وزیر اعظم زہری کو بچا نے پہنچ گئے ،وزیر اعلٰی بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد آج پیش کی جائے گی اپوزیشن لیڈر اور ناراض لیگی ، اتحادی ارکان کا شاہد خاقان عباسی سے ملنے سے انکار ، دونوں طرف سے مطلوبہ ارکان کی حمایت کے دعوے

وزیر اعظم زہری کو بچا نے پہنچ گئے ،وزیر اعلٰی بلوچستان کیخلاف تحریک عدم ...

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد آج (منگل کو )پیش ہو گی اس موقع پر سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں حکومتی اور اپوزیشن اراکین مطلوبہ اکثریت کی دعوے کر رہے ہیں حکومتی واپوزیشن اراکین نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں تاہم حکومت اور ان کے اتحادی بھی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے دعوے کر رہے ہیں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں آج شام چار بجے ہو گا اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کی جانیوالی تحریک عدم اعتماد کی پیش کی جائے گی جس میں تحریک عدم اعتماد ٹیبل کی جائے گی اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی تحریک عدم اعتماد ٹیبل ہونے کے بعد قانونی قواعد وضوابط پر عملدرآمد کر تے ہوئے تحریک عدم اعتماد پر کم سے کم تین یوم ور زیادہ سے زیادہ سات یوم کے اندر اس پر رائے شماری کروائیں گی۔تحریک عدم اعتماد کوناکام بنانے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کو 65کے ایوان میں سے 33اراکین کی حمایت درکار ہوگی ۔۔وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ ن کی اتحادی ق لیگ کے رکن اسمبلی میرعبدالقدوس بزنجو اور مجلس وحدت مسلمین کے سیدآغامحمدرضا نے دیگربارہ اراکین کی جانب سے جمع کرائی تھی۔اس طرح تحریک عدم اعتماد جمع کرانیوالے اراکین کی تعداد14بنتی ہے،جس کے بعد تین ن لیگی وزرا اور دو مشیروں کے استعفوں سے ن لیگ کی اپنی صفوں میں دراڑ پڑ گئی ہے۔تحریک کے محرک عبدالقدوس بزنجو کادعوی ہے کہ انہیں 22ن لیگی اراکین میں سے 18کی حمایت حاصل ہے، تاہم موجودہ زمینی صورتحال اور قرائن سے پتا چلتاہے کہ ن لیگیوں میں سے نصف سے زائد وزیراعلی کاساتھ چھوڑ چکے ہیں جبکہ ان کاساتھ دینے والوں میں حزب اختلاف میں شامل جے یو آئی ف کے آٹھ، مسلم لیگ ق کے پانچ، بی این پی مینگل کے دو اراکین کے علاوہ بی این پی عوامی، اے این پی اور مجلس وحدت مسلمین کے ایک، ایک رکن شامل ہیں۔ایک آزاد رکن اور نیشنل پارٹی کے ایک رکن کیساتھ یہ تعداد 32 تک جا پہنچتی ہے، اس صورتحال کے بعد اگر وزیراعلی کی پوزیشن کو دیکھاجائے تو ان کے حمایتی ن لیگی اراکین کی تعداد 10 رہ گئی ہے، اس کے باوجود اتحادی جماعتوں پشتونخواہ میپ اور نیشنل پارٹی کو ملا کر انہیں کل 33 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ایک یا دو مزید اراکین کے ادھر یا ادھر ہونے سے صورتحال یکسر بدل سکتی ہے۔

عدم اعتماد

کوئٹہ(آئی این پی ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزیراعلی بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام منانے کیلئے کوئٹہ پہنچ گئے ، وہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کوئٹہ پہنچ گئے ہیں ۔وزیراعظم نے کوئٹہ میں سابق وزیراعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود اچکزئی سمیت اتحادی جماعتوں کے رہنماں سے ملاقاتیں کیں۔۔ شاہد خاقان عباسی اتحادیوں سے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے پر تبادلہ خیال کیا اس سے پہلے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گورنر ہاؤس میں وزیراعلی بلوچستان اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء (ر) جنرل عبدالقادر بلوچ ،میر جام کمال ،وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال ،مہتاب عباسی ،زاہد حامد بھی موجود تھے ملاقات کے دوران وزیراعلی بلوچستان کیخلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے بارے میں بھی صلاح ومشورہ کیا گیا اور اہم قانونی نقاط پر غور کیا گیا ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی مختصر دورے پر پیر کی سہ پہرکو خصوصی طیارے میں کوئٹہ پہنچے ۔ ائیر پورٹ پر وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری ،وفاقی وصوبائی وزراء میر جام کمال ،عبدالقادر بلوچ ،سردار اسلم بزنجو سمیت ارکان اسمبلی نے انکااستقبال کیا۔ گورنر ہاؤ س کوئٹہ میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے گورنر بلوچستان محمد خا ن اچکزئی نے ملاقات کی اور ان سے موجودہ سیاسی بحران سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔آان لائن کے مابق وزیراعظم کی کوئٹہ میں موجودگی میں وفاقی وزرا نے ناراض حکومتی واپوزیشن اراکین سے رابطے کئے تا ہم حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے وزیراعظم سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا وفاقی حکومت نے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، سابق سپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی، سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اور سابق وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی سمیت دیگر ناراض اراکین سے بھی رابطے کئے تا ہم اراکین نے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔دریں اثنا وزیر اعظم نے قیام ایک روز بڑھا دیا۔

ملاقاتیں

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمولانا عبدالواسع نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے مسئلے پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت سے کوئی بھی ملاقات نہیں کرینگے مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی اور پیپلز پارٹی نے عمران خان کے دھرنے کے بعد حکومت بچانے کی کوشش کی مگر آج وہی وفاقی حکومت ہمارے قائدین کے خلاف سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں جس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دینگے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک آئینی اور جمہوری حق ہے اور اپوزیشن وحکومتی اراکین نے آئینی اور جمہوری حق استعمال کر تے ہوئے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتما جمع کی اور آج بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی قوم پرستوں نے وزیراعلیٰ کو اس حالت پر پہنچایا کہ آج اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین بھی ان کے خلاف میدان عمل میں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق اسپیکر جان جمالی ، سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، سابق وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی ، طاہر محمود ، مفتی گلاب کاکڑ، مولوی معاذ اللہ، عبدالماجد ابڑو سمیت دیگر اراکین کے ہمراہ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتی واپوزیشن اراکین اس بات پر متفق ہوئے کہ موجودہ کرپٹ حکومت کو ختم کرنے کیلئے ایک مضبوط اور منظم اتحاد کرینگے اور اب موجودہ حکومت کو بچانا اتحادیوں کی بس کی بات نہیں ہے کیونکہ اتحادیوں نے ہی وزیراعلیٰ کے خلاف حکومتی اراکین کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیا ایک جمہوری اور آئینی عمل ہے کیونکہ اپوزیشن پہلے ہی صوبائی حکومت کے خلاف تھے اور اپوزیشن نے شروع دن سے حکومت کی کمزوریوں کی بات کی سب سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہے اور حکومتی اراکین موجودہ حکومت کے خلاف میدان عمل میں ہے تو اپوزیشن نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے قوم پرست کہہ رہے کہ یہ غیر جمہوری عمل ہے مگر ان قو م پرستوں سے کہنا چا ہتا ہوں کہ جب رئیسانی حکومت کو ختم کیا جا رہا تھا اور گورنر راج نافذ کیا تو اس وقت مٹھائیاں تقسیم کی گئی اور جلسوں میں کہا گیا کہ ایک جمہوری حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے ختم کیا گیا اب تمام سیاسی جماعتیں ان قوم پرستوں اور حکومت میں شامل اتحادیوں سے پو چھنا چا ہتے ہیں کہ اس وقت ایک جمہوری اور آئینی حکومت کی برطرفی پر مٹھائیاں تقسیم کرنے والے آج کس جمہوریت کی بات کر رہے ہیں موجودہ حکومت نے وفاق سے صوبے کے حقوق حاصل نہیں کئے اور این ایف سی ایوارڈ پر ساڑھے چارسال تک خاموش ہے اور ہر سال 50 ارب روپے لیپس ہوئے اور یہی فنڈز وفاق نے دوسرے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے منتقل کئے قوم پرستوں نے نفرت کی فضاء قائم کی اور اس نفرت کی فضاء کی خاطر کرپشن کو فروغ دیا تمام حکومتوں میں کرپشن ہو تی رہی مگر اس صوبے میں سب سے زیادہ اور تاریخی کرپشن ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اس حکومت سے نجات دلانا ضروری ہے صوبائی وزراء کے پاس اختیارات نہیں تھے یہی اچانک نہیں بلکہ کئی عرصے سے رابطے میں تھے انہوں نے کہا کہ جب عمران خان ڈی چوک پر دھرنا دیا تو وفاقی حکومت مولانا فضل الرحمان کے پاس گئے اور ان سے دھرنا ختم کرانے کی اپیل کی اگر مولانا فضل الرحمان نہ ہو تا تو کیا وفاقی حکومت چل سکتا تھا اور پیپلز پارٹی و عوامی نیشنل پارٹی نے جمہوریت کی بقاء اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے حکومت کا ساتھ دیا لیکن وہ نہیں سمجھے اور آج کہہ رہے کہ صوبائی حکومت کو ختم کرنے میں پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران کو چار سال سے گھر میں قید رکھا ہے کیا دوستوں اور ہمدردوں کیساتھ یہ سلوک کیا جا تا ہے کوئی سازش نہیں ہور ہی اور اب جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم کیوں نکالا جا رہا ہے یا کیوں نکالا گیا یہ بات اب ختم ہونی چا ہئے انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہو گی اور جس پر ووٹنگ بھی کی جائے گی بعد میں جو جمہوری حکومت ہو گی ہم ان کا ساتھ دینگے جمعیت علماء اسلام ایک اصولی موقف رکھتی ہے اور جب اپنا فیصلہ کر تی ہے اس موقت سے ہٹتے نہیں گورنر شپ اور وزارتیں ہمارے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی جب اختر مینگل کی حکومت ختم ہو رہی تھی تو ان کے ساتھیوں نے ساتھ چھوڑ دیا لیکن جمعیت علماء اسلام نے آخری حد تک کا ساتھ دیا اب وزیراعظم یا صدر کا عہدہ بھی دیدیں تو جمعیت علماء اسلام قبول نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان یا وزیراعلیٰ بلوچستان کا فون آیا تو وزیراعظم سے ملاقات کرنے پر معذرت کی اور ہم کسی بھی صورت وزیراعظم یا وفاقی حکومت سے ملاقات نہیں کرینگے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ چار سال تک وزیراعظم نے کوئی بات نہیں کی اور آج وزیراعظم ہاؤس سے فون آیا کہ وزیراعظم بلوچستان میں عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین سے ملنا چا ہتے ہیں مگر ہم ایک اصولی اور جمہوری موقف رکھتے ہیں وزیراعظم سے ملاقات کرنے کا صاف انکار کر دیا باہر کی مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کرینگے یہاں کے مسائل یہاں کے سیاسی جماعتیں ہی حل کرینگے سابق وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ کہوں یا سابقہ وزیراعلیٰ کہوں اور انہوں نے زیادہ تر عرصہ صوبے سے باہر گزارا اور صوبے کے معاملات پر کوئی اہمیت نہیں دی ہمارے پاس 40 سے زائد اکثریت ہے اور آج ایک اہم استعفیٰ آنیوالا ہے سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ 2 سال سے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ نہیں تھا جو کارروائی ہوئی وہ غیر آئینی ہے اپوزیشن تو پہلے ہی حکومت پر عدم اعتماد کر چکی ہے 25 دسمبر کو سابق وزیرداخلہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو آگاہ کیا تھا کہ اب آپ باہر کا دورہ نہ کریں کچھ ہونیوالا ہے انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی جو جمہوریت کے دعویدار بنی ہوئی وہ پہلے اپنی پارٹی کے اندر کی جمہوریت پیدا کریں اور دو ضمنی انتخابات اپنے انتخابی نشان کی بجائے کسی اور نشان سے لڑی پشتونخوامیپ نے خود جمہوریت کی پاسداری نہیں کی پارٹی میں جمہوریت لائے پر بات کریں۔

پریس کانفرنس

مزید : صفحہ اول