بلوچستان حکومت دہشتگردی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں لگتی : جسٹس دوست محمد

بلوچستان حکومت دہشتگردی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں لگتی : جسٹس دوست محمد

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ کی کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے بلوچستان حکومت دہشت گردی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں لگتی،ہر سانحہ پر تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ جج فراہم نہیں کر سکتی، تحقیقات پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا کام ہے ۔چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے گزشتہ روز سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر جسٹس دوست محمد نے ریما ر کس دیے کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں لگتی، 17 سال سے دھماکے ہو رہے ہیں اور صوبائی حکومت(بقیہ نمبر24صفحہ12پر )

سورہی ہے ۔ قانون سازوں کو آئین بھی پڑھا دیں، شہریوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، کمیشن سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونا بھی جرم ہے ۔ ہائیکورٹ نے 2012 میں فرانزک لیب کے قیام کی ہدایت کی تھی جس کیلئے مختص کردہ کروڑوں روپے ہضم ہوگئے، ہر بجٹ میں 50 لاکھ روپے بھی لگاتے تو فرانزک لیب تیار ہوچکی ہوتی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا سپریم کورٹ کے ایک جج نے سانحہ کوئٹہ کے ملزم ٹر یس کئے ، ہر سانحے پر تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ جج فراہم نہیں کرسکتی، تحقیقات پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا کام ہے۔سپریم کورٹ نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھایا اور مکالمے کے دوران جسٹس کھوسہ نے کہا آپ کو رپورٹ پڑ ھنا نہیں آرہی تو عملدرآمد کیا ہوگا۔ خیال رہے 8 اگست 2016 کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خودکش حملے کے نتیجے میں 70 کے قریب افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے جن میں زیادہ تعداد وکلاء کی تھی۔سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے خودکش حملے کا 31 اگست کو نوٹس لیتے ہوئے پہلی سماعت 20 ستمبر 2016 کو کی تھی۔

جسٹس دوست محمد

Back to Conversion Tool

مزید :

ملتان صفحہ آخر -