دوہرا معیار!!!

دوہرا معیار!!!
دوہرا معیار!!!

  

پوچھنا تھا کہ یہ جو ڈھیل , رعایتیں ,مراعات اور سہولیات ہیں ،کیا صرف اشرافیہ کو ہی حاصل ہیں , رعایا کو بھی ملیں گی؟؟؟ 28دسمبر 2018 کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت سانحہ ماڈل ٹاون کیس اور نیب کے ملزم شہبازشریف نے کی۔ صرف اتنا ہی نہیں موصوف نے نیب سے کارکردگی رپورٹ طلب کرلی اور یہ حکم دیا کہ آڈٹ حکام سوموار اور نیب حکام منگل کو مجھے بریفنگ دیں۔ گویا تبدیلی سرکار نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت اپوزیشن لیڈر کو سونپ کر گنگا الٹی بہا دی۔ اب چور اور قاتل خود احتساب کریں گے۔ جب ملزم خود اپنے محتسب کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا اختیار پالے تو احتساب کا عمل کیونکر شفاف رہ پائے گا؟؟؟ تبدیلی سرکار نے نیب کی ڈور ہی شہبازشریف کو تھمادی۔ اب شہبازشریف جیسے چاہے نیب اور آڈٹ حکام کے سلوک کرے۔ 

تبدیلی سرکار نے صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ شریف برداران کیلیے دو کنال کا سیل کوٹ لکھپت جیل میں تیار کروا دیا , جس میں سونے کاالگ کمرہ , بیڈ , بستر , اٹیچ باتھ , کچن , لان , ٹی وی , اخبار , لان , میڈیکل بورڈ اور دو خدمتگار ہمہ وقت دستیاب ہوں گے۔ یہ قومی چوروں اور قاتلوں کیلیے جیل تیار کی گئی ہے یا پکنک اسپاٹ ؟؟؟ دوسری طرف میڈیا میں یہ چرچا کیا جارہا ہے کہ نواز شریف کو سیکیورٹی ایریا کی صفائی کا کام سونپا گیا ہے۔ غور کیا جائے تو دونوں خبروں میں واضح طور پر تضاد ہے۔ تو پھر سچ کیا ہے؟؟؟ شریف برادران کے ساتھ جیل میں کیسا سلوک کرنے کا فیصلہ ہواہے؟؟؟ ابھی تک ابہام موجود ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی باربار اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے پروڈکشن آرڈزجاری کررہے ہیں۔ 

دوسری طرف عام لوگوں کے ساتھ جیلوں میں کیا سلوک ہورہا ہے؟؟؟ گزشتہ دنوں ایک صاحب کی نیب تحویل میں اس طرح موت ہوئی کہ بعد از مرگ بھی ہتھکڑی نہ کھل سکی۔ نیب شریف برادران , زرداری اور دیگر بڑی مچھلیوں کوتو ہتھکڑی لگانا ہی بھول جاتا ہے مگر ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑی لگانا بالکل نہیں بھولتا۔ اورتواور ۔۔۔ شہبازشریف کی منسٹرز کالونی کی سرکاری رہائش گاہ میں پمز ہسپتال کے ڈاکٹر سے فزیو تھراپی کروائی جاتی ہے۔

غالباً چیف جسٹس بھی حکومت اور نیب سے اس دوڑ میں کسی طور پر بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔ اسی لیے تو 31 دسمبر کو آصف زرداری اور فریال تالپور کی یقینی گرفتاری نا معلوم وجوہات کی بنا پر عمل میں نہ آسکی۔ پے در پے ضمانت میں توسیع کی یہ عنایت یقیناً سمجھ سے باہر ہے۔ بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ چیف جسٹس نے اب تو بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام بھی جے آئی ٹی رپورٹ اورای سی ایل سے نکلوا دئیے ہیں۔ مزید یہ کہ نواز شریف کا کیس ایک مرتبہ پھر جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پہنچ چکا ہے۔ بلاول تومعصوم قرار پاچکے , جلد نواز شریف بھی جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت سے رہائی کا پروانہ حاصل کرلیں گے۔ اور موجودہ لیگل سسٹم میں لوٹی ہوئی دولت واپس آنے کا خاطرخواہ امکان بھی موجود نہیں ہے۔ ڈی جی نیب پلی بارگین قانون کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ان کو یہ فکر لاحق ہے کہ پلی بارگین قانون ختم ہوا تو لوٹا ہوا مال , تھوڑا بہت ہی سہی واپس لینے کا یہ واحد طریقہ بھی ختم ہوجائے گا۔ پلی بارگین قانون سے لوٹی ہوئی رقم کی مکمل طورپر ریکوری نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا نیب قوانین میں ایسی تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے کہ جس سے احتساب کا عمل مزید مؤثر بنایاجاسکے , اور نہ صرف قومی دولت لوٹنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جاسکے بلکہ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے میں حائل قانونی پیچیدگیاں دور ہونی چاہیں ۔ مگر پی ٹی آئی حکومت کے لیے کسی بھی قسم کی اصلاحات لانا کافی مشکل دکھائی دیتاہے کیونکہ سینیٹ میں اکثریت نہیں ہے۔ پارلیمانی نظام کو چلانے کے لیے ہی پی ٹی آئی نے شہبازشریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔ گویا سمجھوتہ کرکے اپنی کمزوری کا بھی اعتراف کیا اور پارلیمانی نظام کی ناکامی کا بھی ثبوت دیاہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اگر یہ کمزوریاں , خامیاں برقرار رہیں اور کوتاہیاں سرزد ہوتی رہیں تو قوم کا احتساب کے عمل سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ