’’آئی لو مسلمز‘‘ لکھنے والی ہندو لڑکی کی خود کشی کے بعد انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل ‘‘ نے ایسا خوفناک اعلان کر دیا کہ ’’گاؤ ماتا ‘‘کے پجاری ہکا بکا رہ گئے ،مودی کی جمہوریت پسندی کا جھوٹا دعویٰ بھی بیچ چوراہے میں پھوٹ گیا

’’آئی لو مسلمز‘‘ لکھنے والی ہندو لڑکی کی خود کشی کے بعد انتہا پسند ہندو ...
’’آئی لو مسلمز‘‘ لکھنے والی ہندو لڑکی کی خود کشی کے بعد انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل ‘‘ نے ایسا خوفناک اعلان کر دیا کہ ’’گاؤ ماتا ‘‘کے پجاری ہکا بکا رہ گئے ،مودی کی جمہوریت پسندی کا جھوٹا دعویٰ بھی بیچ چوراہے میں پھوٹ گیا

  


نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت میں برھتی ہوئی انتہا پسندی نے نریندر مودی کی نام نہاد جمہوریت پسندی کے دعویٰ کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے ،انڈیا میں مسلمانوں سمیت بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے پر تشدد واقعات نے ملک بھر کی اقلیتوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کیا ہوا ہے ،چند روز قبل بھارت میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’’وٹس ایپ ‘‘ پر ’’آئی لو مسلمز ‘‘ لکھنے والی ہندو لڑکی کی خود کشی کے بعد اب ایک اور تنازعہ سامنے آگیا ہے ،انتہا پسند ہندو تنظیم ’’ بجرنگ دل‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ آج کے بعد اگر کسی ہندو لڑکی نے دیگر مذاہب کے لڑکوں سے دوستی کی تو انہیں بھیانک نتائج بھگتنا ہوں گے ۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کی مودی سرکار کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا ،عدالت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حوالے سے ایسا فیصلہ سنا دیا کہ انتہا پسند ہندوؤں کو سانپ سونگھ گیا

مشہور بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق تین روز قبل کرناٹک میں بی کام فرسٹ ائیر کی طالبہ دھنیا شری نے وٹس ایپ پر اپنے ایک دوست کے ساتھ دوران چیٹنگ’’آئی لو  مسلمز ‘‘ کا فقرہ لکھا جس کو بنیاد بنا کر بی جے پی یوتھ ونگ کے مقامی رہنما کی مسلسل دھمکیوں کے بعدخوبرو طالبہ نے خود کشی کر لی تھی کہ بعد اب انتہا پسند ہندو تنظیم ’’بجرنگ دل ‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ آج کے بعد اگر کوئی ہندو لڑکی کسی دیگر مذاہب کے لڑکوں کے ساتھ ’’دوستی کی مرتکب ‘‘ پائی گئی تو اسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔انتہا پسند ہندو تنظیم نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی لڑکی کسی غیر ہندو کے ساتھ گھومتی ملے گی اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی کیونکہ ہندو مذہب کا تحفظ کرنا بجرنگ دل کا فریضہ ہے۔دوسری طرف پولیس نے خود کشی کرنے والی لڑکی کے والدین کی جانب سے کٹوائی گئی ایف آئی آر پر کارروائی کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی یوتھ ونگ کے مقامی لیڈر انیل راج کو گرفتار کر لیا ہے ۔

واضح رہے کہ خود کشی کرنے والی بی کام کی طالبہ نے یونیورسٹی کے وٹس ایپ گروپ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ وٹس ایپ پر چیٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ ملک میں بسنے والے دیگر  مذاہب کی طرح مسلم کمیونٹی کو بھی پسند کرتی ہے جبکہ دوران چیٹ اس نے ’’آئی لو مسلمز ‘‘ لکھا تو یہ بات اس گروپ میں شامل ہندو نوجوانوں کو ناگوار گذری جس پر انہوں نے سوشل میڈیا پر اس چیٹ کے سکریں شاٹس وائرل کئے جس کے بعددھنیا شری  کو انتہا پسند ہندو تنظیم نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور فون پر کہنا شروع کر دیا کہ وہ اسے برباد کر کے رکھ دیں گے ،اس کی تصویروں کو فوٹو شاپ کے ذریعے ایڈٹ کر کے  سوشل میڈیا پر ڈال دیں گے جس کے بعد وہ اور اس کاخاندان کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے گا ۔خود کشی کرنے والی لڑکی کی ماں کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز کالرز نے اسے بھی فون پر اپنی بیٹی کو سمجھانے کا کہتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں ۔طالبہ نے خود کشی سے پہلے ایک تحریر میں لکھا تھا کہ ’’وہ انتہا پسند ہندو تنظیم کی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں لیکن جب سے انہوں نے میری جعلی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی ہے میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والی ذلت کے ڈر سے خود کشی کر رہی ہوں ۔پولیس نے مرنے والی لڑکی کے والدین کی درخواست پر انیل راج کو تو گرفتار کر لیا ہے لیکن ایف آئی آر میں نامزد کسی دوسرے ملزم کو ابھی تک حراست میں نہیں لیا ۔دوسری طرف بجرنگ دل کے مرکزی رہنماؤں نے کرناٹک کے مقامی لیڈروں کی جانب سے ہندو لڑکیوں کو دی جانے والی اس سنگین دھمکی  کو درست قرار دیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس