”میں مسلمانوں سے پیار کرتی ہوں‘ ‘20 سالہ نوجوان ہندو لڑکی نے یہ کہا تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ایسی خبر آگئی کہ بھارتی مسلمان سخت پریشان ہوگئے

”میں مسلمانوں سے پیار کرتی ہوں‘ ‘20 سالہ نوجوان ہندو لڑکی نے یہ کہا تو اس کے ...
”میں مسلمانوں سے پیار کرتی ہوں‘ ‘20 سالہ نوجوان ہندو لڑکی نے یہ کہا تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ایسی خبر آگئی کہ بھارتی مسلمان سخت پریشان ہوگئے

  


بنگلورو (ڈیلی پاکستان آن لائن) مودی کی حکومت آنے کے بعد بھارت میں انتہا پسند ہندو اتنے بے لگام ہوچکے ہیں کہ کسی کو بھی توہم پرستانہ الزام لگا کر بیچ چوراہے پر موت کے گھاٹ اتار دیاجاتا ہے یا پھر جو اختلاف کی کوشش کرتا ہے اسے اتنا ہراساں کیا جاتا ہے کہ وہ مرجانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ریاست کرناٹکا میں بھی پیش آیا جہاں مسلمانوں کو پسند کرنے کے جرم میں انتہاپسند ہندوؤں نے 20 سالہ طالبہ دھنیا شری کو اس قدر ہراساں کیا کہ اس نے شدید ذہنی دباؤ میں موت کو گلے لگا لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹکا کے ضلع چیکماگلورکی 20 سالہ طالبہ دھنیا شری سوشل میڈیا کی ایپلی کیشن واٹس ایپ کے ایک پبلک گروپ میں گفتگو کررہی تھیں کہ اس دوران مذہبی معاملات پر گفتگو ہونے لگی۔ دھنیا شری نے گروپ میں ’آئی لومسلم‘ کا پیغام دیا۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جب اس کی قسمت بدلی اور اس کی وجہ سے اسے موت کو گلے لگانا پڑ گیا۔

دھنیا شری کے ’ آئی لو مسلم‘ کہنے پر ایک گروپ ممبر سنتوش ناراض ہوا اور اس نے طالبہ کو دھمکی دی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھے۔ بعد ازاں ملزم نے چیٹنگ کا اسکرین شاٹ انتہاپسند ہندو تنظیموں (بھارتی جنتا یووامورچہ اور بجرنگ دل) جیسی دیگر تنظیموں تک پہنچادیا ۔ یہ سکرین شارٹ ملتے ہی بی جے پی کی یوتھ ونگ کے کچھ رہنما دھنیا شری کے گھر گئے اور اسے اور اس کے گھر والوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے الزام لگایا کہ دھنیا شری کا کسی مسلمان نوجوان کے ساتھ تعلق ہے۔ ان دھمکیوں کے اگلے ہی دن دھنیا شری نے ذہنی دباؤ میں آکر خود کشی کرلی۔

پولیس کو دھنیا شری کی لاش کے پاس سے اسکا تحریر کردہ نوٹ بھی ملا ہے، جس میں لکھا ہے کہ اس کا کسی مسلمان نوجوان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس واقعہ نے اس کی زندگی برباد کر دی ہے۔پولیس نے خودکشی کے اس معاملے میں مقامی بی جے پی یوتھ ونگ کے رہنما انیل راج کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سنتوش اور دیگر 4 افراد کی تلاش جاری ہے۔

مزید : بین الاقوامی