طیبہ تشدد کیس، سپریم کورٹ کا ٹرائل مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی

طیبہ تشدد کیس، سپریم کورٹ کا ٹرائل مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل مکمل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رجسٹرار اسلام آبادہائیکورٹ سے(آج) منگل کو رپورٹ طلب کر لی اور پانے ریمارکس میں کہا کہ جہا ں والدین ناکام ہوں وہاں عدالت بچے کی ماں باپ بن جاتی ہے،بتایا جائے ٹرائل طوالت کا شکار کیوں ہے۔ پیر کو گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں والدین ناکام ہوں وہاں عدالت بچے کی ماں باپ بن جاتی ہے، والدین پیسے لے کر سمجھوتہ کر لیتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا جن بچوں کاکوئی پرسان حال نہ ہوان کے والدین عدالت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا طیبہ تشدد کیس کا ایک سال سے ٹرائل مکمل نہیں ہوا ،بتایا جائے ٹرائل طوالت کا شکار کیوں ہے۔وکیل صفائی نے بتایا کہ ہائیکورٹ نے والدین کی صلح کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ہائیکورٹ میں ٹرائل کی کیا پوزیشن ہے؟،وکیل صفائی نے بتایا کہ 10 گواہوں کے بیانات قلمبندہوگئے،عدالت نے ٹرائل مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ سے(آج) منگل تک رپورٹ طلب کر لی۔
طیبہ تشدد کیس

مزید :

صفحہ آخر -