نجی ہسپتال میں ڈاکٹرز و عملی کی مبینہ غفلت سے مریض کی ہلاکت ، ورثا ء مشتعل ، توڑ پھوڑ

نجی ہسپتال میں ڈاکٹرز و عملی کی مبینہ غفلت سے مریض کی ہلاکت ، ورثا ء مشتعل ، ...

  

ملتان(وقائع نگار)طارق روڈ پر واقع نجی ہسپتال میں ڈاکٹرزاور عملے کی مبینہ غفلت کے گاعث شادی شدہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔جاں بحق نوجوان کے ورثاء نے ہسپتال کی توڑ پھوڑ شروع کردی۔ہسپتال کے کوریڈور میں لاش رکھ کر 5گھنٹے تک ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور احتجاج کیا۔مذکورہ واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ کر معاملے کو سنبھال لیا۔دو نرسوں سمیت چار افراد کو حراست میں لے لیا(بقیہ نمبر45صفحہ7پر )

گیا۔بتایا جاتا ہے کہ حافظ جمال روڈ کچی سرائے کے رہائشی شیخ عاطف جس کی عمر تقریباً31سال ہے کو سر میں درد ہوا اور اس کو علاج کی غرض سے نشتر ہسپتال ملتان میں لیجایا گیا۔جہاں شیخ عاطف کو 4/5روز ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا وارڈ نمبر29کے سرجن ڈاکٹر زاہد بخاری نے مریض کو چیک کرنے کے بعد شیخ عاطف کے لواحقین کو کہا کہ اس کا آپریشن طارق روڈ پر واقع عظیم ہسپتال جوکہ پرائیویٹ ہے میں کرونگا۔3روز قبل مریض شیخ عاطف کو آپریشن کیلئے عظیم ہسپتال میں لایا گیا۔جہاں ڈاکٹر زاہد بخاری نے آپریشن کرنے کیلئے 2لاکھ روپے طلب کئے اور آپریشن سے قبل ڈاکٹر کو 1لاکھ روپے دے دیا باقی 1لاکھ روپے کا آپریشن کے بعد دینے کا وعدہ کیا۔سوموار کو علی الصبح 3بجے شیخ عاطف کا آپریشن ڈاکٹر زاہد بخاری نے کیا۔جس کے بعد مریض کو آئی سی یو میں منتقل کرلیا گیا۔گزشتہ روز سوموار کی شب ساڑھے سات بجے کے قریب مریض شیخ عاطف کی حالت بگڑنے لگی۔اس کا بلڈ پریشر196/10تک پہنچ گیا مریض کے لواحقین نے ہائی بلڈپریشر ہونے کی شکایت ڈیوٹی پر موجود نرس فرزانہ اور دیگر عملے کو دی۔مگر نرسیں اپنے موبائل فونز پر مصروف رہی ،بار بار مریض کے لواحقین کے کہنے پر نرسوں نے کہا کہ یہ ہمارا کام ہے آپ اپنا کام کریں۔ہمیں بار بار تنگ نہ کریں اس دوران بلڈ پریشر210/110 تک پھر تیزی سے جاپہنچا مریض کے بھائی نے فوراً ساتھ بیڈ کے بڑی آکسیجن مریض شیخ عاطف کے منہ پر لگائی۔مگروہ سسکیاں لیتے لیتے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔جاں بحق ہونے پر ورثاء نے ہسپتال کے اندر کوریڈور میں نعش کو رکھ کر 5گھنٹے تک شدید احتجاج کیا۔ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی۔جس کے نتیجے میں ہسپتال کے شیشے ٹوٹ گئے۔مذکورہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔اتنی دیر میں ایس پی کینٹ ڈاکٹر فہد مختار بھی موقع پر آگئے۔جنہوں نے ورثا کو سمجھایا کہ آپ کی قانونی کارروائی ضرور ہوگی۔آپ ہمیں تحریری درخواست دیں جبکہ ورثا کا کہنا تھا جب تک ہمارے بیٹے کے قاتل نرسیں و عملہ کو نہ پکڑا گیا تب تک ہم یہاں سے لاش لیکر نہ جائیں گے پولیس نے معاملے کی نزاکت دیکھتے ہوئے لیڈی کانسٹیبلز کو بھی بلوایا اور دو نرسوں جن میں فرزانہ اور ایک نرس اور دو پیرامیڈیکل سٹاف کو حراست میں لے لیا گیا تاکہ ضروری قانونی کارروائی کی جاسکے۔ملزمان کی گرفتاری پر ورثاء نے نعش ہسپتال سے اٹھالی اور اپنے گھر چلے گئے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -