امریکا کا 33ارب ڈالر دینے کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے ،حسین ہارون

امریکا کا 33ارب ڈالر دینے کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے ،حسین ہارون

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی(اسٹاف رپورٹر) اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیرعبداللہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار صدر رونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو 33ارب ڈالرز کی امداد کی فراہمی کا دعویٰ من گھڑت‘ جھوٹ اور خود ساختہ ہے کہ 33ارب میں جو ہیڈز آف اکاؤنٹس شامل کئے گئے اْن کا پاکستان کو دی گئی امداد سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ درحقیقت 2002ء سے 2017ء تک صرف 10ارب ڈالرز بطور امداد امریکہ نے پاکستان کو دیئے۔ اس 10ارب ڈالرز کی امداد ملنے پر ہم امریکی حکومت‘ امریکی کانگریس کے اراکین اور امریکی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان اور پاکستان کو براہ راست اور بالواسطہ جنگ کی وجہ سے جو معاشی نقصان ہوا وہ 200ارب ڈالرز سے بھی زیادہ ہے۔ بفرض محال اگر ہم اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار کا 33ارب ڈالرز امداد دینے کا بے بنیاد غلط دعویٰ تسلیم بھی کر لیں تو یہ افغان جنگ پر امریکیوں کے اخراجات کا صرف 3فیصد بھی نہیں بنتا۔ سابق سفیر عبداللہ حسین ہارون نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں ایوان نمائندگان و سینیٹ کو امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ پیدا شدہ بحران کے بارے میں خصوصی خطوط لکھے ہیں۔ امریکی اراکین کانگریس کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے پاکستان پر تلخ الفاظ کے جو کوڑے برسائے ہیں وہ انتہائی غیرضروری ہیں۔ پاکستان کی پوری قوم نے اس پر اظہار افسوس بھی کیا ہے اور ٹویٹ کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی 70سالہ تاریخ میں غلط فہمیاں بسااوقات پیدا ہوئیں مگر پاک امریکہ تعلقات محفوظ رکھے گئے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 2002ء سے 2017ء تک کی افغان جنگ میں امریکہ اور تمام نیٹو ممالک کے کم و بیش 3ہزار فوجی و غیرفوجی افراد مارے گئے۔(نیٹو ممالک کی تعداد انتیس ہے جن کے نام یہ ہیں۔ بیلجیم ، کینیڈا ، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، اٹلی،لیگزمبرگ، دی نیدرلینڈ ، ناروے ، پرتگال، یوکے، یو ایس ، اور دیگر ممبر ممالک یہ ہیں یونان ، ترکی ، جرمنی، اسپین، جمہوریہ چیک، ہنگری ، پولینڈ، بلغاریہ ، ایستو نیہ، لٹویا، لیتھونیا، رومانیہ، سلواکیا، سلووینیا ، البانیہ ، کروشیا، مونٹی نیگرو)جبکہ صرف پاکستان کے 70ہزار سے زائد سکیورٹی فورسز اور سویلین عام شہریوں نے جانیں قربان کیں۔ اس جنگ میں کم و بیش 40لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان آئے۔ امریکہ نے افغان وار پر ایک ہزار ارب ڈالرز خرچ کئے۔ پاکستان کا جانی و مالی نقصان 200ارب ڈالرز کے لگ بھگ رہا جس کا صرف 200فیصد (گیارہ ارب ڈالرز) امریکہ نے امداد میں دیا۔ 40لاکھ مہاجرین کی رہائش و خوراک اور طبی ضروریات پر پاکستان نے 15سالوں میں ساڑھے 22ارب ڈالرز خرچ کئے۔ امریکہ کی اس افغان جنگ کے 15سال کے دوران پاکستان نے انفراسٹرکچر‘ شاہراہوں کو نیٹو سپلائی لائن کے دوران ایک ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا۔ امریکہ اور نیٹو کی طرف سے پاکستان پر سے جنگی سازو سامان لے جانے والی پروازوں سے 15ارب ڈالرز کا بوجھ پڑا۔ پاکستان کے ساڑھے 22ارب ڈالرز 15سالوں میں ایک ڈالر فی کس یومیہ مہاجرین پر خرچ کرنے سے بنتا ہے جبکہ امریکہ نے افغان وار میں فی کس خرچہ 60کروڑ ڈالرز دکھایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار رونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو 33ارب ڈالرز کی امریکی امداد کا جو دعویٰ کیا‘ سفیر پاکستان کے مطابق امریکی صدر کا یہ دعویٰ اتنا ہی سچا ہے جتنا کہ امریکہ کا صدام حسین کے پاس زبردست تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (weapons of mass destruction)کا تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 2002ء سے 2017ء تک کی جنگ میں 33ارب ڈالرز پاکستان کی امداد پر ہی خرچ نہیں کئے بلکہ کولیشن سپورٹ فنڈ وغیرہ کا یہ خرچ تھا۔ امریکہ کی فورسز کی افغانستان میں سپلائی کیلئے پاکستان نے جس بھاری رقم کا بل امریکہ کو دیا‘ اْس بل کی امریکی آڈیٹروں نے خوب کٹوتی کی اور پاکستان کو 33ارب کی بجائے تقریباً ساڑھے 14ارب ڈالرز امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں دیئے۔ افغان نارکاٹکس کی سپلائی روکنے کیلئے امریکہ نے ایک ارب 30کروڑ ڈالرز طالبان کیخلاف جنگ کیلئے پاکستان کو دیئے جبکہ انسداد دہشت گردی کی جنگ لڑنے کیلئے اڑھائی ارب ڈالرز پاکستان کو فراہم کئے۔ امریکہ کی افغان وار لڑنے کیلئے پاکستان آرمی کو اپ گریڈ کرنے کیلئے 15سال میں صرف 4ارب ڈالرز مریکہ نے دیئے۔ اس طرح ان تینوں مدوں میں 7ارب 80کروڑ ڈالرز پاکستان کو دیئے گئے۔ 15سالوں میں 30لاکھ مہاجرین کی خوراک کی فراہمی کیلئے 60کروڑ ڈالر اور افغان مہاجرین کی مدد کیلئے 25کروڑ ڈالرز امریکہ نے دیئے۔ پاکستان میں قدرتی آفات کے زمرے میں امریکہ نے ایک ارب ڈالرز ادا کئے جبکہ پاکستان کو ساڑھے 8ارب ڈالرز کی اقتصادی امداد 15سالوں میں دی گئی۔ یہ اعدادو شمار لکھنے کے بعد پاکستان کے سابق سفیر عبداللہ حسین ہارون نے امریکی اراکین کانگریس کو باور کرایا کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر آج تک اس الزام کو بھگت رہے ہیں کہ اْنہوں نے دنیا کی قدیم ترین ڈیموکریسی کے تحت بننے والے برطانوی دارالعوام کو گمراہ کیا۔ ٹونی بلیئر نے ہاؤس آف کامنز کو یہ باور کروا کر غلط بیانی کی کہ اس بناء پر یوکے کو امریکی جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں کہ عراق کے پاس ڈبلیو ایم ڈیز (ویپن آف ماس ڈسٹرکشن) ہیں۔