اندھیری سردرات میں مجھ سے اک سفید پوش بھکاری ملا

اندھیری سردرات میں مجھ سے اک سفید پوش بھکاری ملا
اندھیری سردرات میں مجھ سے اک سفید پوش بھکاری ملا

  


رات کا آخری پہر،گھڑی کی طرف دیکھا تو تین بج رہے تھے،جنوری کی اس ٹھٹھرتی رات میں سڑک کے عین بیچ انسان نما کچھ چیزیں نظر آئیں تو میں رک گیا۔قریب گیا تو کہنے لگے ’’بھوکے ہیں صاحب کچھ پیسے دے دو‘‘

میں نے پیسے دینے کی بجائے سوال اٹھا دیا’’ پیسے بعد میں دوں گا پہلے یہ بتائیے کہ سخت سردی اور رات کے اندھیرے میں تم بھیک کیوں مانگ رہے ہو؟یہ کام دن میں بھی تو کیا جاسکتا ہے؟‘‘

پچاس سالہ شخص ،جو کپڑوں سے تو اچھا بھلا لگتا تھا لیکن شاید کسی دکھ اور پریشانی نے اسے بوڑھا کردیا تھا،ساتھ میں چیختے چلاتے معصوم بچے اوربیوی بھی’’اپنے پر نہیں تو ان پر تو رحم کرو ‘‘میرا اندرکا مسلمان چیخ چیخ کر ان کو تبلیغ کررہا تھا لیکن وہ سننے کا نام نہیں لے رہا تھا۔میں بھی ٹھہرا ڈھیٹ صحافی ،اس کا راز فاش کروا کرہی رہا،مجبور کنبے کا سربراہ نم آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے بولا’’صاحب !جب غیرت اور بھوک مل جائیں تو رات کا اندھیرا ہی کام آتا ہے‘‘مجھے ایسے لگا کہ کسی نے زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پر مارا ہے،زیرو لیول ٹمپریچر پر میری حالت 45سینٹی گریڈ والی تھی،میری جستجو اور ضد کے سامنے ہار کر بولا!

’’سائیں اسیں رہک (مزارع)ہیں،بھتار(مالک)دی فصل نہ وکن تو ایں حال ہوگیا‘‘وہ بول رہا تھااور میں سوچ میں گم تھا ،پاکستان کی موجودہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے ملک کی اس سترفیصد آبادی کے ساتھ کیا کردیا کہ لوگ سڑکوں پر آگئے،وہ لوگ جواپنے علاقوں میں ٹھاٹھ باٹھ سے رہنے والے تھے آج بیوی بچوں کے ساتھ سڑکوں پر ہیں،پنجاب میں مسلم لیگ ن ،سندھ میں پیپلز پارٹی،خیبرپی کے میں تحریک انصاف کی حکومتوں نے یقیناً اچھے کام کیے ہونگے لیکن کام وہ ہوتا ہے جس کا جادو سر چڑھ کربولے،جو اپنی کامیابی کا چیخ حیخ کر اعلان کرے۔

پنجاب ،سندھ میں چھوٹے بڑے کاشتکار گنے کی کم قیمت مقرر ہونے کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں، کچھ کسانوں نے احتجاجاً اپنے گنے کی کھڑی فصل کو آگ لگا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا کیوں کہ گنے کی کم قیمت مقرر ہونے سے ان کے پیداواری اخراجات پورے نہیں ہو رہے ہیں اور ان کو مالی نقصان کا سامنا ہے،مل مالکان اپنی ملیں نہیں چلا رہے،مڈل مین چھوٹے کسانوں کو لوٹ رہے ہیں،پنجاب میں چھوٹے ’’کنڈوں‘‘والوں نے بھی قانونی کارروائی کے خوف سے اپنے کاروبار بند کردیے ہیں،اب فصلیں کھیتوں میں ہی جلائی جارہی ہیں،جو فصل بک بھی جائے تو مقرر کردہ ریٹ نہیں دیا جاتا،یہ ملیں حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے لوگوں کی بھی ہیں، سندھ کی اکثر شوگر ملز سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے جاگیرداروں کی ہیں،صرف گنے کی ساتھ ہی ایسا نہیں ہورہا گندم اور کپاس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔

زرعی شعبہ مسلسل نظر انداز کئے جانے کے نتیجے میں اس سال زراعت کی نمو گزشتہ پچیس برس میں سب سے کم سطح پر آ گئی، مالی سال 16۔2015 کے لیے زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.9 فیصد مقرر کیا گیا تھا تاہم یہ منفی 0.19 فیصد رہی،مالی سال 2016-17میں بھی یہی حال رہا، زرعی شعبے کی منفی گروتھ یا ترقیِ معکوس کی بڑی وجہ کپاس کی پیداوار میں 28 فیصد کمی تھی، مکئی اور چاول کی گروتھ بھی منفی رہی جبکہ گندم اورگنے کی پیداوار میں معمولی اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر مسلسل تیسرے سال اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس سال کے دوران زراعت کے ساتھ حکومت کے بد ترین سلوک کے شدید ترین نتائج سامنے آئے ہیں۔

چاول کی صنعت جو دو ارب ڈالر کے قریب برآمدات حاصل کرنے کے قابل ہے وہ تباہی سے دوچار ہے جبکہ کپاس کی فصل بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔ اس سال ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے بیرون ملک سے روئی کی خریداری میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہو ا ہے۔

صرف دیہات میں یہ کیفیت نہیں بلکہ ڈی ایچ اے جیسے پوش علاقے میں بھی میں نے لوگوں کے چہروں پر پریشانی دیکھی،پراپرٹی ڈیلرز کے دفاتر خالی پائے گئے،سابق اور مفرور وزیر خزانہ نے اپنی جائیداد میں 91گنا اضافہ تو کیا ساتھ ہی ساتھ یہاں کے پراپرٹی کاروبار تباہ کردیا،اتنے ٹیکس لاگو کیے کہ سارا سرمایہ دوبئی منتقل ہوگیا،تاجروں کو ودہولڈنگ ٹیکس کے نام پر برباد کردیا۔

زراعت ،تجارت ہی نہیں عدل و انصاف کی صورت حال بھی بہت مخدوش ہے صرف ذمہ دار حکومتیں ہی نہیں اور لوگ بھی اس’’جرم ‘‘میں شامل ہیں،’’بابا‘‘کو لیڈری کا شوق پیدا ہوچکا ہے نوٹس پر نوٹس لیا جارہا ہے،تاریخ پر تاریخ مل رہی لیکن انصاف عدالتوں کی فائلوں میں دفن ہے،ہمارے سامنے چنیوٹ کی رانی بی بی اور پنڈی کے مظہر جیسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جن کی جوانیاں بے گناہی کے باوجود جیلوں میں برباد ہوگئیں،کئی تو بے جرم موت کی بھینٹ چڑھ گئے،کئی کچہریوں میں دھکے کھاتے کھاتے زندگی کی شام کروا بیٹھے لیکن انصاف کی دیوی کی آنکھوں سے پٹی نہ اتری۔

میں نے بھی 2007میں افتخار تیرے جانثار،بے شمار بے شمار کے نعرے لگائے تھے،اس افتخار نے بھی آنیاں، جانیاں دکھا کر سیاسی جماعت بنالی اور عوام منہ تکتے رہے،انصاف مانگتے رہے اور آج تک مانگ رہے ہیں۔

بات تو سچ ہے لیکن کڑوی ہے نعرہ توسب عوام کا لگاتے ہیں لیکن پیٹ اپنا بچاتے ہیں،شملہ اپنا اونچا رکھنے کیلئے لفظ عوام کا استعمال کرتے ہیں،اس وقت وزیر اعظم بننے کی دوڑ لگی ہے۔ایک ’’دلوں کے وزیراعظم ‘‘ہیں جو کس فیصلے کو ماننے،اپنی جماعت ،حتیٰ کہ بھائی پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں،دوسرے فیس بک کے وزیر اعظم ہیں جو صرف ایم این اے ہوتے ہوئے شیروانی پہن کر قوم سے خطاب کا شوق پورا کرتے ہیں،ایک ایسے وزیر اعظم بھی ہیں جو اپنی ماں اور نانا کی طرح بننے کی ناکام کوشش کررہے ہیں،ایک خاتون بھی وزیر اعظم کی اس دوڑ میں شامل ہیں،ٹیڑھی ٹوپی اور جبہ و دستار والے بھی درجن بھر وزیر اعظم موجود ہیں،جو اصلی اور منتخب وزیر اعظم ہیں وہ نااہل وزیراعظم کی بات سنتے ہیں،ایک قدم تک وہ اپنی خواہش پر نہیں اٹھاتے،وہ ملک کو چلانے کی بجائے ’’نااہل وزیر اعظم‘‘کی صفائیاں پیش کرتے نظر آتے ہیں،ایسے حال میں لوگ سڑکوں پر نہ آئیں تو کیا کریں،بھیک نہ مانگیں تو گھروں میں بیٹھ کر کیابچوں کے مرنے کا انتظار کریں۔

میں نے اس خوش پوش بھکاری کے سر پر ہاتھ رکھا،بچوں کو پیار کیا جوجیب میں تھا تھما کر بوجھل قدموں کے ساتھ گھر کو لوٹا ۔رات بھر سو نہ سکا۔صبح اٹھاتو سامنے ٹی وی پر عمران خان اور بشریٰ مانیکا کی شادی کی خبر چل رہی تھی،شہنائی کے ساتھ بالی ووڈ گانوں کا تڑکا بھی لگایا جارہا تھا،جنتا کو مرنے دو،تم کو خوشیاں مبارک،تم کو شادیا ں مبارک۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ