میاں محمد شفیع اورسر سید محمد سعداللہ کیبرسی،ایوان کارکنان میں خصوصی تقریب

میاں محمد شفیع اورسر سید محمد سعداللہ کیبرسی،ایوان کارکنان میں خصوصی تقریب

لاہور(جنرل رپورٹر)مسلمانان برصغیر نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں آزاد وطن کے حصول کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دیا۔ زندہ قومیں اپنے مشاہیر کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں ۔ آج انہی مشاہیر کی قربانیوں کی بدولت ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان‘ لاہور میں تحریک آزادی کے رہنما ؤں میاں محمد شفیع کی 86ویں اورسر سید محمد سعداللہ کی 63ویں برسی کے سلسلے میں نئی نسل کو ان کی حیات و خدمات کے متعلق آگاہ کرنے کیلئے منعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔اس لیکچر کااہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض سید عابد حسین شاہ نے انجام دیے۔پروفیسر سعدیہ سعید نے کہا کہ ممتاز مسلمان رہنما سر میاں محمد شفیع 1869ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ مڈل کاامتحان باغبانپورہ کے سکول سے ، میڑک مشن ہائی سکول رنگ محل اور ایف سی کالج لاہور سے ایف اے کرکے اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ لندن سے بار ایٹ لاء کیا۔ میاں شاہ دین اور میاں محمد شفیع چچا زاد بھائی تھے۔ انہوں نے لندن میں انجمن اسلامیہ بنائی جس کے پہلے صدر عبد الرحیم اور نائب صدر میاں شاہ دین تھے۔ 1890ء میں میاں محمد شفیع اس انجمن کے صدر بنائے گئے ۔ 1892ء میں وطن واپس آکر میاں محمد شفیع نے ہوشیار پور میں وکالت کی اور چند سال بعد لاہور آکرچیف کورٹ میں وکالت کرنے لگے۔ 1931ء میں دوسری گول میز کانفرنس لندن میں شرکت کی اورجرأت مندی کے ساتھ مسلمانوں کے مطالبات پیش کئے۔ لندن واپسی پرسخت علیل ہوگئے اور 7جنوری 1932ء کو انتقال کرگئے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1