دنیا بھر کے مسلمان اپنے خلاف سازشوں کا متحد ہو کر مقابلہ کریں : آغا صالح

دنیا بھر کے مسلمان اپنے خلاف سازشوں کا متحد ہو کر مقابلہ کریں : آغا صالح

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹاف رپورٹر) دنیابھر کے مسلمان اپنے خلاف ہونی والی سازشوں کا متحد ہو کر مقابلہ کریں۔ پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے الزام تراشیوں سے نوازا گیا اور do more کے نعرے لگائے گئے، جبکہ پاکستان نے بڑی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور بہت معاشی نقصان اٹھایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کراچی ایڈیٹرز کلب کے تحت ہونے والے پروگرام ’’میٹ دی ایڈیٹرز‘‘ کے موقع پر بیرون ملک سے آنے والی شخصیات کے اعزاز میں دیے جانے والے ظہرانے کے موقع پر مہمانوں نے کیا۔ اس موقع پر ایران کے ڈپلومیٹ رضا خلیل الرحمن اور اے رضا سلطانی بھی موجود تھے۔ جبکہ کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشر میر، منظر نقوی، ساجد عزیز، جاوید محمود، نعیم الدین، روزینہ جلال، حجاب باسط ، ڈاکٹر جاوید منظر ، حمیرہ موٹالا ودیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد آغا محمد صالح نے کہا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں پرماضی میں بھی ہونے والے واقعات کے اثرات پڑھتے رہے ہیں، امریکی صدر ٹریپ نے اپنی ایک اور سال کی مدت گزارنے کے بعد جو پابندیوں کے اعلانات کیے تھے اس کے مسلمانوں پر اثرات پڑے ہیں اور مزید پڑ سکتے ہیں protective order کو ریلیف دے دیا، ٹرمپ امریکی تاریخ میں 47 ویں صدر ہیں میں یہ سوچتا ہوں کہ انہیں بڑی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی جگ ہنسائی بھی ہوئی انہیں بڑی شدت سے کانگریس اور سینٹ اور عوام میں مختلف تنظیموں میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیونکہ انہوں نے پاکستان کے خلاف ایسے وقت میں اس طرح کے بیان دیا کہ جیسے پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔ اور میں یہ جانتا ہوں کہ امریکہ کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا مجھے اس وقت امریکہ منقسم امریکہ نظر آرہا ہے۔ وہ امریکہ کی تاریخ کے پہلے صدر ہونگے جو امریکہ کے صدر نظر نہیں آرہے بلکہ ان کی پہچان ایک devided امریکی صدر کی سی ہے، وہ پاپولر امریکی صدر کے طورپر نہیں ابھرے بلکہ الیکٹرول کالج سے ان کی فتح ہوئی ہے۔ عوام سے تو ان کو ووٹ نہیں مل سکے ، بہرحال وہ ہمارے اور امریکہ کے صدر ہیں، ہم ہمیشہ ان سے مطالبہ کرتے رہیں گے کہ اپنے اقدامات اپنی سوچ کی سمت درست کیجئے اور دنیا کو امن کی طرف جانے دیجئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی دہشتگردی کے نرغے میں ہے، اس وقت ایسے دہشتگرد موجود ہیں جو land grbers ہیں اور وہ اس دہشتگردی کو فروغ دینے کیلئے فنڈ اکٹھا کررہے ہیں تاکہ پاکستان میں عدم استحکام کی فضا برقرار رہے اور عوام کو استحکام نہ مل سکے ہمارے اپنے اندر ایسے غدار موجود ہیں جو اپنی قوم کو نقصان پہنچانا چاہا رہے ہیں۔ امریکی صدر ان پاکستانیوں سے پیسے کا حساب مانگ رہے ہیں جنہوں نے بڑی تعداد میں جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔ امریکہ سے زیادہ تو ہمارے اپنے وسائل خرچ ہوچکے ہیں۔ امریکہ کی اپنی جنگ تھی جو ہم پر زبردستی مسلط کردی گئی ، جس سے پاکستان کو نقصان پہنچا۔ہم نے اپنی معیشت کو نقصان پہنچتے ہوئے دیکھا ، ہمارے اربوں کے وسائل خرچ ہوچکے ہیں۔ ہمارے صدر پرویز مشرف نے ان کی جنگ کو اپنے گلے لگالیا۔ اور ہم نے اس کی قیمت جو چکائی 8-9 برسوں میں وہ سب کے سامنے ہے بیت المقدس پر امریکہ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت میں یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ مسلم اُمّہ کی قیادت کون کررہا ہے ، پاکستان کررہا ہے یا سعودی عرب ۔ اگر سعودی عرب کررہا ہے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکی لیڈر ہیلری کلنٹن جو اسوقت سیکریٹری خارجہ تھیں، کانگریس کی کمیٹی میں انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا تھا اس کو امریکہ نے فنڈ کیا اور سعودی برانڈ کا وہابی نام پوری دنیا میں پروموٹ کیا ، ہم اس کے ذمہ دار ہیں ۔ اس موقع پر ڈنمارک کوپن ہیگن سے آئے ہوئے پاکستانی نژاد چیئرمین تنظیم برائے عالمی امن عابد علی عابد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا بیان دو حصوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ ان کے صدارتی الیکشن کی جیت کے سلسلے میں اتنا ہی کہوں گا کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا کام کردکھایا ہے، اگر وہاں الیکشن میں کوئی ریگنگ ہوئی ہے تو وہ ایک الگ سوال ہے، لیکن ہم ثبوت کے بغیر کوئی بات نہیں کرسکتے، اس وقت اس سلسلے میں سب اچھے کا لفظ استعمال کیا جارہا تھا، جبکہ ہمیں الیکشن میں امریکی دو حصوں میں تقسیم ہوتے نظر آئے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے امریکہ divide ہوچکا ہے ، قوم متحد نظر نہیں آرہی تھی۔ ٹرمپ کا موجودہ بیان دو حصوں پر مشتمل ہے ان کا ایک اہم بیان ہے کہ جس میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے کا کہا گیا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بیان کسی چیز کو ابھارنے کیلئے دیا گیا ہے۔ یہ بیان جلتی پر تیل چھڑکنے کیلئے دیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں مسلم قوم متاثر ہوگی، جنہیں ڈرایا دھمکایا جاسکے گا۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ مسلمانوں کو تقسیم کیا جائے ، ان کی پالیسیوں کی مذمت کی جائے، ایک تو یہ وجہ ہے جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس بیان سے یہ بتایا جارہا ہے کہ اسرائیل وہ ملک ہے جس کے پیچھے صرف امریکہ کھڑا ہوا ہے۔ تیسرے اس میں جو پیغام دیا گیا ہے اس میں پراسراریت نظر آرہی ہے ، ان حالات میں اس کی کیا ضرورت تھی، میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کس پاور کے تحت یہ بیان جاری کیا ہے کیونکہ اسرائیل کو اگر آزاد مملکت بنایا جائے تو امریکی صدر یروشلم دارالخلافہ بنانے کا اعلان کیسے کرسکتا ہے۔ کیونکہ اسرائیل کا یہ اپنا issue تھا، اس کی طرف سے بیان آنا چاہیے تھا، جبکہ اس سے ہٹ کر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا بیان دیا۔ میں آرگنائزیشن ورلڈ پیس کی جانب سے امریکی صدر کے بیان پر سخت مذمت کرتا ہوں جبکہ دوسری جانب ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں جو بیان دیا ہے وہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، ان کا یہ کہنا کہ ہم نے اتنے بلین پاکستان کو دیا ہے، اس پر میں امریکی صدر سے سوال کرتا ہوں کہ آپ اقوام عالم کے صدر نہیں بلکہ آپ منقسم امریکہ کے صدر ہیں، آپ نے پاکستان کو جو کچھ دیا وہ اپنی جگہ ، مگر عوام پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی ہمارے معاشرتی مسائل اور قوم پر توجہ نہیں دی ہے۔ آپ نے صرف لڑوانے کیلئے ہمارے سپاہیوں کو استعمال کیا ہے اگر آپ نے ہمیں سپورٹ کی ہے تو بین الاقوامی مارکیٹ میں ریٹ لگوا کر کسی اور سے یہ سپورٹ حاصل کریں اور یہی پیسہ آپ کسی اور ملک پر خرچ کرلیں کیونکہ پاکستانی فوج میں جو قابلیت ہے وہ کسی اور میں نہیں ہے۔ ہمیں غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہیے ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ ایک اسٹیٹ کی پالیسی ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو متحدہونا چاہیے، اس پالیسی کو سمجھنے کے باوجود اگر دنیا بھر کے مسلمانوں میں یکجہتی نہیں ہوگی اور کمزوری پر قابو نہیں پایا گیا تو کوئی بھی قوم آسانی سے غلبہ پالے گی، یہ طاقت کی لڑائی ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ، کوریا اور ایران کے تسلسل میں دیکھا جائے تو کوریا ایک اپنی الگ پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے، نیوکلیئر ہتھیار کی ، جبکہ پاکستان اور ایران نے کبھی اس قسم کی دھمکی نہیں دی ۔ اس وقت پوری دنیا ان تمام چیزوں کی متحمل نہیں ہوسکتی ، اس کی دوڑ ہندوستان نے شروع کی تھی آج وہی ہندوستان جس نے کبھی امریکہ کی مدد نہیں کی، آج اس کی امریکہ کے ساتھ لابی مضبوط ہے۔ ہمارے ملک میں ہونے والی دہشتگردی پر کبھی کوئی آواز نہیں اٹھائی ہے، امریکہ میں انڈین لابی اتنی شدت سے کام کررہی ہے کہ وہ کبھی پکڑائی نہیں دیتی۔ بعدازاں کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشر میر ، سیکریٹری منظر نقوی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں سندھ کا ثقافتی تحفہ اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی ۔