ملٹی نیشنل کمپنیوں کا خونی شکنجہ۔۔۔!

ملٹی نیشنل کمپنیوں کا خونی شکنجہ۔۔۔!

  



ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے مالی سال2018-19ء کے دوران 1ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بیرون ملک بھیجا جبکہ اسی عرصے کے دوران 74کروڑ 50لاکھ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی،یوں مالیاتی اداروں نے تقریباً 25کروڑ ڈالر منافع بیرون ملک منتقل کیا ہے۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع کو بیرون منتقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیاں اپنے آپریشن پاکستان میں بڑھا نہیں رہیں۔افسوس ناک امر یہ پاکستان جو کہ نہ صرف زرعی ملک ہے بلکہ قدرت نے اسے ہر طرح کے وسائل سے فیاضی کے ساتھ نوازا ہے،بے سروسامانی کے عالم میں آزادی حاصل کرنے والی اس مملکت خداداد نے ابتدائی تین دہائیوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں بے مثال کارکردگی اور ترقی کا سفر طے کیا،تاہم نوے کی دہائی کے بعد سے کرپشن اور کک بیکس نے ایسے قدم جمائے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں پٹرول سستا اور دودھ مہنگا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کرپشن،لوٹ مار اور انصاف کے فقدان کی وجہ سے مقامی سرمایہ کاروں نے اپنے کاروبار بیرون ملک منتقل کر لیے ہیں (ملک پر حکمرانی کرنے والوں کے اپنے کاروبار اوربنک اکاؤنٹس بیرون ملک ہیں) جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں نے ”مٹھی گرم کرو اور موجیں کرو“کا فارمولا اپنا کر یہاں کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا،ان کی موجیں اس لیے بھی ہیں کہ نہ تو معیار پر اور نہ ہی قیمتوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے اور نہ ہی کوئی انہیں روک ٹوک کر سکتا ہے چنانچہ انہوں نے شتر بے مہار کی طرح ملک بھر کو اپنی جاگیر سمجھ کر عوام کی جیبوں اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنا اپنا معمول بنا لیا ہے جبکہ ان کی دیکھا دیکھی مقامی صنعت کاروں نے بھی جعلی اور انتہائی غیر معیاری چیزیں دھڑلے سے بنا کر بیچنا معمول بنا لیا ہے جس کا سدباب کرنے کی بجائے حکومت محض خانہ پُری کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی ہے۔تاریخی طور پر اس مکروہ دھندے کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا میں مٹھی بھر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا غلبہ سرمایہ داری کے ارتقاکا فطری نتیجہ ہے جو کہ زیادہ انفرادی منافع کی لالچ کی بنیاد پر قائم ہے اسے حاصل کرنے کے لئے سرمایہ دار مجبور ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے سے مقابلہ کریں،اپنی پیداوار میں اضافہ کریں،فروخت بڑھائیں،موجودہ منڈیوں کے استحصال میں اضافہ کرتے ہوئے نئی منڈیاں تلاش کرکے سستی محنت اور سستے خام مال کے حصول کے لئے نئے ممالک میں سرمایہ کاری کریں،اس طرح مٹھی بھر بڑی بڑی کارپوریشنوں نے دولت جع کرکے دنیا پر غلبہ حاصل کر لیا اور ان کمپنیوں کے ساہوکار اپنی من مانی کر رہے ہیں۔یہ نظام 1960ء کی دہائی میں مغربی ساحلوں پر پروان چڑھا اور1980ء کی دہائی میں مشرق منتقل ہوگیا جس سے معاشرتی اقدار اور معیشت کا جنازہ نکلناشروع ہوگیا اور ہم ملٹی نیشنل اور این جی اوز کی بچھائی شطر نج کے ادنیٰ مہرے بن گئے۔دنیا بھرمیں پھیلی ہوئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں 620ہیں، ان کے مجموعی اثاثے 50ٹریلین ڈالرزسے

زائدہیں۔جبکہ ایشیا کی معیشت پر40بڑی کمپنیاں قابض ہو چکی ہیں۔ان کمپنیوں نے جن ملکوں کادیوالیہ نکالا ان میں صومالیہ،روانڈا،سوڈان،شمالی کوریا،ایل سلواڈور،زمبابوے،مالڈوا پیرو،یوکرائن، البانیہ، آرمینیا، برکینافاسو، کیمرون، چاڈ، کانگو، ایتھوپیا،گیمبیا، ہیٹی، ملاوی، مالی، سینیگال،نائیجریااور تنزانیہ شامل ہیں۔دوسری جانب پاکستان میں کچھ عرصے سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کا معاملہ زیر بحث ہے،چند ماہ سے عالمی ادویہ ساز کمپنیوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی منظوری کے بغیر خاموشی سے جان بچانے والی متعدد دواؤں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا،اپوزیشن اور عوام کے شدید احتجاج کے بعد حکومت نے دواساز کمپنیوں کے اضافے کو مسترد کر کے انہیں مذاکرات کی دعوت دی لیکن یہ کمپنیاں حکومت کی بات ماننے کو تیار نہیں تھیں اور خودساختہ اضافے کو برقرار رکھنے پر مصرتھیں۔جبکہ مارکیٹوں میں ادویہ کی مصنوعی قلت بھی پیدا کر دی ہے تاکہ ضرورت مند عوام مہنگے داموں ادویہ خریدنے پر مجبور ہو جائیں۔ادویات مہیا کرنے والی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے70کی دہائی میں پاکستان کا اس وقت بائیکاٹ کر دیا جب بھٹو نے ہر دواملک میں بنانے کا اعلان کیا،حکومت مجبورہوئی اور ان کمپنیوں کی اجارہ داری کچھ اس طرح ہوئی کہ آج ہم ہندوستان کی نسبت جان بچانے والی ادویات کے66فیصد زیادہ نرخ دے رہے ہیں حتیٰ کہ جو دوائی گزشتہ حکومت میں 18روپے کی ملتی تھی،آج کی قیمت 80روپے ہو چکی ہے۔آزار تجارت پر ایک عام تنقید یہ کی جاتی ہے کہ یہ کثیر الاقوامی اداروں کے خزانے بھرنے میں مدد کرتی ہے جبکہ مزدوروں،مقامی لوگوں اور چھوٹے صنعت کاروں کے حقوق کو کچل دیتی ہے،گو کہ تجارتی معاہدوں کے تحت کثیر الاقوامی اداروں کو خاص حقوق نہیں ملتے لیکن ملکوں کے درمیان آزاد تجارت کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے معاشی حالات سے خوب فائدہ اٹھایا ہے، اس کے لئے ان ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ایک ایسا راستہ اپنایا ہے جو ان کے اپنے مفاد میں ہے اور اسی فارمولے کے تحت ہی اس بار بھی ملک بھر میں مختلف ادویہ ساز کمپنیوں نے اپنی ادویات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا مگر حکومت عوام کے ساتھ دن دیہاڑے ہونے والی اس ڈکیتی کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مافیا اتنا طاقتور ہے کہ کسی ملک میں بیٹھ کر ادویات کی قیمتوں کا تعین اپنی مرضی سے کرتا ہے اور کوئی اسے نہیں پوچھتا ایسی بات نہیں ہے بلکہ ہمارے بعض بیوروکریٹس کے ساتھ اس مافیا نے ملی بھگت کر رکھی ہے،قیمتیں بڑھانے میں درپردہ اسے ان کی معاونت اور آشیر باد حاصل ہوتی ہے جن ملٹی نیشنل کمپنیوں نے حکومت کی مرضی کے بغیر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے ان میں دو چار کے لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیئے جائیں تو باقی کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے،اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پولن کا سیزن شروع ہونے کے باعث الرجی سمیت سانس، دمہ اور آنکھوں کے امراض بڑھ رہے ہیں تاہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے ادویات میں 15سے70فیصد اضافے کے بعد کئی اہم ادویات مارکیٹ سے ناپید ہو چکی ہیں،موجودہ صوتحال سے مریض پریشان اور محکمہ صحت مکمل طور پرلاتعلق نظر آتا ہے۔چند ماہ قبل بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے جان بچانے والی ادویہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے بعد اپنے عملے کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صارفین سے نئی قیمتوں کے حساب سے ادویات کے پیسے چارج کریں جس کے باعث کئی جان بچانے والی ادویات مارکیٹ سے غائب ہو گئیں اور مافیا کو مریضوں کی پریشانی سے بے جا فائدہ اٹھانے کی کھلی چھٹی مل گئی۔ان کمپنیوں نے عوام کو اس قدر لوٹا ہے کہ اگر ادویات بنانے والی صرف ایک کمپنی چاہے تو دینا کے ہر شخص کا مفت علاج ہو سکتا ہے۔چھ کمپنیاں مل کر دنیا کی کل آبادی کو پوری زندگی کے لئے ایک معیاری ہسپتال فراہم کر سکتی ہیں،اگر5بڑی کمپنیاں زندگی بچانے والی ادویات کو اپنے چنگل سے آزاد کر دیں تو مہلک امراض سے مرنے والوں کی تعداد میں 90فیصد کمی آسکتی ہے۔سرجری کے آلات بنانے والی دو کمپنیاں چار سال تک دنیا کے تمام مریضوں کے مفت آپریشن کراسکتی ہیں،طاقت کی دوئیاں بنانے والی کمپنیاں دس سال تک تمام نومولود بچوں کو ڈبے کا دودھ فراہم کر سکتی ہیں اور صرف دوکمپنیاں چاہیں تو دنیا سے ٹی بی،کینسراور ایڈز جیسے مہلک امراض کو جڑ سے اکھاڑ سکتی ہیں لیکن اس کے بجائے یہ مریضوں کے جسم سے خون کاایک ایک قطرہ چوسنے کے ساتھ غریب ملکوں کے کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ اتحاد بنا کر کرہ ارض پر بیماری،جہالت،مفلسی اور لاچاری کے جراثیموں کو پروان چڑھا رہی ہیں اور کوئی ان کا ہاتھ نہیں روک رہا۔ادویات کی قیمتوں کے تعین کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی فارمولا نہیں ہے جبکہ ہزاروں مریض مہنگی ادویہ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اور سسک سسک کر جان دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ آئین پاکستان ریاست پالیسیوں سے جینے کے حق کا تحفظ کرے،تاہم حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بالکل ناکام ہو چکی ہے،ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں آئین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور ارباب اختیار کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ ساری صورت حال اس امر کی غماز ہے کہ

ہمیں عوام کو اس لوٹ مار سے بچانے کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حصار کو فوراً توڑنا ہوگا،سرمایہ کاری اور نقب زنی میں تفرق کرنا ہوگی اور عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچانے کے ساتھ غیر معیاری مصنوعات کا بھی سدباب کرنا

ہوگا۔

نوٹ:(مضمون نگارضیاء الحق سرحدی سینئر کالم نگار و معاشی تجزیہ نگارکے علاوہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU)کے ممبر سینٹ بھی ہیں۔)

مزید : ایڈیشن 2


loading...