پاکستان کی جی ڈی پی تناسب سے قرض کی شرح کئی ممالک سے کم

پاکستان کی جی ڈی پی تناسب سے قرض کی شرح کئی ممالک سے کم

اسلام آباد (اے پی پی)ترجمان وزارت خزانہ نے کہا ہے پاکستان کی جی ڈی پی کے تناسب سے قرضہ کی شرح کئی ترقی پذیر ممالک کی نسبت کم ہے، پچھلے چار سال میں جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرضے میں 1.4 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے، امریکہ، برطانیہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرضہ کی شرح 80 سے 100 فیصد سے بھی زائد ہے۔ پیر کو پاکستان کا بجٹ خسارہ 826 ارب روپے تک بڑھنے سے متعلق ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کی وضاحت کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا مالی خسارہ کے اعداد و شمار ماہانہ بنیاد پر نہیں اقتصادی امور ڈویژن، سٹیٹ بینک اور صو با ئی حکومتوں سے تقریباً 2 ماہ کے بعد مطلوبہ اعداد و شمار کے حصول کے بعد سہ ماہی بنیاد پر مرتب اور ویب سائٹ پر جاری کئے جاتے ہیں ۔ ترجمان نے ڈیٹ سروسنگ میں اضافہ کو بجٹ خسارہ میں اضافہ کی بنیادی وجہ قرار دیئے جانے کے حوالہ سے کہا عبوری طور پر جولائی سے نومبر میں ڈیٹ سروسنگ 625 ارب روپے کی ہوئی ہے۔رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ڈیٹ سروسنگ کے اعداد و شمار بجٹ تخمینہ جات کے مطابق ہیں اور یہ سالانہ بجٹ تخمینہ جات کے اندر ہی رہنے کی توقع ہے، اس لئے کوئی بھی ایسا دعویٰ کہ ڈیٹ سروسنگ بجٹ میں دیئے گئے مالیاتی خسارہ سے زیادہ ہونے کی وجہ ہے، درست نہیں۔ جون 2017ء کے اختتام پر جی ڈی پی کے تناسب سے کل حکومتی قرضہ 61.6 فیصد تھا۔ پچھلے چار سال کے دوران پاکستان میں جی ڈی پی کے تناسب سے سرکاری قرضہ میں 1.4 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے جو کہ 2013ء میں 60.2 فیصد تھا اور 2017ء میں 61.6 فیصد ہو گیا ہے جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے عالمی قرضہ کی شرح میں تقریباً 8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ حتیٰ کہ مصر، سری لنکا اور بھارت میں بھی پاکستان کی نسبت جی ڈی پی کے تناسب سے قرضہ کی شرح زیادہ ہے اس لئے جی ڈی پی کے تناسب سے قرضہ کی شرح کے حوالہ سے نہ تو مضمون اعداد و شمار اور نہ ہی اس کے مندرجات درست ہیں۔

وزارت خزانہ

مزید : صفحہ آخر