کوہاٹ ، دہشتگردی سمیت مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے کے لئے جدید آلات سے چکینگ کا عمل تیز

کوہاٹ ، دہشتگردی سمیت مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے کے لئے جدید آلات سے ...

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوہاٹ میں سیکیورٹی مانیٹرنگ مزیدبہتر بنانے اور دہشتگردی سمیت مجرمانہ سرگرمیوں پر مؤثر قابو پانے کیلئے جدید آلات کے ذریعے سنیپ چیکنگ کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق شہر میں جرائم پیشہ عناصر وغیررجسٹرڈ افغان باشندوں کی نقل و حرکت روکنے اور غیر مقامی مشتبہ افراد کی چھان بین کیلئے جدید مواصلاتی نظام اور آلات حرب سے لیس خصوصی تربیت یافتہ پولیس افسران و جوانوں پر مشتمل سنیپ چیکنگ کی ٹیمیں متحرک کردی گئی ہیں۔سنیپ چیکنگ کی ان دستوں میں خواتین پولیس ،بم ڈسپوزل یونٹ اور بم و بارودی مواد کا پتہ لگانے والی کھوجی کتوں کے علاوہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔ سنیپ چیکنگ کی ٹیموں کو شہر کی اہم شاہراہوں اور جرائم پیشہ افراد کے زیراستعمال آمدورفت کے دیگر داخلی وخارجی راستوں پر اچانک چیکنگ کے فرائض سونپ دئیے گئے ہیں جو24گھنٹے کسی بھی وقت خفیہ اطلاعات پر کاروائی کرکے مجرموں کی گرفتار ی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔تفصیلی معلومات پر مبنی پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ عباس مجید خان مروت کی ضلعی پولیس سربراہ کی حیثیت سے چارج سنبھالنے کے بعد ایک ہفتے کے مختصر عرصے کے دوران ضلع بھر میں مجموعی طور پر سو سے زائد مختلف مقامات پر اچانک چیکنگ کیلئے خصوصی ناکہ بندیاں لگائی گئیں جن میں لگ بھگ دس ہزار کے قریب گاڑیوں اورساٹھ ہزار سے افرادکو چھان بین کیلئے روکا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اچانک چیکنگ کے اس تسلسل میں آئی وی ایس ،وی وی ایس اور سی آر وی ایس موبائل انڈرائیڈ فون سروس کی جدید ٹیکنالوجی کی مددسے مشکوک گاڑیوں اور اشخاص کے کوائف کی چھان بین کی گئی۔سنیپ چیکنگ کی ان کاروائیوں کے نتیجے میں پولیس ٹیموں نے ایک ہفتے کے دوران مختلف تھانوں کی حدودسے114افراد کو اسلحہ ومنشیات سمیت حراست میں لیا ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر