سیڈ ڈیلرز اور پرائیویٹ سیڈ کمپنیاں سیڈ ترمیم ایکٹ 2015ء پر عمل یقینی بنائیں:محکمہ زراعت

سیڈ ڈیلرز اور پرائیویٹ سیڈ کمپنیاں سیڈ ترمیم ایکٹ 2015ء پر عمل یقینی ...

  

لاہور(پ ر)محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ بیجوں کا کاروبار کرنے والے تمام سیڈ ڈیلرز اور پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سیڈ ترمیم ایکٹ 2015ء کے نفاذ کے بعد ناقص اور غیر منظور شدہ اقسام کاکاروبار کرنا جرم ہے مروجہ قانون کے مطابق ضروری ہے کہ سیڈ ڈیلر /امپورٹر /سیڈ کمپنی باقاعدہ فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹرڈ ہو۔ مختلف فصلوں کے فروخت کے لیے رکھے جانے والے بیج باقاعدہ طور پر فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹرڈہوں۔مس برانڈڈ بیجوں کی قانونی طور پر فروخت کی ممانعت ہے ۔ کسی دوسری کمپنی کی قسم، بیگ یاپیکٹ میں اپنا بیج فروخت کرنا اور کسی کی رجسٹرڈ ورائٹی کو اپنا نام دے کر اپنی پیکنگ میں فروخت کرنامنع ہے ۔

اسی طرح کمپنی کے تھیلے پر پوری معلومات ڈیٹ آف پروڈکشن ، ایکسپائری ڈیٹ ، پیورٹی ، لاٹ نمبر ، ٹیسٹنگ ڈیٹ نہ ہو تو بھی فروخت منع ہے اور اگر ورائٹی کا نام کسی مشہور کمپنی کی ورائٹی کے نام سے ملتا جلتا ہو۔ کمپنی کا نام اور پورا ایڈریس نہ ہو، بیجو ں کو غلط لیبل کرنا ان پر غلط معلومات درج کرنا، بیجوں کے پیکٹ کے ایسے ڈیزائن بنانا جو کسی اور کمپنی کے لیبل سے ملتے جلتے ہوں کی بھی فروخت کرنا جرم ہے ۔

مزید :

کامرس -