باقی کیا رہ جاتا ہے ؟

باقی کیا رہ جاتا ہے ؟
باقی کیا رہ جاتا ہے ؟

  



پاکستان کے ایوان بالا نے بھی قومی اسمبلی کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثر ت رائے سے منظور کرلیاہے ۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 پیش کیا جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔اس سے قبل یہ بل قومی اسمبلی میں بھی 315ووٹوں کی اکثریتی حمایت سے منظور کیاجاچکا ہے ۔

آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے سینیٹرز نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ جے یو آئی ف (ف) بل کی منظوری کے دوران ایوان سے واک آﺅٹ کر گئی۔

آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے وقت چھوٹی پارٹیوں کی جانب سے جس طرح اس بل کی منظوری کی مخالفت کی گئی ہے اس سے کوئی نتیجہ نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو جماعت اسلامی اورجے یو آئی ف کے احتجاج اورمخالفت میں واضح طورپر زیریں سطح درد کی ایک لہر ہے جو محسوس کی جاسکتی ہے اور جس کی سمجھ بھی آتی ہے لیکن کیا کیاجائے اب وہ زمانہ نہیں رہا ؟ فو ج اب آئین اور جمہوریت کی پاسداری کرتے ہوئے اس کا محافظ ہونے کا کردار ادا کررہی ہے ۔

حکومتی جماعت تحریک انصاف کے بعد اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے آرمی ترمیمی ایکٹ کو جس کامیابی اور باعزت طریقے سے قومی اسمبلی اورسینیٹ میں کثرت رائے کے ساتھ جس کامیابی سے منظور کروایا  ، بلاشبہ اس پر داد تحسین کی مستحق ہیں ۔

قوم تحریک انصاف ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے بلاشبہ یہی توقع رکھتی تھی کہ پاکستان کو ملکی سرحدوں پر درپیش حالات کے پیش نظر وسیع ترقومی مفاد میں آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع کے بل کواس تاریخی انداز میں پارلیمنٹ سے منظو ر کروائیں کہ یہ ایک مثال بن جائے اوریہ مثال قائم ہوچکی ہے ۔

ہماری بڑی سیاسی جماعتوں نے ملک کے بیرونی دشمنوں سمیت ملک میں موجود اندرونی شورش پسندوں کو واضح پیغام دیدیاہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، احتساب اپنی جگہ لیکن ملکی عزت ، وقار اور تحفظ و سلامتی کیلئے ساری سیاسی جماعتیں یکجاہیں۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کی طرف سے جہاں اس بل کی حمایت کا غیر مشروط طور پر اعلان کیاگیا تو وہاں پیپلز پارٹی نے بھی حکومت کی درخواست پر اپنی مجورہ ترامیم واپس لیکرسیاسی اعلیٰ ظرفی اوربصیرت کاثبو ت دیا ہے۔

آرمی ترمیمی ایکٹ بل کی اس تاریخ ساز منظوری کے تناظر میں ہمارے کچھ تجزیہ کاروں اور دانشوروں کے پیٹ میں وہ مروڑ اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ ان کوچین نہیں لینے دے رہے ۔ جابجا تجزیاتی موشگافیاں بکھیری جارہی ہیں ، کوئی ن لیگ کو بیانئے پر سمجھوتہ کرنے کے طعنے دے رہاہے تو کو ئی پیپلز پارٹی کواس بل کی حمایت حاصل کرنے کے عوض ریلیف ملنے کا کہہ رہاہے ۔ بعض تو مسلم لیگ ن کا سلیکٹڈ وزیر اعظم آنے کی پیشگوئی بھی کرچکے ہیں، کوئی ان سے پوچھے کہ آرمی چیف کی مدت توسیع کے معاملے کے ساتھ بیانیے ، ریلیف یا اور کسی معاملے کا کیا تعلق ہے ؟

کیان لیگ اورپیپلز پارٹی آرمی ترمیمی ایکٹ بل کی حمایت نہ کرتیں تو پھر ان کوخوشی ہوتی اور جہاں تک ن لیگ اور پیپلز پارٹی کوریلیف ملنے کا تعلق ہے تو نواز شریف تویہ معاملہ عدالت میں آنے سے پہلے ہی طبی ضمانت پر رہا ہوکر لندن جاچکے تھے جبکہ آصف زرداری کوبھی طبی بنیادوں پر ضمانت مل چکی تھی ۔

اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس بل کی حمایت کوئی ریلیف لینے کیلئے نہیں کی بلکہ وسیع تر قومی مفاد میں کی ہے ، پاکستان کی سیاسی جماعتیں باشعور ہیں اور موجودہ حالات میں ملک کودرپیش خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ اب جودانشوری کی آڑ میں ان کو طعنے مارے جارہے ہیں توکوئی ان سے پوچھے کہ یہ کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ؟

اگر ن لیگ اورپیپلز پارٹی کو آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے بل کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے تو اس کا کیا مقصد ہے ؟ اگر اس کا مقصدسیاسی جماعتوں کو فوج کے مد مقابل کھڑا کرناہے تو یہ کوئی ملک کی خدمت نہیں بلکہ ملک دشمنی ہے اور اگر اس کا مقصد فوج کی مخالفت ہے تو تصور کی آنکھ سے فوج کو نکال کر اس ملک کودیکھ لیا جائے تو باقی کیا رہ جاتا ہے ؟

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...