہا تھا جس میں مائیکل وولف نے اپنے صدر ٹرمپ کو ’’ننگا‘‘کرکے رکھ دیا ہے۔ وولف کا دعویٰ ہے کہ اس کی کتاب ٹرمپ کے سنگھاسن کو ڈانواں ڈول کردے گی اور وہ اپنی چار سالہ مدتِ حکمرانی پوری نہیں کرسکیں گے۔ اس نے وائٹ ہاؤس کے جن 200 سے زائد سٹاف اراکین کا انٹرویو کیا ہے ان میں نوکر چاکر سے لے کر چیف سٹرٹیجک مشیر تک شامل ہیں۔

ان سے حاصل کردہ معلومات کے پیشِ نظر وولف نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ٹرمپ کا ذہنی توازن درست نہیں اور ان سے دنیا کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ گزشتہ ایک سال میں ٹرمپ نے بار بار جوہری بٹن کی طرف لپکنے کا اشارہ دیا ہے لیکن بعد میں شاید ’’مٹھی بھر‘‘ عاقل مشیروں نے امریکہ کو باہمی خودکشی سے بچالیا ہے۔

جن خامیوں کی وولف نے نشاندہی کی ہے ان کا خلاصہ یہ ہے:

1۔صدر ٹرمپ، روز ویلٹ اور لنکن کے امریکہ کو تیسری دنیا کے کسی پس ماندہ ملک کی سطح کی طرف لے کر جارہے ہیں۔

2۔ وہ اپنے دوستوں کو بیویوں کو ورغلا کر انہیں اپنی زینتِ آغوش بنانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔

3۔انہوں نے صدارت حاصل کرنے کے لئے روس کی طرفداری کی اور پوٹن سے مدد حاصل کی۔

4۔انہوں نے فیڈرل انوسٹی گیشن بیورو(FBI) کے اپنے چیف کو اس لئے سیک کیا کہ وہ ان کی پوٹن سے ملی بھگت کا راز فاش کرنے والا تھا۔

5۔ وہ دنیا کے سب سے بڑے فریب کار اور کذب تراش (Fabricator)ہیں۔

6۔ٹرمپ کی زوجہ محترمہ نے جب اپنے میاں کی بطور صدر کامیابی کی خبر سنی تھی تو رونے چلانے لگی تھی۔ یہ محترمہ میلانیا(Milania) کے خوشی کے آنسو نہیں تھے، غم و افسوس کا ماتم تھا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کی شادی اپنے حلقہ احباب میں سب سے بڑی ناگہانیت (Surprise) گردانی گئی تھی۔

7۔یہ میاں بیوی ہفتوں گزر جانے کے بعد بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔

8۔ الیکشن کے بعد جب ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کا اعلان ہوا تو موصوف کو خود بھی یقین نہیں آتا تھا کہ وہ اتنے بڑے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں۔

9۔ ان کے مشیر جانتے ہیں کہ ان کو تاریحِ عالم سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کبھی گلوبل پالٹیکس کی ابجدسے بھی شناسا ہونے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی۔

10۔ وہ اتنے وہمی ہیں کہ ٹوتھ پیسٹ تک کو ’’پھونک پھونک‘‘ کر استعمال کرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کوئی ان کو زہرے دے۔ اپنے کھانے کے بارے میں بھی ایسی احتیاط برتتے ہیں جو شکوک و شبہات کی ساری حدیں پار کرجاتی ہے۔ اکثر وقت بے وقت مختلف دکانوں سے میکڈونلڈ برگر منگوا کر کھاتے دیکھے گئے ہیں۔

11۔ ان کی اخلاقی پستی کا عالم یہ ہے کہ بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے کسی دوست کی بیوی کو فون کریں گے اور اچانک اس کو ہولڈ کروا کر اس کے خاوند کو لائن پر لاکر اس سے بات کرنے لگ جائیں گے جو کسی اور خاتون کے بارے میں اپنے ملوث ہونے کی معلومات بیان کرکے بزعمِ خویش ٹرمپ سے گپ شپ لگا رہا ہوگا۔

اس کے بعد دوست کا فون بند کرکے دوست کی بیوی کی طرف متوجہ ہوں گے اور پوچھیں گے:’’تم نے یہ سب گفتگو سنی ہے ناں۔۔۔ایسے بے وفا شوہر کا علاج یہ ہے کہ تم بھی اس سے بے وفائی کرنے سے گریز نہ کرو۔مزید ’’مشورے‘‘ کے لئے جلد ملاقات ہونی چاہئے‘‘۔

12۔ وہ اپنی بیٹی ایوانکا (Evanka) کو اپنے بعد امریکہ کی پہلی خاتون صدر بنانے کی تیاریاں کررہے ہیں۔

13۔ ان کے ایک سٹرٹیجک مشیر سٹیو بینن (Steve Bannon) نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے پوٹن کے جاسوسوں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے ایسا مواد حاصل کیا جس نے 2016ء کے الیکشنوں میں ہیلری کلنٹن کی شکست کی راہ ہموار ہوئی۔ (اب اس کا تازہ بیان آرہا ہے کہ اسے اس انٹرویو کا افسوس ہے!)

قارئین محترم! اس کتاب میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں۔۔۔۔لیکن جہاں تک ٹرمپ کے ذاتی کردار کا تعلق ہے تو ان کی قوم جانے اور وہ جانیں، ہمیں اس سے کیا غرض؟۔۔۔ ہم نے تو اس ٹرمپ کو دیکھنا ہے جس کے ہاتھوں میں دنیا کی واحد سپر پاور کی عنانِ اقتدار ہے اور جو پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

ٹرمپ نے وولف کی اس کتاب کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وولف بکواس کررہا ہے۔۔۔ میں دنیا کا ایک مستقل مزاج نابغۂ روزگار(Genius) صدرہوں‘‘۔۔۔ ہم پاکستانیوں کو خود اس کی ٹویٹ کے مطابق ایسے بے وقوف (Idot) سے ہوشیار اور خبردار رہنا ہے جو اپنے آپ کوخود Genius کا خطاب عطا کررہا ہے۔ ہماری سویلین اور عسکری قیادت نے ٹرمپ کی ٹویٹ، بھارت نژاد نکی ہیلی کی ہرزہ سرائی اور امریکی امداد کی بندش پر رد عمل کا وہ وتیرہ نہیں اپنانا جو ہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنایا ہے۔۔۔۔ سیانوں کا قول ہے کہطاقتور پاگل کو عقل و دانش کی ’’مار‘‘ دینی چاہئے، جوابی طاقت کی نہیں!۔۔۔

مزید :

رائے -کالم -