لو میرج میں اضافہ ، گزشتہ سال 50فیصد لڑکیاں اپنی مرضی سے پیا گھر سدھا ر گئیں

لو میرج میں اضافہ ، گزشتہ سال 50فیصد لڑکیاں اپنی مرضی سے پیا گھر سدھا ر گئیں

  

لاہور(نامہ نگار)والدین کی رضامندی کے بغیر پسند کی شادیوں میں اضافہ، گزشتہ سال تقریبا50فیصدلڑکیاں اپنی مرضی سے شادی کے بعد والدین کا گھرچھوڑ کرپیا کاگھر سدھار گئیں،جس پرمختلف تھانوں میں والدین کی جانب سے اغوا ء اور حدود کے تحت 70مقدمات درج بھی درج کرائے گئے ۔تفصیلات کے مطابق لاہور کی ماتحت عدالتوں میں 2017ء میں والدین کی رضامندی کے بغیر پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں کے خلاف ان کے والدین کی طرف سے حبس بے جا کی متعدددرخواستیں دائرکی گئیں ،جن لڑکیوں کے والدین نے بازیابی کے لئے درخواستیں دیں ان میں سے 2017ء میں تقریباً100لڑکیاں عدالتوں میں والدین کے خلاف بیانات دے کراپنے شوہروں کے ساتھ چلی گئیں جبکہ20 لڑکیوں نے بازیابی کے بعد والدین کے حق میں بیان دے کران کے ساتھ جانا پسند کیا۔واضح رہے کہ2017ء میں کچہریوں میں کورٹ میرج کرانے کا جھانسہ دے ک ناپختہ ذہن رکھنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا گیا جن میں سے اکثر نکاح سول عدالتوں میں جا کر مبینہ طور پرجعلی نکلے ہیں،ان میں سے بہت سے نکاح ناموں کو چیلنج کیا گیا ہے جو ابھی تک عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اوران میں عدالتوں نے شہادتیں طلب کررکھی ہیں۔

مزید :

علاقائی -