بھارت کے ہم جنس پرست نواب نے تمام بھارتی ہم جنسوں کے لئے اعلان کردیا، سب کو اپنے گھر بلالیا اور۔۔۔ بھارت سے ایک اور عجیب خبر آگئی

بھارت کے ہم جنس پرست نواب نے تمام بھارتی ہم جنسوں کے لئے اعلان کردیا، سب کو ...
بھارت کے ہم جنس پرست نواب نے تمام بھارتی ہم جنسوں کے لئے اعلان کردیا، سب کو اپنے گھر بلالیا اور۔۔۔ بھارت سے ایک اور عجیب خبر آگئی

  


نئی دلی(نیوز ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ قدیم دور کے ہندوستان کے نواب ہم جنس پرستی کے بہت شوقین ہوا کرتے تھے۔ اگرچہ اکثر اس بات کو محض ہنسی مزاح کا سامان خیال کیا جاتا ہے لیکن آج کے بھارت میں ایک انتہائی دولتمند نواب نے جو کام کیا ہے اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ نوابوں کے متعلق بنائے گئے لطائف میں کچھ حقیقت ضرور ہے۔ یہ نواب صاحب نا صرف اپنے ہم جنس پرست ہونے کا اعلان کر چکے ہیں بلکہ اپنے جیسے دیگر ہم جنس پرستوں کی فلاح و بہبود کے لئے 15 ایکڑ پر محیط اپنا عالیشان وسیع و عریض محل بھی وقف کردیا ہے۔ وہ معاشرتی بائیکاٹ کے شکار ہم جنس پرستوں کو سر چھپانے کی جگہ دینے کے لئے مزید عمارتیں بھی تعمیر کروارہے ہیں۔

دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق ریاست راج پپلا کے مہاراجہ کے صاحبزادے نواب منوندرا سنگھ گوہل ہم جنس پرستی کے شوقین ہیں اور یہ شوق رکھنے والے دیگر افراد کی بھی دل کھول کر سرپرستی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے لکشیا ٹرسٹ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کررکھا ہے۔ نواب نے 2006ءمیں جب اپنے شوق کو سرعام تسلیم کرلیا تو ان کے خاندان نے ان کا بائیکاٹ کردیا۔ان کا کہنا ہے کہ اس بائیکاٹ سے انہیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ ہم جنس پرستوں کو کس قدر سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہم جنس پرستوں کو معاشرے کے مظالم سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنا محل وقف کردیں گے۔

ہم جنس پرستی کا شوق رکھنے والے اکثر افراد معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرتے ہیں اور پتا چلنے پر عموماً انہیں گھر سے بھی نکال دیا جاتا ہے۔ نواب منوندرا سنگھ کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایک نواب ہوتے ہوئے ایسی مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں تو عام طبقے سے تعلق رکھنے والے ہم جنس پرستوں کی مشکلات کس قدر زیادہ ہوں گی۔ یہ بات سوچ کر انہوں نے اپنے محل کو ہم جنس پرستوں کی مدد کے لئے وقف کردیا اور ایک ٹرسٹ بھی قائم کردیا جبکہ مستقبل میں وہ اس ٹرسٹ کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ”میں ہم جنس پرستوں کے لئے ایسا بندوبست کررہا ہوں کہ اگر ان کے گھر والوں انہیں نکال دیں اور حتیٰ کہ وراثت سے بھی محروم کردیں تو انہیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کوئی ہم جنس پرست محض اس وجہ سے اپنی ہم جنس پرستی کو چھپانے پر مجبور نہ ہو کہ گھر والے اور معاشرہ اس کا بائیکاٹ کردیں گے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی