باپ نے تین بیٹوں کی شادی کیلئے اخبار میں اشتہار دیدیا لیکن اس کے بعد جو ہوا جان کر آپ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے

باپ نے تین بیٹوں کی شادی کیلئے اخبار میں اشتہار دیدیا لیکن اس کے بعد جو ہوا ...
باپ نے تین بیٹوں کی شادی کیلئے اخبار میں اشتہار دیدیا لیکن اس کے بعد جو ہوا جان کر آپ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے

  

ولنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک آدمی نے اخبار میں اپنے تین بیٹوں کے لیے ’لڑکیاں درکار‘ کا اشتہار دے دیا جس پر ایسا ردعمل سامنے آیا کہ جان کر آپ کو بھی ہنسی آ جائے گی۔ میل آن لائن کے مطابق نیل نامی یہ شخص امریکی شہری ہے جو اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ کچھ ہی دنوں میں نیوزی لینڈ کی سیاحت پر جانے والا ہے۔ اس نے نیوزی لینڈ پہنچنے سے پہلے ہی وہاں کے ایک اخبار میں یہ اشتہار دیا۔ اشتہار کا متن کچھ یوں تھا کہ ”ہیلو والدین! ہم امریکی ریاست اوریگن سے ہیں اور جلد آپ کے خوبصورت ملک آ رہے ہیں۔ میرے اور میری بیوی کے تین ہینڈسم اور کامیاب بیٹے ہیں لیکن افسوس کہ تینوں ابھی غیرشادی شدہ ہیں حالانکہ ان کی عمریں 28سے 32سال تک ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ ان کی نیوزی لینڈ کی بہت اچھی بیٹیوں کے ساتھ ملاقات ہو گی اور اگر یہ نہ بھی ہو سکا تو ہم کم از کم اس سے اپنے بیٹوں کو شرمندہ ضرور کر سکیں گے اور ہمیں اس میں مزہ آئے گا۔ ہم 26دسمبر کو نیوزی لینڈ پہنچ رہے ہیں اور 7جنوری 2019ءتک وہاں رہیں گے۔“ اشتہار کے اختتام میں نیل نے اپنا ای میل ایڈریس بھی فراہم کیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ اشتہار نیوزی لینڈ میں سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوا اور اکثر لوگوں اس کا تمسخر اڑایا۔لوگ پوچھتے رہے کہ اب تک ان کے بیٹوں کی شادیاں کیوں نہیں ہو سکیں؟ کوئی ’خاص وجہ‘؟اشتہار بہت زیادہ وائرل ہونے پر میڈیا نے نیل سے رابطہ کیا جس پر نیل نے یہ حیران کن انکشاف کیا کہ نیوزی لینڈ سے اب تک 600سے زائد لڑکیاں اور والدین اس کے ای میل ایڈریس پر اس سے رابطہ کر چکے ہیں، جو اس کے بیٹوں سے ملنے کی خواہش مند ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جب وہ لوگ نیوزی لینڈ پہنچے تو واقعی درجنوں لڑکیاں نیل کے بیٹوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لیے تیار تھیں۔ تمام چھٹیوں میں تینوں بھائیوں نے کئی لڑکیوں کے ساتھ اکیلے میں ملاقاتیں کیں۔ امریکہ واپس پہنچنے پر نیل کے سب سے چھوٹے بیٹے بنیامین نے ڈیلی میل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”جب ہمارے باپ نے ہم تینوں کو اس اشتہار اوررابطہ کرنے والی لڑکیوں کے متعلق بتایا تو ہمارے چہرے شرم سے لال ہو گئے۔ تاہم ہم لڑکیوں سے ملنے پر رضامند ہو گئے۔ ہم تینوں متعدد لڑکیوں سے ملے۔ وہ تمام لڑکیاں بہت ذہین، نرم مزاج اور فرینڈلی تھیں۔ہمیں ان کا انگریزی بولنے کا لہجہ بہت اچھا لگا۔ ہم اب بھی ان میں سے کچھ لڑکیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مستقبل میں بھی یہ رابطہ برقرار رکھیں گے اور جلد دوبارہ نیوزی لینڈ بھی جائیں گے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس