بھارت کی مودی سرکار کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا ،عدالت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حوالے سے ایسا فیصلہ سنا دیا کہ انتہا پسند ہندوؤں کو سانپ سونگھ گیا

بھارت کی مودی سرکار کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا ،عدالت نے ڈاکٹر ذاکر ...
بھارت کی مودی سرکار کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا ،عدالت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حوالے سے ایسا فیصلہ سنا دیا کہ انتہا پسند ہندوؤں کو سانپ سونگھ گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت کی مودی سرکار کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا ،عدالت نے عالم اسلام کے معروف مبلغ اور مشہور دینی رہنما ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ضبط کی گئی املاک کو انڈیا کے سب سے بڑے تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ(ای ڈی) کے قبضے میں دینے سے انکار کرتے ہوئے ایسے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں کوئی فوجی اڈہ تعمیر نہیں کر رہے: چینی وزارت خارجہ
بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق دنیائے اسلام کے مشہور بھارتی نژاد عالم دین اور پیس فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر ذاکر نائیک کی جائیداد ضبطی کے کیس میں انڈیا کے سب سے بڑے تحقیقاتی ادارے ’’انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ (ای ڈی)کے حکام کو جو ڈیشل ٹربیونل کے جج جسٹس منموہن سنگھ نے سخت برا بھلا کہتے ہوئے جھاڑ پلائی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ضبط کی گئی جائیداد ،بینک اکاؤنٹس اور دیگر املاک کا قبضہ انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ کو دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ وہ ایسے 10بابوں(ہندو مذہبی پیشواؤں)کے نام بتا سکتے ہیں جن کے پاس 10ہزار کروڑ سے زائد کی املاک موجود ہیں اور ان پر کئی مجرمانہ مقدمات بھی چل رہے ہیں لیکن کیا انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ نے ان میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی کارروائی کی ؟بھارتی تحقیقاتی ادارے نے آج تک ’’بابا آسا رام‘‘کے خلاف کیا کارروائی کی ؟۔جوڈیشل ٹربیونل میں شامل ججز نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائیریکٹو ریٹ نے گذشتہ دس سالوں میں آسا رام کی جائیدا د ضبط کرنے کے لئے کوئی ایک بھی کارروائی نہیں کی لیکن ڈاکٹر ذاکر نائیک کے معاملے میں بہت تیزی سے کام کرتی نظر آ رہی ہے ۔

اتنی بے عزتی کروانے کے بعد بھارتی تحقیقاتی ادارے کے وکیل نے جب پانسہ پلٹتے دیکھا تو عدالت کو گمراہ کرنے کے لئے نیا پینترا بدلا اور کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک نے اپنی تقریروں کے ذریعہ نوجوانوں کو بھڑکایا ہے،جس پر جسٹس منموہن سنگھ نے بھی فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ نے ابھی تک بادی النظر ثبوت یا کسی بھی ایسے نوجوان کا بیان پیش نہیں کیا کہ کس طرح سے ڈاکٹر ذاکر نائک کی تقریروں سے متاثر ہو کر نوجوان غیر قانونی کاموں میں لگ گئے۔انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے کسی کا بیان ریکارڈ کیا ہے کہ ان کی تقریروں سے وہ کیسے متاثر ہوئے ہیں؟ آپ کی چارج شیٹ میں تو یہ بھی درج نہیں ہے کہ 2015 میں ڈھاکہ دہشت گردانہ حملے میں ان تقریروں کا کیا رول تھا؟۔جسٹس منموہن سنگھ نے مودی سرکار اور بھارتی تحقیقاتی ادارے کی گوشمالی کرتے ہوئے ان الفاظ پر ہی بس نہیں کیا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ ایسا لگتا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ نے اپنی سہولت کے حساب سے 99 فیصد تقریروں کو نظر انداز کر دیا اور صرف ایک فیصد پر اعتماد اظہار کیا۔