حکومت ملی تو پی آئی اے تباہی کے دہانے پر تھی، آدھے جہازلیز پر تھے، مشاہد اللہ

حکومت ملی تو پی آئی اے تباہی کے دہانے پر تھی، آدھے جہازلیز پر تھے، مشاہد اللہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ء سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت سے قبل پی آئی اے تباہی کے دہانے پر پہنچ رہی تھی ، ہمارے پاس صرف 16جہاز تھے جن میں سے آدھے لیز پر تھے، ایئر لائن کے پاس جہاز ہونے چاہئیں اس سے فرق نہیں پڑتا جہاز اپنے ہیں یا لیز پر حاصل کئے گئے ہیں۔کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے رہنماء سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ 2013ء میں جب مسلم لیگ (ن) کو حکومت ملی تو اس وقت پی آئی اے کے پاس صرف 18جہاز تھے جن میں سے صرف 16جہاز کام کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پی آئی اے کے پاس 36جہاز ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کے جہاز لیز پر ہی ہوتے ہیں، جہاز ہونا شرط ہوتی ہے، لیز پر ہیں یا نہیں ان تفصیلات میں پڑیں گے تو معاملات خراب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ کیاپہلے جہاز لیز پر نہیں تھے جو 16جہاز موجود تھے ان میں سے آدھے لیز پر تھے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پی آئی اے کے کئی ایسے سٹیشنز کھلوائے ہیں جو بند ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس بھی بڑھا ہے لیکن اصل میں پرانا خسارہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کم کرنے میں وقت لگے گا۔