کراچی میں اب بھی قبضہ مافیا کا راج ہے ، عارف علوی

کراچی میں اب بھی قبضہ مافیا کا راج ہے ، عارف علوی

کراچی(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کراچی میں اب بھی قبضہ مافیا کا راج چل رہا ہے۔ماضی میں سیاسی جماعتوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چائنہ کٹنگ کرکے پلاٹ بیچے اور اب حکومتی اداروں کے افسران نے بھی پلاٹوں پر قبضے شروع کردئیے ہیں۔ ڈی ایچ اے کے افسر کی جانب سے قیوم آباد میں 30ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبضہ مافیا نے کراچی شہر میں کوئی پارک، میدان، سڑک یا سرکاری پلاٹ نہیں چھوڑا۔ ہر جگہ قبضے کرکے بلڈنگ اور شاپنگ مال بنا لیے ہیں۔ حکومت کراچی شہر میں قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کرنے میں بے بس نظر آتی ہے۔ قبضہ مافیا کے خلاف شہر کراچی میں کارروائی نہ ہونا حکومت سندھ کے کرپٹ وزراء اور افسر شاہی کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ قیوم آباد میں ڈی ایچ اے کی جانب سے30ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے اور دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی جس کے گرنے سے معصوم بچہ جاں بحق ہوا جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ باتیں انہوں نے قیوم آباد میں جاں بحق ہونے والے بچے کے لواحقین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ جناح ہسپتال پہنچے جہاں سے بچے کی میت بچے کے اہل خانہ کے حوالے کروائی۔ ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ بچے کے لواحقین اور اہلیان محلہ کے احتجاج پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ قبضہ مافیا اور حکومتی اہلکار و عہدیداران نے شہر کے کونے کونے کو بیچ کر اربوں کھربوں روپے کما لیے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان کے خلاف آج تک کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ امیر، امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ہم وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دیوار گرنے کے نتیجے میں بچے کے جاں بحق ہونے کا فوری طور پر نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا حکم دیں۔

عارف علوی

مزید : علاقائی