سال 2017 میں دہشت گردوں کو دندان شکن جواب دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے شہادت کو سلام

سال 2017 میں دہشت گردوں کو دندان شکن جواب دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے شہادت ...

سال 2017:شدت پسندی کا شکار ہونے والے سیکیورٹی اہلکار

رواں سال جامِ شہادت نوش کرنے والوں میں سیکیورٹی اہلکاروں تفصیلی رپورٹ ذیل میں ہے

ایس ایس پی زاہد گوندل شہید

(13 فروری 2017)

شہید ایس ایس پی زاہد گوندل

13 فروری کو پنجاب اسمبلی کے سامنے ہونے والے خودکش حملے میں جہاں ڈی آئی جی احمد مبین جیسے افسر شہید ہوئے وہیں ان کے ساتھی ایس ایس پی زاہد گوندل بھی دہشت گردوں کا نشانہ بنے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ایس ایس پی زاہد گوندل کا شمار بھی اچھی شہرت کے حامل پولیس افسران میں ہوتا تھا۔وہ ڈی پی او راجن پور بھی تعینات رہے اور علاقے میں موجود ڈاکوؤں کے خلاف فوج اور رینجرز کے ساتھ آپریشن کا حصہ رہے۔شہید ایس ایس پی زاہد گوندل کے والد زرعی ترقیاتی بینک میں جوائنٹ ڈائریکٹر تھے۔شہید پولیس افسر کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور دو بیٹے شامل ہیں۔اس حملے کی زمداری بھی جماعت الاحرار نے قبول کرلی۔

ڈی آئی جی احمد مبین شہید

(13 فروری 2017)

13 فروری کو لاہور کے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے فارمامینوفیکچرز اور کیمٹس کے دھرنے کے دوران خودکش دھماکا ہوا جس میں 13 قیمتیں جانیں ضائع ہوئیں۔

دہشت گرد نے اس دھرنے میں موجود پولیس کے اعلیٰ افسر ڈی آئی جی احمد مبین کو نشانہ بنایا اور وہ خودکش حملے میں شہید ہوگئے۔اس حملے کی ذمداری شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کرلی اور اس کے ساتھ ہی انہوں لال مسجد اسلام آباد میں شھید ہونے والے مولانا عبدالرشید غازی کے نام سے تیزترین اپریشن کا اعلان کیا اور پورے ملک میں دھشت گردی کے ایک نئے لہر نے جنم لیا پنجاب پولیس کے چیف ٹریفک پولیس آفیسر کے عہدے پر کام کرنے والے ڈپٹی انسپکٹر جنرل احمد مبین پاک فوج کے ریٹائرڈ کیپٹن تھے۔وہ 1973 میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے، پاک فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد 1996 میں پولیس سروس جوائن کی اور اے ایس پی کے عہدے پر بھرتی ہوئے۔

شہید احمد مبین پولیس میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔وہ ڈی پی او قصور، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کوئٹہ، ایس پی ماڈل ٹاؤن لاہور، ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور، ڈی پی او پاک کپتن، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن بلوچستان اور چیف ٹریفک آفیسر لاہور تعینات رہے۔شہید ڈی آئی جی احمد مبین کا شمار فرض شناس افسران میں ہوتا تھا اور وہ بہترین شہرت کے حامل تھے۔

خاصہ دار فورس کے جوان شہید

(15 فروری 2017)

15 فروری کو مہمند ایجنسی میں خودکش حملہ ہوا جس میں مجموعی طور پر 5 افراد شہید ہوئے جن میں تین خاصہ دار فورس کے اہلکار بھی شامل تھے۔خودکش حملہ آور نے پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر میں گھسنے کی کوشش کی تو گیٹ پر موجود اہلکاروں نے اسے روکا جس پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور اس کے نتیجے میں تین اہلکار شہید ہوگئے۔ حملے کی ذمداری جماعت الاحرار نے قبول کرلی

کیپٹن طحہٰ شہید

(16 فروری 2017)

16 فروی کو بلوچستان کے ضلع آواران میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کے جواں سال افسر کیپٹن طحہٰ شہید ہوگئے۔تخریب کاری کی اس کارروائی میں کیپٹن طحہٰ کے ساتھ پاک فوج کے دو سپاہی کامران ستی اور مہتر جان نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔یہ حملہ کالعدم تنظم جماعت الاحرار نے کیا تھا

ڈی آئی خان حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت

(17 فروری 2017)

17 فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے حملے میں 5 افراد شہید ہوئے جن میں 4 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ڈیرہ اسماعیل خان کیعلاقے مشن موڑ پر دہشت گردوں نے پولیس موبائل پر فائرنگ کی جس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) رحمت اللہ، سپاہی راشد، نعمان اور ڈرائیور ارشاد شہید ہوگئے۔ یہ حملہ بھی جماعت الاحرار نے کیا تھا

مہمند ایجنسی میں حملہ

(6 مارچ 2017)

6 مارچ کو مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب افغانستان سے دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس میں پاک فوج کے 5 اہلکار شہید ہوگئے۔ان شہدا میں ثنائاللہ، صفدر، الطاف، نیک محمد اور انور شامل تھے۔ حملہ کالعدم جماعت الاحرار نے انجام دیا تھا

ڈی جی خان میں رینجرز اہلکار شہید

(14 اپریل 2017)

14 اپریل کے روز پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے علاقے بستی دادوانی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیس آپریشن کیا گیا جو رینجرز، سی ٹی ڈی اور خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے کیا۔آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ دہشت گردوں کے اس حملے پر رینجرز کے جوانوں نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس میں 9 دہشتگرد مارے گئے۔لیکن دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے رینجرز کے 3 جوان شہید ہوگئے۔ ان شہدا میں حوالدار آصف، سپاہی آفتاب اور سپاہی عزیز اللہ شامل تھے۔

کوئٹہ میں خودکش حملہ

(23 جون 2017)

23 جون کو کوئٹہ کے علاقے گلستان روڈ پر کار سوار خودکش حملہ آور نے آئی جی کے دفتر کے قریب خودکش حملہ کیا۔اس حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 14 افراد شہید ہوئے جن میں ڈیوٹی پر مامور 7 پولیس اہلکار بھی شہید ہوگئے۔پولیس کے ان شہدا میں ساجد علی، لعل خان، غنی خان، فیصل خان،غلام شبیر، کاشف اور نعیم شامل تھے۔اس حملے کی ذمداری کالعدم جماعت الاحرار نے قبول کرلی

ڈی پی او قلعہ عبداللہ شہید

(10 جولائی 2017)

10 جولائی کے روز بلوچستان کے ضلع چمن میں پولیس کے ایک اور اعلیٰ افسر کو نشانہ بنایا گیا۔بوغرہ روڈ پر موٹرسائیکل سوار خودکش حملہ آور نے ڈی پی او قلعہ عبداللہ ساجد مہمند کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی گاڑی میں سوار تھے۔ حملہ الاحرار گروپ نے کیا تھا ۔حملہ آور نے اپنی موٹرسائیکل پولیس افسر کی گاڑی سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے میں ڈی پی او ساجد مہمند اور ان کا محافظ شہید ہوگئے۔شہید پولیس افسر ساجد مہمند 1964 میں پشاور میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔

انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا اور 1992 میں پولیس میں بطور ڈی ایس پی شمولیت اختیار کی۔ساجد مہمند ڈی پی او کرک، شانگلہ، نوشہرہ، ایس پی انویسٹی گیشن، اے آئی جی لاجسٹک برانچ بھی رہے۔ ان کا شمار اچھے اور فرض شناس افسران میں کیا جاتا تھا۔

لاہور فیروز پور روڈ پر پولیس پر حملہ

(24 جولائی 2017)

24 جولائی کے روز دہشت گردوں نے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں پولیس کو نشانے پر لیا۔دہشت گردوں نے ارفع کریم ٹاور کے قریب لگے پولیس کے کیمپ کو نشانہ بنایا اور خودکش حملہ کیا۔پولیس اہلکاروں کا یہ کیمپ سبزی منڈی میں آپریشن کے لیے لگایا گیا تھا لیکن خودکش حملہ آور نے اسے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 26 افراد شہید ہوئے جن میں 9 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔پولیس کے شہدا میں ایک سب انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) اور 7 سپاہی شامل تھے۔یہ حملہ تحریک طالبان فضل اللہ گروپ نے کیا تھا

میجر سلمان علی شہید

(9 اگست 2017)

9 اگست کے روز خیبرپختونخوا کے علاقے اپر دیر میں آپریشن کے دوران پاک افغان بارڈر کے قریب دہشت گردوں نے پاک فوج کے اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس میں پاک فوج کے جواں سال میجر سلمان علی اور 3 اہلکار بھی شہید ہوگئے۔تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی زمداری قبول کرلی ۔اس آپریشن میں پاک فوج کے میجر سلمان علی کے علاوہ حوالدار غلام نذیر، حوالدار اختر اور سپاہی عبدالکریم شامل ہیں۔شہید میجر سلمان علی انٹیلی جنس ایجنسی میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

پشین خودکش حملہ

(13 اگست 2017)

13 اگست کو دہشت گردوں نے بلوچستان کے ضلع پشین میں پاک فوج کے ٹرک کو نشانہ بنایا۔خودکش حملہ آور نے پاک فوج کے اہلکاروں کو لے جانے والے ٹرک کو نشانہ بنایا جس میں مجموعی طور پر15 افراد شہید ہوگئے۔ان شہدا میں پاک فوج کے 8 اہلکار بھی شامل تھے۔

لیفٹیننٹ ارسلان عالم شہید

(23 ستمبر 2017)

23 ستمبر کے روز پاک فوج کے ایک اور جواں سال افسر نے وطن پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔خیبرایجنسی کے علاقے راجگال میں پاک فوج کی چیک پوسٹ پر بطور کمانڈنگ آفیسر ذمہ داریاں انجام دینے والے 22 سالہ لیفٹیننٹ ارسلان عالم دہشت گردوں سے مقابلے میں شہید ہوگئے۔حملے کی ذمداری لشکر اسلام نے قبول کرلی

پاک فوج کے صوبیدار شہید (3 اکتوبر 2017)

3 اکتوبر کے روز راجگال میں ایک بار پھر افغانستان سے دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس میں پاک فوج کے صوبیدار اظہر علی شہید ہوگئے۔اظہر علی کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ یہ حملہ بھی لشکر اسلام نے کیا تھا

درگاہ فتح پور حملہ

(5 اکتوبر 2017)

5 اکتوبر کے روز دہشت گردوں نے آسان ہدف ڈھونڈا اور بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں ایک درگاہ کو نشانہ بنایا۔درگاہ فتح پور پر خودکش حملہ آور نے حملہ کیا جس میں مجموعی طور پر 20 افراد شہید ہوئے جن میں 2 پولیس اہلکار بھی فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوئے۔درگاہ کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے خودکش حملہ آور کو اندر آنے سے روکنے کی کوشش کی جس پر اس نے خودکو گیٹ پر ہی دھماکے سے اڑالیا۔اس حملے میں پولیس کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) اور سپاہی شہید ہوا۔حملے کی ذمداری داعش نے قبول کرلی

کوئٹہ میں پولیس اہلکار شہید

(13 اکتوبر 2017)

13 اکتوبر کو کوئٹہ کے فقیر محمد روڈ پر پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا جہاں دہشت گردوں نے ڈیوٹی پر مامور موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار محمد علی شہید ہوگیا۔

کوئٹہ میں فورسز پر حملہ

(18 اکتوبر 2017)

18 اکتوبر کے روز کوئٹہ میں دہشت گردوں نے فورسز کو نشانے پر لیا اور سریاب کے علاقے میں خودکش حملہ آور نے ایلیٹ فورس کے جوانوں کو لے جانے والے ٹرک کو نشانہ بنایا۔

دہشت گردی کی اس کارروائی میں 8 افراد شہید ہوئے جن میں 6 پولیس اہلکار شامل تھے۔حملہ لشکر جھنگوی العالمی نے انجام دیا تھا

پاک فوج کے سپاہی کی شہادت

(9 نومبر 2017)

9 نومبر کو صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے خیبرایجنسی میں راجگال کے مقام پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں نے سرحد پار سے فائرنگ کی۔دہشت گردوں نے نئی تعمیر شدہ چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس سے پاک فوج کے سپاہی محمد الیاس شہید ہوگئے۔ حملہ لشکر اسلام نامی شدت پسند تنظیم نے کیا تھا ۔

ڈی آئی جی حامد شکیل شہید

(9 نومبر 2017)

9 نومبر کو کوئٹہ میں پولیس کے اعلیٰ افسر نے جام شہادت نوش کیا۔ڈی آئی جی موٹر ٹرانسپورٹ اینڈ ٹیلی کمیونیکشن حامد شکیل اپنے گھر سے دفتر کے لیے نکلے تو ایئرپورٹ روڈ پر خودکش حملہ آور نے دھماکا کردیا جس کے نتیجے میں پولیس کے اعلیٰ افسر حامد شکیل شہید ہوگئے۔شہید ڈی آئی جی حامد شکیل بلوچستان کے ضلع خضدار کے رہائشی تھے، انہوں نے 1988 میں پولیس سروس جوائن کی، ان کے والد پاک فوج میں افسر رہے تھے۔شہید حامد شکیل کا شمار باصلاحیت اور فرض شناس افسران میں کیا جاتا تھا۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ اور تین بیٹے شامل ہیں۔یہ حملہ تحریک طالبان کے سوات گروپ نے کیا تھا

کیپٹن جنید حفیظ شہید

(13 نومبر 2017)

13 نومبر کے روز دہشت گردوں نے باجوڑ ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب سرحد پار سے فائرنگ کی جس میں پاک فوج کے کیپٹن جنید حفیظ اور سپاہی رہام شہید ہوگئے۔

باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے اس حملے میں پاک فوج کے 4 جوان زخمی بھی ہوئے۔اس حملے کی ذمداری تحریک طالبان پاکستان مولانا فضل اللہ گروپ نے قبول کرلی

ایس پی محمد الیاس شہید

(15 نومبر 2017)

کوئٹہ میں پولیس افسران کو نشانہ بنانے کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ 15 نومبر کو پھر پولیس کے اعلیٰ افسر کو دہشت گردوں نے نشانے پر رکھا۔کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں دہشت گردوں نے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ جانے والے ایس پی انویسٹی گیشن محمد الیاس پر حملہ کردیا۔محمد الیاس کی گاڑی پر گولیاں کی بوچھاڑ کردی گئی جس میں ایس پی محمد الیاس، ان کی اہلیہ، جواں سال بیٹا اور پوتا شہید ہوگئے۔تحریک طالبان پاکستان نے حملی کی ذمدرای قبول کرلی

میجر اسحاق شہید (22 نومبر 2017)

22 نومبر کو قوم کے ایک اور سپوت پاک فوج کے جواں سال میجر محمد اسحاق مادر وطن پر قربان ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں آپریشن کے دوران میجر اسحاق نے جام شہادت نوش کیا۔ 28 سالہ میجر اسحاق کا تعلق خوشاب سے تھا اور وہ حافظ قرآن تھے۔ شہید میجر اسحاق کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور ایک سال کا بچہ شامل ہے۔ حملے کی ذمداری کالعدم جماعت الاحرار نے قبول کرلی

ایڈیشنل آئی جی اشرف نور شہید

(24 نومبر 2017)

24 نومبر کی صبح دہشت گردوں نے پشاور میں کارروائی کی جہاں پولیس کے اعلیٰ افسر کو نشانہ بنایا گیا۔ایڈیشنل آئی جی اشرف نور گھر سے دفتر کے لیے نکلے تو حیات آباد کے علاقے میں موٹرسائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے ان پر حملہ کردیا۔خودکش حملے میں ایڈیشنل آئی جی کی گاڑی مکمل تباہ ہوگئی اور وہ خالق حقیقی سے جاملے۔اشرف نور خیبرپختونخوا پولیس کے سینئر افسر تھے، ان کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔شہید اشرف نور نے زراعت میں ایم ایس سی کر رکھا تھا اور انہوں نے 1989 میں پولیس سروس جوان کی۔شہید محمد اشرف نور کی پہلی تعیناتی کہوٹہ میں بطور ایس ڈی پی او ہوئی اور وہ ایس پی ٹریفک، ایس پی ہیڈ کوارٹر ایبٹ آباد، ڈی پی او چترال اور ڈی پی او کوہستان کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔

پاک فوج کا سپاہی شہید (یکم دسمبر2017)

یکم سمبر کے روز پاک فوج کا ایک اور سپاہی تخریب کاری کی زد میں آگیا۔مہمند ایجنسی میں قائم پاک فوج کی چیک پوسٹ پر تعینات سپاہی اپنی پوسٹ کے لیے پانی لے کر جارہا تھا کہ راستے میں بارودی مواد پھٹنے سے اس کی زد میں آکر شہید ہوگیا۔حملہ شدت پسند تنظم جماعت الاحرار نے کیا تھا

سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید شہید

(12 دسمبر 2017)

12 دسمبر کے روز قوم کے ایک اور بیٹے نے ارضِ پاک کو اپنے لہو سے سیراب کردیا۔شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے پاک فوج کے نوجوان افسر سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید اور ان کے ہمراہ سپاہی بشارت شہید ہوگئے۔21 سال کے نوجوان سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالمعید کا تعلق بورے والا کے علاقے وہاڑی سے تھا اور انہوں نے حال ہی میں پی ایم اے کورس پاس کیا تھا۔

شہید ہونے والے 21 سالہ دوسرے جوان سپاہی بشارت کا تعلق گلگت کے گاؤں دینور سے تھا۔یہ حملہ تحریک طالبان جماعت الاحرار نے کیا تھا

ایف سی اہلکاروں کی شہادت

(22 دسمبر 2017)

22 دسمبرکو مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں نے افغانستان سے فائرنگ کی جس میں تین ایف سی اہلکار شہید ہوگئے۔ایف سی اہلکار کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ شنکڑئی کے علاقے میں چوکی بنانے میں مصروف تھے۔دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ایف سی اہلکاروں میں سپاہی حق نواز، لانس نائیک ارشاد حسین اور حوالدار منیر خان شامل تھے۔اس حملے کی ذمداری بھی کالعدم جماعت الاحرار نے قبول کرلی

ایف سی اہلکاروں کی شہادت

(24 دسمبر 2017)

بارودی سرنگ کے دھماکے میں شہید ہونے والے ایف سی اہلکارمہمند ایجنسی میں ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے ٹھیک ایک روز بعد ایک بار پھر ایف سی کے تین اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔اس حملے کی ذمداری بھی جماعت الاحرار نے قبول کرلی

شمالی وزیرسان میں ایف سی اھلکاروں کی شھادت

(24 دسمبر 2017)

24 دسمبر کو شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین ایف سی اہلکار شہید ہوگئے۔شمالی وزیرستان میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم معمول کے سرچ آپریشن پر تھی کہ اس دوران بارودی مواد کا دھماکا ہوا جس میں تین ایف سی اہلکار عنایت اللہ خٹک، محسن علی طوری اور سپاہی صفت اللہ شہید ہوگئے۔اس سال پاک فوج پر سخت ترین حملے ہوئے اور دوسرے سالوں کے بنسبت ان حملوں میں عام لوگوں کا کم سے کم نقصان ہوا اور دھشت گردوں نے صرف سیکیورٹی اداروں کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی۔سال کے ابتدا سے سخت ترین شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے غازی کے نام سے دھشت گرد کاروائیوں کا اعلان کیا تھا جو سال کے آخر تک جاری رہا سب سے زیادہ او خطرناک کارروائیاں جماعت الاحرار ہی نے کئے تاہم دیگر کء تنظیموں نے بھی ان کا ساتھ دیا

مزید : ایڈیشن 1