غیر ملکی امداد اور عمران خان کی ترجیحات

غیر ملکی امداد اور عمران خان کی ترجیحات
غیر ملکی امداد اور عمران خان کی ترجیحات

  

پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے قرضوں کی اہم ضرورت ہے۔ اِس موضوع پر بحث لا حاصل اور وقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ ٹی وی چینلز پر جب مو ضوعات کا قحط پڑ جاتا ہے تو وُہ اس قسم کی بحث کو شروع کر دیتے ہیں کہ آیا پاکستان کو قرضہ لینا چاہئے یا نہیں لینا چاہئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک ترقی پذیرمُلک ہے۔ جس کی معا شی یا اقتصادی حالت اتنی مضبوط نہیں کہ وُہ اپنی پیدوار کی برآمدات سے اپنے مُلک کے اخراجات کو بر داشت کر سکے۔ ہم نے کئی بار اِس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ جب لوگ حکومت سے باہر ہوتے ہیں تواُن کو حکومت کی مجبوریوں کا دُرست علم نہیں ہوتا۔ وُہ اپنی رائے کا اظہار کھُلے بندوں کر سکتے ہیں۔ اُنکو ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ لیکن جب وُہ حکومت میں آ جاتے ہیں تو اُن کو احساس ہوتا ہے کہ اصل صورتِ حال کیا ہے؟

یاد کیجئے کہ نواز شریف صاحب نے بھی کشکول توڑنے کی بات کی تھی۔پاکستان کی قسمت بدلنے کا خُوش کُن نعرہ لگایا تھا۔ لیکن ہم سب نے دیکھا کہ نواز شریف کے ہی دورِ حکومت میں پاکستان نے بھاری سُود پر دوسرے ممالک سے قرضہ لیا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مُناسب ہوگا کہ پاکستان کی حکومت نے قرضوں کا سُود چُکانے کے لئے بھاری سُود پر قرضہ لیا۔ ہمارے مُلک کو آئی ایم ایف کے قرضوں کی لت پڑ گئی ہے۔ آئی ایم ایف ایک بین الااقومی ادارہ ہے جو ترقی پذیر ممالک کو غربت ہٹانے، نئے روزگار پیدا کرنے کے لئے، پیداواری پرو جیکٹس شروع کرنے کے لئے، نئے ڈیم بنانے کے لئے کم شرحِ سود پر قرضے فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے کے کوئی سیاسی مقاصد تو نہیں ہوتے لیکن یہ ادارہ آزادانہ کام کرنے سے بھی قاصر ہے۔ کسی نہ کسی لیول پر اِن کے اعلیٰ حکام پر بڑی طاقتوں کا دباؤ ہوتا ہے۔ کیو نکہ یہ وُہ ممالک ہوتے ہیں جو آئی ایم یف کو فنڈز مہیا کرتے ہیں۔ ماضی میں ہمارے امریکہ سے تعلقات بہتر تھے۔ لیکن نواز شریف کے آخری ایام میں تعلقات کافی حد تک بگڑ چُکے تھے۔ عمران خان کی غیر متوقع جیت سے امریکہ کے تحفظات اور خدشات میں اضافہ ہُوا۔ امریکہ نے پاکستان کو اپنی شرائظ منوانے کے لئے افغانستان میں ڈو مور کرنے کے مطالبے کو دوہر ایا لیکن عمران خان نے امر یکی دباؤ اور مطالبات کو من و عن ماننے سے انکار کر دیا۔ جس کی پاداش میں امر یکہ نے اپنی مالی امداد بند کر دی۔عمران خان کا منطقی جواب یہ تھا کہ پاکستان اب کسی بھی مُلک کے لئے آلہ ء کار نہیں بنے گا۔ 

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہُوا ہے کہ کسی وزیر اعظم نے امریکہ کو دو ٹوک الفاظ میں ایسا جواب دینے کی کو شش کی ہو۔ ایسی صورت حال کے تناظر میں آئی ایم ایف سے آسان شر ائط پر پاکستان کے لئے قرضے کا حصول کیسے ممکن ہو سکتا تھا؟

جیسا کہ ہم پہلے عرض کیا کہ پاکستان ابھی تک اس پو زیشن میں نہیں کہ وُہ بن قرض لئے ہوئے اپنی بنیاد پر چل سکے۔ لیکن موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لینا سے اجتناب کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وُہ آئی ایم ایف کی شرائظ کو تسلیم کرکے عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالنا چا ہتی۔ اس کی سیدھی سی وجہ تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کو اپنی کار کردگی سے مایوس نہیں کرنا چاہتی اور حکومت کی کوشش ہے کہ عوام اُس کی کار کردگی سے بد دل نہ ہو۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ حکومت کی خواہش ہے کہ اُس کو کم شرح سُود پر قرضہ مِلے اور اگر قرضوں کی بر وقت ادائیگی نہ بھی ہو سکے تو کم از کم کریڈٹ ریٹنگ میں مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جب کہ مُسلم لیگی حکومت آئی ایم ایف یا دوسرے ممالک سے قرضے لیتی تھی تو اُسکو حکومت کے کارناموں میں شمار کیا جاتا تھا اب جب عمران خان دوست ممالک سے آسان شرح سُود پر قرضے لیتا ہے تو اُس کو بھیک مانگنا کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زرداری اور نواز شریف دور میں قرضوں کی بھر مار رہی ہے۔ لیکن اس سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ قرضے جن مقاصد کے لئے حاصل کئے گئے تھے اُن مدوں میں کبھی استعمال نہیں ہوئے۔ جس سے مُلک کی معیشت کو مزید دھچکا لگا۔ موجودہ حکومت مُلک کو چلانے کے لئے دوست ممالک سے آسان شرح سُود پر قرضے لے رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کہ مُلک کو سیاسی طور پر اس قابل بنائے کہ کوئی مُلک حکومت کو ڈکٹیٹ کرنے کی پوزیشن میں نہ رہے۔ عمران خان نے مُلک کی معیشت اور سیاست کا کعبہ دُرست کرنے کی سعی کی ہے۔ انُہیں مُلک کو سنبھالنے اور چلانے کے لئے وقت درکار ہے۔اِس حکومت کی اگر کوئی ناکامی کہی کا سکتی ہے تو وُہ یہ ہے کہ اِنہوں نے حکومت حاصل کرنے سے پہلے ہوم ورک بجا طور پر نہیں کیا۔ یا ان کے پاس مُلک کی معیشت کے بارے میں دُرست موجود نہ تھی۔ اسد عُمر کی وجہ سے عوام کو امیدیں تھیں کہ مُلک کی مالی مشکلات پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ لیکن بد قسمتی سے اُنکے چند بیانات کو توڑ موڑ پر اخبارات نے پیش کیا۔ جس سے عوام میں مایوسی پیدا ہوئی اور دوسری بات یہ ہے کہ اپوزیش جماعتوں نے اسد عُمر اور وزیر ا عظم کے درمیان غلط فہمی پیدا کرکے اُن میں دُوری پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن عمران خان نے ساری تنقید کے باوجود وزیر خزانہ اسد عُمر کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

عمران خان فضول دورے کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ وُہ اُن ممالک کا ہی دورہ کرتے ہیں جہاں سے پاکستان کو مالی امداد مل سکتی ہے یا دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔۔ سعودی عرب کے بعد انہوں نے تُرکی کا کامیاب دورہ کیا ہے۔ وُہ تُرکی کے اتا تُرک سے متاثر ہیں۔ ہمارے سابقہ صدر اور جنرل مشرف بھی نہ صرف تُرکی کے اتا تُرک سے متاثر تھے بلکہ انہوں نے تُرکی میں تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ عمران خان نے مالی امداد کے علاوہ تُرک تاجروں اور صنعت کاروں کو متوجہ کرنے کے لئے اُنکو پاکستان میں خاص مرعات دینے کی بات کی ہے۔ عمران خاں کی بات میں اثر ہے۔ دوسرے ممالک کے عوام اُنکی ساد گی اور خلوصِ نیت کو پسند کرتے ہیں۔ وُہ جس جذبے کے ساتھ پاکستان کی ترقی اور بہتری کے لئے کوشش کر رہے ہیں وُہ قابلِ داد ہے۔ جس کے اثرات بھلے دیر سے نکلیں لیکن وُہ بلا شُبہ مُلک کی ترقی کے بہت مُثبت ہوں گے۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ