فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر324

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر324
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر324

  

ہمارے ملک میں تو فنکاروں کو سراہنے‘ ان کی خدمات کا اعتراف کرنے اور ان کے کاموں کو محفوظ رکھنے کا کوئی طریقہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ہمارے ہاں یہ سوچ ہی نہیں ہے لیکن بھارت میں فن کاروں کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ کیلئے محفوظ رکھنے کی رسم اب عام ہو چکی ہے۔ پرانے فن کاروں کے کاموں کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ ان کے حالات زندگی کتابوں اور ویڈیو کیسٹوں میں اکٹّھے کئے جا رہے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں تک یہ ورثہ پہنچایا جا سکے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر323 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بھارت میں بیگم اختر کے مدّاحوں نے ان کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرنے کی غرض سے ایک دستاویزی فلم بنائی ہے جس کی طوالت 27 منٹ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انڈیا کے فلمز ڈویژن نے بھی بیگم اختر کی زندگی ہی میں بیس منٹ پر محیط ایک دستاویزی فلم بنائی تھی۔ ان دونوں فلموں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو بیگم اختر کی زندگی اور فن کی تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ کسی زمانے میں اختر بائی فیض آبادی کے ایک پرستار کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے فیض آباد کے تمام در و دیوار پر ’’ہائے اختری‘‘ لکھ دیا تھا۔ اس شخص کا نام دیوانہ حشمت تھا۔

یہ دیوانہ تو اپنی دیوانگی کے عالم میں خدا جانے کہاں سے کہاں نکل گیا مگر ایس کالی داس نامی ایک عقیدت مند نے اپنی دستاویزی فلم کا نام ہی ’’ہائے اختری۔۔۔ بیگم اختر کی یاد میں‘‘ رکھا ہے۔ اس فلم کے آغاز میں بیگم اختر کی پُرسوز مدھ بھری آواز میں بہزاد لکھنوی کی اس غزل کے اشعار سننے میں آتے ہیں جسے انہوں نے گھر گھر پہنچا دیا تھا۔

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے۔

کیمرا پہلے تو دیواروں پر لکھے ہوئے ’’ہائے اختری‘‘ کے نعرے دکھاتا ہے جبکہ پس منظر میں یہ غزل گونج رہی ہے۔ چند دیواریں دکھانے کے بعد سکرین پر ایک فقیر نظر آتا ہے جو بڑے عقیدت مندانہ انداز میں کہہ رہا ہے کہ اختری بائی جیسی طوائف کبھی پیدا نہیں ہوئی۔

ایس کالی داس اس فلم کے مصنّف‘ فلم ساز اور ہدایت کار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی دستاویزی فلم میں اختری بائی کی گائیکی پر اتنی توجّہ نہیں دی ہے جتنی کہ ان کی رنگا رنگ شخصیت کو اہمیت دی ہے۔

انہوں نے کہا ’’میری فلم بیگم اختر کا ایک نفسیاتی روپ ہے۔ انہوں نے ایک عزّت دار خاتون بننے کے لیے جو جدوجہد کی اس میں ان کی اس خواہش کا اظہار نظر آتا ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ شریف اور معزّز بیگمات جیسی عزت حاصل کریں لیکن طوائف والی آزادی کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ میں نے یہ فلم کسی سنگیت یا ڈراما اکیڈمی کے لیے نہیں بنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں اختری بائی کی گائیکی اور موسیقی پر زیادہ دھیان نہیں دیا گیا۔ یہ فلم دراصل میں نے ایک کمرشل ٹی وی ادارے کے لیے بنائی ہے۔ اس لیے ان کی شخصیت کے روپ اُجاگر کیے ہیں۔‘‘

اس دستاویزی فلم میں بیگم اختر کے رشتے دار‘ قریبی واقف کار اور شناسا ان کے بارے میں اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی پیدائش‘ ابتدائی تعلیم و تربیت کا بھی اس میں نقشہ پیش کیا گیا۔ وہ کس طرح کلکتہ اور پھر بمبئی گئیں مگر مایوس ہوکر دوبارہ لکھنؤ لوٹ آئیں۔ اس کی وجوہات اور اسباب انہوں نے بڑی خوبصورتی سے پیش کیے ہیں۔

ایس کالی داس نے اس فلم کے بارے میں یہ وضاحت کی ہے کہ یہ اختری بائی کی سوانح حیات نہیں ہے بلکہ یہ ایک نفسیاتی تجزیہ ہے جس میں یہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بیگم اختر کس قسم کی ذہنی کیفیات کی حامل تھیں۔ وہ نفسیاتی طور پر ایک باعزت حیثیت حاصل کرنے کی خواہاں تھیں جبکہ وہ اس آزادی سے بھی دستبردار نہیں ہونا چاہتی تھیں جو ایک آزاد خیال شوبزگرل کو حاصل ہوتی ہے۔

اس دستاویزی فلم میں سب سے زیادہ دلچسپ حصّہ وہ ہے جس میں بیگم اختر کی نہایت قریبی اور رازدار سہیلی بیگم سعیدہ رضا نے اپنے واقعات بیان کیے ہیں۔ درحقیقت بیگم سعیدہ رضا ہی کی کوششوں کی بدولت بیرسٹر اشتیاق احمد سے اختری بائی کی شادی ہوئی تھی جس کے بعد بیگم سعیدہ رضا کے بقول وہ اختری بائی سے بیگم اختر بننے کے بعد ایک مطمئن اور پُرسکون زندگی بسر کرنے لگی تھیں۔ ان کی پرانی دلی خواہش پوری ہوگئی تھی اور انہوں نے معاشرے میں ایک معزز حیثیت حاصل کرلی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بطورِ فن کارہ بھی انہوں نے اپنا مقام نہیں کھویا تھا۔ وہ شادی کے بعد بھی نغمہ سرا رہیں اور فن کی داد سمیٹتی رہیں۔ غالباً یہی بیگم اختر کی زندگی کی معراج اور آرزوؤں کی تکمیل تھی۔

بیگم سعیدہ نے یہ بات بھی بتائی کہ اختری بچپن ہی سے جھوٹ بولنے میں استاد تھیں اور اس صفائی سے جھوٹ بولتی تھیں کہ ہر ایک کو یقین آجاتا تھا۔ ان کی بہن شمیم بیگم اور شاگرد شانتی ہیرا نند نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ وہ افیون کی عادی تھیں۔ ان کے طبلہ نواز منّے خاں اور سنگت کرنے والی شیلا دھر نے بھی دلچسپ واقعات سنائے اور بتایا کہ ایک بار جب انہوں نے نواب رام پور سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا تو اس سے پہلے بڑی ہوشیاری سے ایک سترہ لڑیوں کا ڈائمنڈ کا ہار کس طرح بطور تحفہ ان سے حاصل کیا تھا۔ ان کی ہم عصر اور معروف مغنیّہ ملکہ پکھراج نے بھی بیگم اختر کی گائیکی اور شخصیّت کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ فقرہ ہے۔۔۔ ’’وہ کمینی نہیں تھی۔‘‘

بیگم اختر کے سوانح نگار سلیم قدوائی کا بیان ہے کہ وہ ہمیشہ خود کو تنہا محسوس کرتی تھیں اور سچّے پیار کے لیے ترستی تھیں۔ لیکن تھی دبنگ ۔کہا جاسکتا ہے کہ وہ جس ماحول اور پیشے سے وابستہ تھیں اس میں سچّا پیار کس طرح پا سکتی تھیں اور پھر یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سچّا پیار حاصل کرنے کے لیے سچّا پیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

فلم ساز کالی داس کا کہنا ہے کہ بیگم اختر کی گائیکی اور نغمگی کے بارے میں انہوں نے بہت زیادہ مواد حاصل کرلیا تھا مگر ایک مختصر سی دستاویزی فلم میں اس کو سمیٹنا ممکن نہ تھا۔ کالی داس نے بیگم اختر کی گائیکی کی ایک خصوصیت یہ بتائی کہ غزل کا مطلع دراصل آنے والے اشعار کا تعارف ہوتا ہے مگر بیگم اختر کا انداز یہ تھا کہ وہ مطلع (یامُکھڑے) کو نامکمّل رہنے دیتی تھیں اور اگلے شعر میں اس کو مکمّل کرتی تھیں۔ یہ ان کا مخصوص اور منفرد اندازِ ادائیگی تھا۔

کالی داس نے بیگم اختر کے بارے میں جتنی بھی ویڈیو ٹیپ ریکارڈ کی تھی اس کا بہت زیادہ غیراستعمال شدہ حصّہ انہوں نے لکھنؤ کی سنگیت ناٹک اکیڈمی کے حوالے کردیا ہے تاکہ آئندہ کام آسکے۔

بیگم اختر نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں موسیقی کی محفلوں میں شرکت ترک کردی تھی۔ اپنی جانشین کے طور پر انہوں نے اپنی ایک شاگرد مدھورانی کو متعارف کرایا تھا۔ مدھورانی کا کہنا ہے کہ یوں تو بیگم اختر کی خدمات بہت زیادہ ہیں مگر ان کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ انہوں نے محفلوں میں غزل کو بھی کلاسیکل موسیقی کے پہلو بہ پہلو لاکھڑا کیا۔ اس سے پہلے باذوق لوگوں کی محفلوں میں کلاسیکی موسیقار اور سازندے ہی داد حاصل کرتے تھے مگر بیگم اختر نے غزلوں کے ذریعے اہلِ فن اور قدر دانوں کی داد سمیٹی اور غزل سرائی کو ایک معزز حیثیت دلائی۔

(جاری ہے )

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -