کشمیر میں مودی حکومت کی سخت پالیسی ناکام ہو گئی ،پی چد مبرم

کشمیر میں مودی حکومت کی سخت پالیسی ناکام ہو گئی ،پی چد مبرم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی(اے این این ) کانگریس کے سینئرلیڈر اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے مرکزی حکومت کی کشمیرپالیسی کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاہے کہ جموں کشمیر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سخت اور فوج رخی پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔انہوں نے ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ حکومت کا سخت اور فوج رخی نظریہ ریاست سے دہشت گردی ختم کرنے میں ناکام رہاہے۔کانگریس لیڈر نے لکھایہ دعوی کیا گیا تھا کہ سخت ،فوج رخی نظریہ دہشت گردی اور دراندازی ختم کردیگا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے منسلک ایک معاملہ ہے اور اس ضمن میں بار بار یاد دہانی کرائی جارہی ہے تاکہ یہ ظاہر ہوسکے۔انکا کہنا تھا وقتا فوقتا ہمیں بہت سخت طریقے سے یاد کرایا جارہا ہے کہ کوئی معاملہ ہے، آخری بار اسکی یاد دہانی 30اور 31دسمبر کی درمیانی رات بھی کرائی گئی جب لیتہ پورہ میں سی آر پی ایف سینٹر پر حملہ کیا گیا جس میں 5اہلکار ہلاک اور 3جوان زخمی ہوئے۔ دنیشور شرما کی نامزدگی کو گجرات چناؤ سے قبل ووٹ حاصل کرنے کا ایک کھیل قرار دیتے ہوئے چدمبرم نے کہا گجرات انتخضابات سے قبل دنیشور شرما کی تقرری کو خصوصی نمائندہ قرار دیا گیا لیکن انکا منڈیٹ واضح نہیں ہے۔
ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ خصوصی نمائندہ ہر ایک سے بات کریگا جو ان سے بات کرنا چاہتا ہو، یہاں اصل بات واضح ہوجاتی ہے۔انہوں نے مرکز سے کہا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کی پالیسی اختیار کرے۔انکا کہنا تھا دانشمندی اسی بات میں ہے کہ جموں و کشمیر کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے، واجپائی اور منموہن سنگھ اس بات کیلئے یاد رکھیں جائیں گے کہ انہوں نے مسئلہ حل کرنے کے حوالے سے اقدامات کئے تھے۔انہوں نے مرکز سے کہا آپ نے کہا تھا کہ سخت پالیسی کو ایک موقعہ دیا جانا چاہیے، اب آپ اعدادوشمار دیکھیں ، یہ کیا بتاتے ہیں، آپ خود اپنا نظریہ تبدیل کریں گے۔ چدمبرم نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں ہلاک ہوئے شہریوں اور جنگجووں کی تعداد 2014سے2017تک تقریبادوگنی ہوگئی ہے۔ان تین برسوں میں یہ تعداد28سے 57اور 110سے 218ہوگئی ہے۔اس عرصہ میں ہلاک ہونیوالے فوجی جوانوں کی تعداد بڑھ کر 47سے 83رہی ہے۔سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے بھی کہا کہ جموں کشمیرمسئلہ پر وزیر اعظم نریندرمودی کی تبصرہ محض بیان بازی ہے ۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر آپ ان میں سے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ حکومت کے سخت اور فوج رخی نظریہ کو ایک موقع دیاجاناچاہئے ، تو آپ کو اپنا نظریہ بدل لینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ دانشمندی جموں کشمیرمسئلہ کے سیاسی حل کے لئے سرگرمی سے کام کرنے میں ہے،جہاں 1989سے ہزاروں لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -