خالص دودھ ملنا محال، 70فیصد جعلی دودھ مارکیٹ میں فروخت ہوتا ہے

خالص دودھ ملنا محال، 70فیصد جعلی دودھ مارکیٹ میں فروخت ہوتا ہے

پاکستان دنیا کا ایک زرعی اور وسیع رقبے والا ملک ہے یہاں پر کاشت ہونیوالی دیسی سبزیاں اور دودھ دنیا بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتی مگر گزشتہ دو دہائیوں سے جب سے انسان زر کی دوڑ میں شامل ہوا ہے یہ صورتحال بڑی تیزی کیساتھ تبدیل ہوتی جا رہی ہے زر کی اس دوڑ نے پورے معاشرتی نظام کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے قبل از وقت کھیتوں میں کیمیکل والی سبزیاں اور جانوروں کو ٹیکہ لگا کر دودھ حاصل کرنے کے علاوہ ولایتی مرغیوں کا دھڑا دھڑ استعمال جو پری میچور یعنی قبل از وقت موٹی اور جوان ہو جاتی ہیں انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کر رہی ہیں اس کاروبارسے وابستہ لوگوں نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی جبکہ محکمہ حیوانات کے ماہرین کے مطابق برائلر مرغی کا انسانی جسم کو ماسوائے پیٹ بھرنے کے کوئی فائدہ نہیں اس کے مقابلے میں دیسی مرغی کو جوان ہوتے ہوئے چھ ماہ کا عرصہ لگتا ہے اور اسکا گوشت گلنے میں مٹن جتنا وقت لیتا ہے اس میں طاقت بھی پائی جاتی ہے مگر جلد سے جلد امیر بننے کی اس دوڑ میں برائلر مرغی کے علاوہ گوالوں نے جانوروں کو ٹیکے لگا کر دودھ حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جانوروں میں مصنوعی طریقے سے ہارمونز پیدا کرنے کے لیے (آر بی ایس پی ) بوسٹن کا ٹیکہ لگا یا جاتا ہے جبکہ انسانی جسم خود ہارمونز پیدا کرتا ہے اور وہ اپنے وقت پر ہی جوان ہوتا ہے دودھ قبل از وقت لینے کیلئے سوما ٹیکس کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے جو اس وقت ہر گوالہ استعمال کر رہا ہے جب جی چاہتا ہے بھینس کو ٹیکہ لگاتے ہیں اور چند ہی لمحوں میں اسکے جسم سے دودھ نکال لیا جاتا ہے وگرنہ بھینس کے دودھ دینے کے وقت مقرر ہیں اس سے قبل کھل بنولہ اور دیگر چارہ جات سے نہ صرف بھینس کی صحت بنتی تھی بلکہ اسکے مقرر کردہ وقت پر حاصل کیا جانیوالا دودھ بھی انسانی صحت کا ضامن تھااب اصلی دودھ تو ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر راتوں رات امیر بننے کی خواہش نے انسان کو ایسے طریقے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس کے تحت وہ نت نئے تجربے کرتا رہتا ہے ان تجربات میں جعلی دودھ بنانے میں کامیابی سرفہرست ہے جو اس وقت پاکستان کے گنجان ترین شہروں کے علاوہ اب چھوٹے شہروں میں بھی وسیع پیمانے پر فروخت ہو رہا ہے جعلی دودھ میں استعمال ہونیوالی اشیا میں یوریا، فارمولین، نشاستہ مایا،یوریا، کوکنگ آئل یا ڈالڈا گھی، میگنیشیئم سلفیٹ، ملک پوڈر، دودھ کی پی ایچ اساس اورتیزاب میں توازن برقرار رکھنے کیلئے بال صفا پوڈر استعمال کیا جاتا ہے بورک ایسڈ اور عام سادہ پانی ،پسے سنگھاڑے، کیلشیم ہائڈرو آکسائڈ، سکم ملک پاؤڈر اورپینٹ بھی ڈالاجاتا ہے جعلساز کی کوشش ہوتی ہے کہ لیکٹو میٹر ملاوٹی اجزا نہ پکڑ سکیں لیکٹو میٹر دودھ کا گاڑھا پن چیک کرنے میں کام آتا ہے جبکہ خالص دودھ میں ملاوٹ کرنے والی اشیا میں چینی،نمک،بینزوک ایسڈ،سیلی سائلک ایسڈکاربونیٹس اور بائی کاربونیٹس اورایمونیم سلفیٹ بھی شامل کئے جاتے ہیں جعلی دودھ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں تیزابیت،قے، پیچش، فود پوائزننگ، بچوں کے دانتوں کا خراب ہونا، گروتھ کم ہونا، نظر کا کمزور ہونا سرفہرست ہیں دیگر ایسی بیماریاں بھی لاحق ہوجاتی ہیں جو ایسے ہی دودھ کے مسلسل استعمال سے آگے بڑھ کر کینسر ،ہائیپر ٹینشن، کڈنی ،لیور، شوگر، لبلبے کی بیماریاں پیدا کرتی ہیں جعلی دودھ ٹیسٹ کرنے کے آلات پنجاب میں محکمہ لائیواسٹاک کے تحصیل سطح پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر ہوتے ہیں جن کے پاس ملک سمپل کٹ یا ٹیسٹنگ باکس ہوتا ہے اس باکس میں مختلف کیمیکلز والی ٹیوب ہوتی ہیں جن سے دودھ ٹیسٹ کرنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے،اس ٹیسٹنگ سیٹ سے دودھ میں موجود تمام غیر صحت مند اجزا چیک کر لئے جاتے ہیں لیکن بال صفا پوڈر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس سے بھی ٹریس نہیں ہو پاتادوسرا فارمولے میں یوریا، بال صفا پوڈر، بورک ایسڈ، فارملین، سوڈیم کلورائیڈ،فل کریم ، ہاف کریم پوڈر، چاول کا پوڈر جو دیہی بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے اس طریقہ کار کے تحت ایک کلو پوڈر 20 کلوعام پانی ،ایک پاو کوکنگ آئل،مکس کر کے ، یوریا اور فارملین ملا ئی جاتی ہے ایک من دودھ گوالے سے لے کر کریم نکال لی اب جوکریم کے بغیر والا دودھ بچ گیا اس میں یہ جعلی دودھ ملایا جاتا ہے اس کے استعمال سے جگر معدہ کیلئے تباہی ، یوریا کی وجہ انتڑویوں کی اندرونی جھلی میوکس ممبرین کو تباہ کردیتی ہے یوں معدے اور جگر کا کینسر ہوتا ہے پاکستان میں دودھ کی سالانہ پیداوار 40ارب لیٹر کے قریب ہے 65لاکھ سے زائد مال مویشیوں کے سے 10لاکھ سے زائد خاندانوں کا پیٹ پلتا ہے قومی جی ڈی پی میں اس کاروبار کا حصہ 11.30 فیصد ہے اس کے مقابلے میں بھارت میں سالانہ دودھ کی پیداوار1کھرب 46ارب لیٹر امریکا میں سالانہ 94ارب لیٹر چین میں سالانہ دودھ کی پیداوار 45ارب لیٹر برازیل میں 36ارب لیٹر جرمنی میں 30ارب لیٹر روس میں 24ارب لیٹر دودھ سالانہ کی بنیاد پر حاصل کیا جا رہا ہے پاکستان میں قدرتی دودھ میں ملاوٹ کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں پہلے دودھ کو خراب ہونے سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے ہائیڈروجن پیرا آکسائڈ، فارملین، پنسلین،بال صفا پاوڈر، بوریکس ملایاجاتا تھا دودھ دیر تک ٹھنڈا رکھنے کیلئے اس میں برف ‘ یوریا کھاد‘ ایمونیم سلفیٹ ،کھانے کا سوڈا (بیکنگ سوڈا) اور کاسٹک سوڈا ملایا جاتا ہے جبکہ جعلی دودھ بنانے کا ایک فارمولہ جو زیادہ مقبول اس میں ایک لٹر دودھ، ایک لٹر کوکنگ آئل ، 10 کلو پانی ،ایک کلو خشک دودھ، سی ایم سی پوڈر،نمک، یوریا، ڈیٹر جنٹ استعمال ہوتا ہے اس دودھ کو بنانے کیلئے کوکنگ آئل میں اورملک پوڈرکو 10کلو پانی میں ملا کر دو الگ الگ محلول بنائے جاتے ہیں پھر دونوں آمیزوں کو آپس میں ملا کر اسے گاڑھا کرنے کیلئے اس میں Carboxy methyl cellulose سی ایم سی نامی ایک کیمیکل پاوڈر ڈالا جاتا ہے دودھ کا قدرتی نمک ایل آر پورا کرنے کیلئے نمک ، دودھ کی سطح پر چکنائی کے ڈاٹس ختم کرنے کوکنگ آئل کومکس کرنے کیلئے یوریاجبکہ جھاگ پیدا کرنے کیلئے ڈیٹرجنٹ ڈالا جاتا ہے دودھ کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے اور پھٹنے سے بچانے کیلئے اس میں مائع ہائیڈورجن ملائی جاتی ہے لیکن اگر دودھ پھٹ جائے تو اس میں کاسٹک سوڈا ڈالا جاتا ہے جو پھٹے ہوئے خراب دودھ کو واپس دودھ میں بدل دیتا ہے اس طرح یہ انتہائی مضر صحت دودھ بن جاتا ہے بیف اور مٹن کے قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا نعم البدل یعنی مرغی کااستعمال شروع کردیاگیالیکن امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بازار میں دستیاب مرغی کا گوشت متعدد بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے اوراس میں طرح طرح کے جراثیم موجود ہیں سیلمونیلا یہ ایک بیکٹیریا ہے جو کہ متعدد جگہوں پر دستیاب مرغی کے گوشت میں پایا گیا ہے یہ بیکٹیریا سارے جسم پر خطرناک سوزش پیدا کرسکتا ہے اس سے بچنے کیلئے گوشت کو بلند درجہ حرارت پر پکانا چاہیے مرغی کے گوشت میں سیلمونیلا سے بھی خطرناک جراثیم ای کولی بکثرت پایا گیا ہے اس کی وجہ سے پیشاب کی نالی کا انفیکشن پیدا ہوسکتا ہے مرغیوں کی خوراک میں خطرناک دھات آرسینک استعمال کی جاتی ہے تاکہ گوشت کا وزن بڑھایا جاسکے یہ دھات جان لیوا بھی ہوسکتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا موجب ہے مرغیوں کی خوراک میں اینٹی بائیوٹک اجزاء کا بھاری مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا گوشت کھانے والوں پر اینٹی بائیوٹک ادویات کا اثر نہیں ہوتا چکن نگٹس میں چربی اور جلد اور اندرونی اعضامیں پائی جانے والی خون کی نالیوں کا انکشاف ہوا ہے ان کو کھانے سے خون کی بیماری انیمیا اور جسم کی رگیں پھولنے کا مسئلہ پیش آسکتا ہے اب کچھ عرصہ سے مرغیوں میں برڈ فلو کی خبریں بھی عام ہیں اور یہ وائرس انسانی صحت کیلئے اس قدر خطرناک ہے کہ اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے اب پارک ویران اور ہسپتال آباد ہوتے جا رہے ہیں ایسی ایسی بیماریاں دریافت ہو رہی ہیں جس کا ماضی میں کبھی ذکر تک نہیں سنا گیا پاکستان میں ملاوٹ شدہ خوراک ‘ دودھ ‘ کی وجہ سے اوسطا عمر بھی کم ہوتی جا رہی ہے طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں اب اوسطا عمر پچاس کے لگ بھگ رہ گئی ہے پہلے لوگوں کی عمر سو سے زائد ہوتی تھی انسان خود ہی اپنی موت کا سامان پیدا کرتا ہے وقتی مفاد کیلئے یہ اپنے آپ سے بھی کھیلنے سے باز نہیں رہتے اب یہ امید پیدا ہو چکی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان میں ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش کے علاوہ پری میچور جانوروں کے گوشت اور ٹیکے لگا کر دودھ حاصل کرنے کی روایات ختم ہو جائیں گی ۔

مزید : ایڈیشن 1