ہاتھ سے بُنے اونی سوئیٹروں کی جگہ برانڈ ڈسوئیٹروں نے سنبھال لی

ہاتھ سے بُنے اونی سوئیٹروں کی جگہ برانڈ ڈسوئیٹروں نے سنبھال لی

موسم سرما میں اُونی سوئیٹر اب معدوم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے جیسے اشرافیہ کی پسند سے نکل کر یہ درمیانے اور نچلے طبقے کی ضرورت میں شامل ہوگیا ہے۔ کام کاج کرنے والے عام لوگ بغیر آستینوں والے سوئیٹروں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ بطورفیشن سوئیٹر پہننے والے اسے بازوؤں سمیت پہننا پسند کرتے ہیں۔ طلباء و طالبات میں یہ اس لئے بھی مقبول ہے کہ اُن کی یونیفارم کا ایک جزو ہے۔ دیکھا جائے تو اُونی سوئیٹروں کی تشہیر میں بھی اب پہلے جیسی شدت نہیں رہی۔

اُونی سوئیٹر کی بُنائی کبھی اہم معاشرتی سرگرمی ہوا کرتی تھی۔ ہاتھ سے اُونی سوئیٹر بننے والی لڑکی سگھڑ گردانی جاتی تھی۔ سلائی کڑھائی اور کروشیا کے ساتھ ساتھ خوبصورت ڈیزائنوں میں اُونی سوئیٹر بننا لڑکیوں اور عورتوں کی اضافی خوبی شمار ہوتی تھی۔ شادی بیاہ کی غرض سے لڑکی کے گھر وارد ہونے والی عورتوں کو بالخصوص سلائی کڑھائی اور بنائی کے نمونے دکھائے جاتے تھے جس سے لڑکی کی جمالیاتی حِس کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔ شادی شدہ خواتین اور گھر کی بڑی بوڑھیاں سردیوں میں پیدا ہونے والے بچوں کے لئے پہلے ہی سے اونی ٹوپیاں، سینہ بند، سوئیٹر اور پاجامے بُن کر تیار رکھتی تھیں۔ ان اونی کپڑوں کی گرمائش کا مقابلہ کوئی بازاری پہناوا نہ کرتا تھا۔

اب سوچتی ہوں تو وہ دن کیا بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی میں نے اپنے اردگرد لڑکیوں اور بڑی بوڑھیوں کو اُون سلائی میں مصروف دیکھا ہے۔ مختلف رنگوں کی اُون کے گولے ہمارے گھروں میں لڑھکتے پھرتے تھے۔ اون کے معیار اور سوئیٹر کی بُنت کے لحاظ سے سلائیوں کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ مختلف نمبروں کی سلائیاں استعمال کی جاتی تھیں۔ اُون سے بغیر آستینوں والے سوئیٹر، پوری آستینوں والے سوئیٹر اور کھلی جرسیاں جنہیں کوٹیاں بھی کہتے تھے، بُنی جاتی تھیں۔ مفلر، دستانے اور ٹوپیاں عمدہ اُون سے تیار کئے جاتے تھے۔ خواتین کے پاس وقت ہوتا تھا۔ تب وہ ایسی مصروفیات میں اُلجھی نہ رہتی تھیں جیسی مصروفیات میں آج کل انہوں نے خود کو اُلجھا رکھا ہے۔ خاندان کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں آپس میں میں گھتے ہوئے تھے۔ گھر کے ضروری کام کاج سے فارغ ہو کر لڑکیاں عورتیں اون سلائی لے کر بیٹھ جاتیں۔ ایک دوسرے سے صلاح مشورہ ہوتا، مختلف نمونے زیرِ بحث آتے اور بُنائی کرتے وقت سوئیٹروں کے گھروں کا حساب رکھا جاتا تھا۔ یوں تخلیق کے عمل سے گزرنے والے ہر سوئیٹر میں بُننے والے ہاتھوں کا لمس اور شوق اور چاہت کی گرمی بُنتی کا حصہ بن جاتی تھی۔ سوئیٹروں کے غیر مقبول ہونے کی ایک وجہ موسمیاتی تبدیلی بھی خیال کی جاتی ہے، اس کے علاوہ اون کا مہنگا ہونا جانا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ اُس شوق کا فقدان سمجھا جاتا ہے جس شوق سے سوئیٹر بُنا جاتا تھا۔

اونی سوئیٹروں کی ہاتھ سے بُنائی میں کمی واقع ہوئی تو اس کی جگہ برانڈڈ سوئیٹروں نے سنبھال لی۔ کمرشل تشہیری مہموں میں مشینی اونی سوئیٹر پہنے مرد و خاتون ماڈل ٹھٹھرتی سردیوں میں پہاڑوں پر برف باری سے لطف اندوز ہوتے دکھائے جاتے تھے۔ اگرچہ مشینی سوئیٹروں کا معیار بہتر تھا اور رنگ اور نمونے بھی عمدہ تھے تاہم اس گرمی سے وہ یقیناً محروم تھے جو انسانی انگلیوں سے، وقفے وقفے سے، دِنوں میں بُنے جاتے تھے اور جن میں پیار، شفقت اور لگن کی گرمی بدرجہ اتم موجود ہوتی تھی۔

بہر حال تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اس سماج میں جس میں ہم لوگ زندگی گزار رہے ہیں، بہت سی ایسی سرگرمیاں اور مصروفیتیں گم ہوتی جارہی ہیں جو ناگزیر مانی جاتی تھیں اور جو ہماری زندگی کا حُسن تھیں۔ شیشے کی اُس فصیل کے پار جسے ماضی کہتے ہیں، دیکھتی ہوں تو کتنے ہی خوش کُن مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ ایک منظر تو نگاہوں کے سامنے ہی رہتا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے اور دھوپ نکھری ہوئی ہے۔ صحن میں گھر کی خواتین بیٹھی ہیں۔ کچھ سبزیاں بنارہی ہیں اور کچھ اون سلائیاں سنبھالے سوئیٹر بُننے میں مصروف ہیں۔ بچوں اور بڑوں کے لئے سوئیٹر بُنے جارہے ہیں۔ خوش گپیاں ہورہی ہیں۔ فضا میں اپنائیت کا ایسا رس گُھلا ہوا ہے کہ روح شاداں و فرحاں ہوتی جاتی ہے۔ اب ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ وقت کو پَر لگ گئے ہیں لہٰذا لوگوں کے پاس پَل بھرزائد رُکتا بھی نہیں ہے اور لوگ ہیں کہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں، راحتوں اور من پسند سرگرمیوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2