پیپلزپارٹی کے رہنماکوتشددکا نشانہ بنانے اور قیمتی سامان چھین لینے پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے 3 بیٹوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پرایس ایچ او تھا نہ کینٹ سے 12 جنوری کوجواب طلب

پیپلزپارٹی کے رہنماکوتشددکا نشانہ بنانے اور قیمتی سامان چھین لینے پر سابق ...

ملتان (خبر نگار خصوصی) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان بشیراحمدچوہدری نے پیپلزپارٹی کے رہنماکوتشددکا نشانہ بنانے اور(بقیہ نمبر40صفحہ7پر )

قیمتی سامان چھین لینے پرسابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اوران کے 3 بیٹوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پرایس ایچ اوتھا نہ کینٹ سے 12 جنوری کوجواب پیش کرنے کاحکم دیاہے۔فاضل عدالت میں نیوملتان کے رہائشی فاروق احمدبھٹی نے درخواست دائرکی تھی کہ وہ ایڈورٹائزنگ کاکاروبارکرتاہے اورپیپلزپارٹی کاپرعزم کارکن ہونے کے ساتھ سابق ڈویڑنل انچارج پیپلزسٹڈی سرکل ملتان ہے۔درخواست گذارنے بلاول بھٹو کی آمدپر اپنا ذاتی پینافلیکس ہائیکورٹ چوک پر لگایاہواتھا اس ضمن میں 14 دسمبرکو3 بجے دن پینافلیکس کی پڑتال کے لئے ہائیکورٹ چوک پہنچا تو علی موسی ٰگیلانی خنجر،علی حیدرگیلانی اورعلی قاسم گیلانی ڈنڈوں سے مسلح ہوکر10/12 کلاشنکوفوں اورڈنڈوں سے مسلح نامعلوم افرادکے ہمراہ آگئے اورعلی موسیٰ گیلانی نے اس کو گریبان سے پکڑلیا اوراس کے سرپرخنجرسے وارکیا جس پر اس کے سرسے خون جاری ہوگیا جبکہ مزاحمت پر علی حیدرگیلانی اورعلی قاسم گیلانی نے ڈنڈے سے وارکئے جس سے اس کے سراورناک پر چوٹیں آئیں اورساتھ موجود10/12 نامعلوم مسلح افراداس کو تشدد کانشانہ بناتے رہے اوراسلحہ کے زورپراس کوزبردستی اغواء کرکے لے جانے لگے جبکہ اس کے ساتھی ثقلین رضا کوبھی تشددکانشانہ بنانے کے لئے موبائل 40 ہزارروپے اورکاغذات پر مشتمل پرس چھین کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرارہوگئے۔اس دوران 15 پرکال کی تو پولیس بھی آگئی اوربذریعہ ایمبولینس نشترہسپتال منتقل کیا۔درخواست گذارکے مطابق یوسف رضا گیلانی اوران کے مذکورہ بیٹے اس کے بورڈ پراپناپینافلیکس لگانے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے اور انکارکرنے پر اس کے پینافلیکس پراپناپینافلیکس لگادیاجو اس نے اتاردیاتھاجس پر اس کو تشددکا نشانہ بنایاگیاہے اوراب مذکورہ افرادکے اثررسوخ کی وجہ سے اس کے اہلخانہ کوبھی پریشان کیاجا رہا ہے جبکہ اس کامقدمہ بھی درج نہیں کیاجارہاہے اس لئے یوسف رضاگیلانی ان کے مذکورہ بیٹوں اورنامعلوم مسلح افرادکے خلاف مقدمہ درج کیاجائے۔

جواب طلب

مزید : ملتان صفحہ آخر