ایران امریکہ کشیدگی اور پاکستانی معیشت 

ایران امریکہ کشیدگی اور پاکستانی معیشت 

  



بزنس ایڈیشن

حامد ولید

امریکا ایران کشیدگی کے با عث دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی مندی، سونے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ماہر معیشت محمد کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے باعث پاکستان کی معیشت پر دباوٗ بڑھنے کے ساتھ مہنگائی میں اضا فہ ہو گا کیونکہ جنگی حالات میں تاجراسٹاک مارکیٹ اور کاروبار سے پیسہ نکال کر سونے اور فکسڈ انکم میں منتقل کر دیتا ہے، پاکستان درآمدی تیل پر انحصار کر تا ہے اگر 10ڈالر بھی تیل مہنگا ہو گا تو پاکستان کا امپورٹ بل دوسے ڈھائی ملین ڈالر بڑھ جائے گا اثرات پاکستان کے ذخائر اور مہنگائی دونوں پر ہوں گے۔

  اس میں شک نہیں کہ 2019ء عوام کیلئے مہنگائی کا سال رہا، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر کے تیسرے ہفتے کے دوران ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 18.5فیصد تک پہنچ گئی، گزشتہ سال دسمبر کے چوتھے ہفتے میں یہ شرح 5.5فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق کھانے پینے اور روز مرہ استعمال کی 51بنیادی اشیا میں سے 47اشیا گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں 174فیصد تک مہنگی ہو چکی ہیں، یعنی معاشی ترقی کی صورت میں گزشتہ سال دسمبر میں مہنگائی کی جو شرح 5.5فیصد تھی، وہ مزید کم ہوتی مگر اس سال دسمبر میں حکومتی ادارے کے مطابق مہنگائی کی شرح بڑھ کر 18.5فیصد تک پہنچ گئی ہے، تو سوال یہ ہے کہ پھر آئی ایم ایف کیوں ایسا کہہ رہا ہے، بات واضح اور سادہ ہے کہ چونکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ لادنے ہی کی وجہ سے آئی ایم ایف کو قرضے کی قسط اور سودی رقم طے شدہ معاہدے کے مطابق مل رہی ہے، اس لئے اس شاباش کا مطلب محض یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے عوام پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال کر آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتی جائے۔ 

مزید ظلم یہ ہے کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ 2016کی جولائی تا ستمبر سہ ماہی سے شروع ہوگا یعنی اب بقایاجات بھی بل میں شامل کئے جائیں گے۔ بنا بریں حکومت آئی ایم ایف سے وعدے کے مطابق رواں ماہ (جنوری 2020) میں پاور اور گیس ٹیرف میں 15فیصد اضافے کے جو دو ٹیرف جاری کرے گی، اس سے اگلے چند ماہ میں مزید مہنگائی بڑھے گی۔ 

آئی ایم ایف کے بہتری کے اشاروں کے برعکس برطانیہ کے سینٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ کی حالیہ رپورٹ کا کہنا یہ ہے کہ 2019میں جی ڈی پی کے لحاظ سے پاکستان کی معاشی نمو 3.3فیصد رہی جبکہ 2018ء میں یہ شرح 5.5فیصد تھی۔ ہماری حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئندہ سالوں میں پاکستان برق رفتار ترقی کرے گا لیکن اس رپورٹ کے مطابق دور دور تک اس کے امکانات نہیں۔رپورٹ کے مطابق 14سال بعد چین پہلی، امریکہ دوسری، بھارت تیسری بڑی معاشی طاقت ہوگا جبکہ پاکستان 50ویں نمبر پر ہوگا۔ معیشت کی دگرگوں حالت اور غربت، بیماری، مہنگائی، بیروزگاری میں آئے روز اضافے اور دور دور تک اس کے خاتمے کے آثار نظر نہ آنے کے باوجود اگر مراد سعید صاحب بضد ہیں کہ عمران خان نے معیشت کو آئی سی یو سے نکال دیا ہے تو اس کے ماسوا ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔

ستم یہ ہے کہ جہاں انسانی ضرورت کی ہر چیز آئے روز مہنگی ہو رہی ہے وہاں سب سے زیادہ اضافہ جان بچانے والی ادویات میں کیا گیا ہے۔ گویا اس طرح انسانی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھانے کو معاشی ترقی کہا جا رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے بھی حکومت کے دعوے یوں حقیقت پر مبنی نہیں ’کے الیکٹرک‘ کے صارفین کیلئے فی یونٹ بجلی 4روپے 90 پیسے مہنگی کر دی گئی ہے، یوں اس اضافے سے فی یونٹ بجلی کی اوسط قیمت 17روپے 69پیسے ہو جائے گی۔ 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کو اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی خسارہ آدھا رہ گیا ہے، مہنگائی 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تاہم معیشت مستحکم ہے،پیداوری ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا، جبکہ جی ڈی پی کی 4 فیصد نمو کا ہدف حاصل کرنے بھی ممکن نہیں، مالی سال 20 ء کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتہ خسارہ گزشتہ برس کی نصف سطح سے بھی کم رہ گیا، برآمدات میں قابل ذکر نمو دیکھا گیا۔ معیشت بتدریج مطابقت کی راہ پر گامزن ہے،فصلوں کی پیداوار ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے جبکہ تعمیرات سے منسلک صنعتوں اور گاڑیوں کی صنعتوں کی نمو میں کمی کا رجحان جاری رہا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال 20 ء کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی معیشت بتدریج مطابقت کی راہ پر گامزن رہی، آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی شروعات سے کلی معاشی استحکام کی رفتار بڑھ گئی۔

اسٹیٹ بینک نے مسلسل زری پالیسی کو مہنگائی کے وسط مدتی ہدف سے ہم آہنگ رکھا جبکہ مالیاتی محاذ پر یکجائی کی کوششیں نمایاں رہیں۔ مزید برآں، مارکیٹ پر مبنی شرح مبادلہ کا ایک نظام نافذ کیا گیا اور انٹربینک فارن ایکس چینج مارکیٹ نے خود کو اس نظام سے خاصا ہم آہنگ کر لیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک کے قرضے کے رول اوور سمیت خسارے کی مونیٹائزیشن سے گریز کیا اور دستاویزیت کی کوششوں کو فعال انداز میں آگے بڑھایا۔رپورٹ کے مطابق جڑواں خساروں میں کمی کی شکل میں معاشی استحکام کی جاری کوششوں کے ثمرات نمایاں ہو چکے ہیں۔مالی سال 20 ء کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتے کا خسارہ بنیادی طور پر درآمدات میں خاصی کمی کی بدولت گر کر گذشتہ برس کی نصف سطح سے بھی کم رہ گیا۔ کم اکائی قیمتوں کی وجہ سے برآمدات کی نمو پست رہی تاہم حجم کے لحاظ سے برآمدات میں قابل ذکر نمو دیکھی گئی۔مالیاتی محاذ پر مجموعی خسارہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں کم رہا اور بنیادی توازن میں پچھلی 7  سہ ماہیوں میں پہلی مرتبہ فاضل درج کیا گیا۔ اس بہتری میں محصولات میں اضافے اور اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات دونوں نے کردار ادا کیا۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سہ ماہی کے دوران ترقیاتی اخراجات میں 30.5فیصد کی بلند نمو ہوئی۔جبکہ جی ڈی پی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ خریف کے موسم کے نظر ثانی شدہ تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہم فصلوں کی پیداوار مالی سال 20ء کے ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال 20 ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی (LSM) کے شعبے میں 5.9? فیصد کی سال بسال کمی دیکھی گئی۔ یہ تخفیف وسیع البنیاد تھی کیونکہ تعمیرات سے منسلک صنعتوں، پیٹرولیم اور گاڑیوں کی صنعتوں کی نمو میں کمی کا رجحان جاری رہا۔اس کے مقابلے میں شرح مبادلہ میں پہلے کی گئی اصلاحات سے برآمدی صنعتوں کو مدد ملی، جس کی عکاسی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی نسبتاً بہتر کارکردگی سے ہوتی ہے۔ تاہم بحیثیت مجموعی حقیقی جی ڈی پی کی 4 فیصد نمو کا ہدف حاصل ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔

مزید براں رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مالی سال 20ء کی پہلی سہ ماہی میں عمومی صارف اشاریہ قیمت(CPI) مہنگائی 11.5? فیصد ہوگئی، جو مالی سال 19ء کے آغاز سے شروع ہونے والے اضافے کے رجحان کا تسلسل ہے۔

مہنگائی کی یہ سطح نہ صرف گذشتہ برس کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں دگنی تھی بلکہ یہ مالی سال 12ء کی چوتھی سہ ماہی سے لے کر اب تک سہ ماہی مہنگائی کی بلند ترین سطح بھی تھی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ آدھا رہ گیا ہے جبکہ مہنگائی 7سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے تاہم معیشت مستحکم ہے لیکن پیداوری ہدف حاصل نہیں ہو سکا اور برآمدات میں قابلِ ذکر نمو دیکھا گیا۔ معیشت بتدریج مطابقت کی راہ پر گامزن ہے جبکہ تعمیرات سے منسلک صنعتوں اور گاڑیوں کی صنعتوں کی نمو میں کمی کا رجحان جاری رہا۔ دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر عالمی، ایشیائی اور پاکستانی حصص بازار میں مندی جبکہ عالمی سطح پر تیل مہنگا ہو گیا اور سونے کی قیمتیں بھی 6سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جس سے پاکستان میں مہنگائی کی ایک نئی لہر بھی آ سکتی ہے جس کے بعد پہلے سے ہی مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کیلئے ضروریاتِ زندگی کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔ موجودہ حکومت ملک میں معاشی انقلاب لانے کا نعرہ لگا کر بر سرِ اقتدار آئی تھی لیکن معاشی انقلاب کیا آتا اب تو عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ سے مہنگائی کا عفریت ایک بدمست ہاتھی کی طرح سامنے آنے والی ہر شے کو پامال کرتا چلا جا رہا ہے، نتیجتاً آج مہنگائی سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے میں کمی اورملکی معیشت کا استحکام کی جانب سفر قابلِ ستائش عوامل ہیں لیکن معاشی استحکام کی اِس دوڑ میں ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ حکومت کی کاوشوں سے انکار نہیں لیکن یہ امر بھی ناقابلِ تردید ہے کہ مہنگائی و غربت کو دور کرنے کے موثر اقدامات نہ کئے گئے تو حکومت کے باقی تمام کارنامے اپنی افادیت کھودیں گے۔ حکومت کو چاہئے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر مہنگائی کے تدارک کے لئے موثر اقدامات کرے۔

ایران امریکہ کشیدگی نے ملکی معیشت کے بہت سے شعبوں کو گومگوں کی کیفیت میں مبتلا ہے، ہر کوئی بے یقینی کا شکار ہے، ایسالگتاہے کہ اگر جنگ شروع ہو گئی تو پاکستانی معیشت دگرگوں کا شکار ہو جائے گی اور گزشتہ ایک سال میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کو جس طرح سے سیدھا کیا تھا وہ ایک مرتبہ پھر الٹی پڑ سکتی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہیں، روزگار کے ذرائع محدود اور مسدود ہیں، ایسے میں اگر ایران امریکہ کشیدگی کا آغاز ہوگیا تو عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔ اس حوالے سے یہ صورت حال ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے، تاہم تسلی بخش بات یہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہو چکا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں پاکستان کو وہ سپورٹ حاصل رہے گی جس کی سبب وہ اس مشکل صورت حال سے باہر نکل سکتا ہے۔ تاہم دعا یہ ہے کہ خطہ کسی نئی جنگ کی لپیٹ میں نہ آئے اور یہاں کی معاشی صورت حال درست سمت میں گامزن رہے۔

سرخیاں 

10ڈالر بھی تیل مہنگا ہواگا تو پاکستان کا امپورٹ بل دوسے ڈھائی ملین ڈالر بڑھ جائے گا 

مہنگائی 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تاہم معیشت مستحکم ہے

معیشت بتدریج مطابقت کی راہ پر گامزن ہے 

تصاویر

ایران امریکہ کے سربراہوں کی تصاویر

اسٹیٹ بینک آف پاکستان

بازاروں میں عوام 

آئی ایم ایف

مزید : ایڈیشن 2


loading...