ڈونلڈ ٹرمپ کا داماد رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، سارا کھیل بے نقاب ہوگیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا داماد رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، سارا کھیل بے نقاب ہوگیا
ڈونلڈ ٹرمپ کا داماد رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، سارا کھیل بے نقاب ہوگیا

  


واشنگٹن (نیوز ڈیسک) مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا غیر منقسم دارلحکومت تسلیم کرنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے ہر کسی کو حیران کر دیا۔ آج تک کسی امریکی صدر نے یہ انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی، تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایسی کیا مجبوری تھی کہ اسرائیل کی یہ خواہش پوری کر دی، باوجود اس کے کہ اس اقدام پر ساری دنیا کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سوال کا جواب امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر پر اسرائیل کی خفیہ مہربانیوں کے شرمناک انکشاف کی صورت میں اب ساری دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔

ایک ایسے وقت پر کہ جب امریکی صدر نے اپنے داماد کو مشرق وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے، ایک اسرائیلی کمپنی کی جانب سے داماد موصوف کو تین کروڑ ڈالر (تقریباً تین ارب پاکستانی روپے) دئیے جانے کا انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جیرڈ کشنر کی ریئل اسٹیٹ کمپنی نے اسرائیل کی سب سے بڑی مالی کمپنیوں میں سے ایک ’مینورا میوٹاکیم‘ سے تین کروڑ ڈالر بطور سرمایہ کاری وصول کئے ہیں۔ جیرڈ کشنر کی کمپنی کو یہ رقم گزشتہ سال ان کے مشرقی وسطیٰ کے دورے کے موقع پر دی گئی جبکہ دونوں کمپنیوں کے درمیان ہونے والی اس ڈیل کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔

امریکی صحافتی حلقوں کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت ترین تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے ایک جانب اپنے داماد کو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کا نگران بنایا ہوا ہے اور دوسری جانب ان کی کمپنی اسرائیل سے بھاری مالی مفادات حاصل کررہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے داماد اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مالی تعلقات ہی وہ وجہ ہے کی جس کی بناءپر اسرائیل امریکہ کی خارجہ پالیسی کو اپنی مرضی سے چلا رہا ہے۔ عالمی مخالفت کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی پوری طرح اسرائیل کے نرغے میں آ چکی ہے۔

مزید : بین الاقوامی