خواتین کو مرد ملازمین سے کم تنخواہیں ملنے پر احتجاج‘ بی بی سی چین کی ایڈیٹر مستعفی

خواتین کو مرد ملازمین سے کم تنخواہیں ملنے پر احتجاج‘ بی بی سی چین کی ایڈیٹر ...
خواتین کو مرد ملازمین سے کم تنخواہیں ملنے پر احتجاج‘ بی بی سی چین کی ایڈیٹر مستعفی

  

لندن(ویب ڈیسک) بی بی سی  چین کی ایڈیٹر کیری گریسی نے مرد ایڈیٹروں کے مقابلے میں اپنی تنخواہ میں برابری نہ ہونے کی وجہ سے چین میں ایڈیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کے دوران جو وہ جان ہمفریز کے ساتھ پیش کر رہی تھیں بتایا کہ انکے استعفے کے ردِ عمل سے لگتا ہے کہ برابر، منصفانہ اور شفاف تنخواہ کیلئے گہری بھوک موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں، اراکانِ پارلیمان اور عوام کی حمایت سے وہ بہت متاثر ہوئی ہیں۔خواتین کے خلاف کسی نظام کے تحت تفریق نہیں برتی جا رہی۔ بی بی سی کی براڈکاسٹر مشال حسین، لیز ڈوسٹ، کلیئر بالڈنگ، ایمیلی میٹلس اور سارہ مانٹیگیو نے کیری کی حمایت کی ہے جبکہ چینل 4 کی پریزینٹر کیتھی نیومین، لیبر پارٹی کی ایم پی ہیرئٹ ہرمین اور جیس فلپس اور کنزروٹیو ایم پی نیدین ڈوریز نے بھی ان کے اس عمل کو سراہا ہے۔ یورپ کی ایڈیٹر کیٹی ایڈلر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ بی بی سی کی بین الاقوامی نیوز کا ایک بڑا نقصان ہے۔ میں ان کو مس کروں گی کیونکہ وہ غیر ملکی نیوز میں میرے علاوہ واحد خاتون ایڈیٹر ہیں۔کیری گریسی نے جو 30 برس سے بی بی سی کے ساتھ منسلک ہیں، اتوار کو ایک کھلے خط میں بی بی سی پر الزام لگایا تھا کہ یہاں ایک خفیہ اور غیر قانونی تنخواہ دینے کا رواج ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسکے دو تہائی سٹارز جو 150,000 پاﺅنڈ سے زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں وہ مرد ہیں، بی بی سی کو بھروسے کے فقدان کا سامنا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے بیجنگ بیورو میں ایڈیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے لیکن ٹی وی نیوز روم میں وہ اپنی پہلی پوسٹ پر واپس چلی جائیں گی جہاں امید ہے کہ مجھے برابر تنخواہ ملے گی۔گریسی نے جو چین کی سپیشلسٹ ہیں اور روانی سے مینڈرن بولتی ہیں، اپنے بلاگ میں شائع ہونے والی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ لائسنس فیس دینے والو، بی بی سی تمہاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر بہت مایوسی ہوئی ہے کہ بی بی سی کے دو مرد انٹرنیشنل ایڈیٹر دو خواتین ایڈیٹروں سے کم از کم 50 فیصد زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ 2010 کے برابری کے قانون کے مطابق جو مرد اور خواتین برابر کام کرتے ہیں انہیں برابر ہی تنخواہ ملنی چاہیے۔ بی بی سی کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کارپوریشن کیلئے تنخواہ میں غیر جانبداری اہم ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -برطانیہ -