مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے امریکہ اور بھارت میں لڑائی ہوگئی، سنگین تنازعہ کھڑا ہوگیا

مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے امریکہ اور بھارت میں لڑائی ہوگئی، ...
مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے امریکہ اور بھارت میں لڑائی ہوگئی، سنگین تنازعہ کھڑا ہوگیا

  


جینیوا (نیوز ڈیسک) سولر ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق بھارت کے امتیازی قوانین کے خلاف اس کا دوست ملک امریکا ایک بار پھر شکایت لے کر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے پاس جا پہنچا لیکن اب فیصلہ حتمی طور پر بھارت کے حق میں آ گیا ہے۔ گزشتہ ماہ امریکہ نے قانونی کارروائی کے نئے مرحلے کا آغاز کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بھارت نے سولر ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کے خلاف امتیازی قوانین و ضوابط بنا کر اس کی برآمدات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی جانب سے گزشتہ روز ایک بیان شائع کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے حکم کے مطابق اپنے قوانین کو تبدیل کرلیا ہے لہٰذا امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

توانائی کی پیداوار کے لئے کوئلے اور تیل پر کم ہوتے انحصار کے باعث دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں قابل تجدید ذرائع سے توانائی پیدا کرنے کی مارکیٹ پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ قابل تجدید توانائی کے میدان میں یہی مقابلہ بھارت اور امریکہ کے درمیان بھی تلخی کا باعث بن گیا۔

بھارت نے اپنی نئی قومی شمسی پالیسی 2011ءمیں متعارف کروائی تھی لیکن 2013ءمیں امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اس کے خلاف شکایت درج کروادی۔ اس شکایت میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی امتیازی پالیسی کے باعث امریکہ کی سولر ایکسپورٹ میں 90فیصد کی کمی آئی تھی۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بھارت نے سولر کمپنیوں پر بھارتی ساختہ سولر سیل اور ماڈیول استعمال کرنے کی پابندی عائد کر کے امتیازی قانون بنایا تھا۔ بعدازاں بھارت نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے احکامات کی روشنی میں اپنے قوانین میں کچھ تبدیلیاں متعارف کروائیں، جن کی بناءپر امریکہ کے حالیہ دعوے کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔

مزید : بین الاقوامی