بل تو منظور ہو گئے،اب عوام کی فکر کون کرے گا؟

بل تو منظور ہو گئے،اب عوام کی فکر کون کرے گا؟
بل تو منظور ہو گئے،اب عوام کی فکر کون کرے گا؟

  



اس تحریر کی اشاعت کے ساتھ ہی یہ خبر بھی پڑھ لی جائے گی کہ مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری اور ملازمت میں توسیع کے حوالے سے تیار کئے گئے مسودات قانون ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا سے منظور ہو گئے اور امکانی طور پر صدرِ مملکت کے دستخط بھی کروا لئے گئے۔یوں جس مسئلہ (ایشو) نے کئی روز سے پوری پارلیمینٹ اور سیاسی جماعتوں کو چکر میں پھنسایا ہوا تھا وہ حل ہو گیا اور خوش قسمتی سے اتفاق رائے سے ہوا۔ اگرچہ جمعیت علمائے اسلام(ف) جماعت اسلامی اور قوم پرست دو جماعتوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا،اس مسئلے پر ہم اس وقت صرف اتنا ہی کہیں گے کہ یہ سب یوں ہی ہونا تھا اور عرض بھی کیا تھا کہ مسلم لیگ(ن) ہو یا پیپلزپارٹی کوئی مخالفت نہیں کرے گا۔ البتہ حیرت اس بات پر ہوئی اور ہے کہ حکمران جماعت کو جلدی کیوں تھی، کہ ان بلوں کو ایک ہی نشست میں منظور کرانے کی ہر ممکن سعی کی گئی، یہ سب اگر اطمینان سے بھی کیا جاتا تو بھی زیادہ دن نہ لگتے اور یوں افراتفری سے بعض حضرات کو تنقید کا موقع بھی نہ ملتا اور یہ بھی ممکن ہوتا کہ رائے شماری کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتیں بھی مثبت ردعمل کا اظہار کرتیں اور یہ مسوداتِ قانون متفقہ طور پر ہی منظور ہو جاتے،لیکن حکمران جماعت نے یہ بھی نہیں کیا۔

دوسری طرف یہ بھی اچنبھا تھا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ والی جماعت گھٹنوں بل گری اور روٹی، کپڑا والی جماعت نے بھی ہتھیار ڈال دیئے۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں نوید قمر کی طرف سے تجاویز یا ترامیم واپس لینے کے اعلان کا منظر بھی خوب تھا کہ انہوں نے غمزدہ اور رندھی آواز میں ترامیم کی واپسی کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی(Isolation) پورے ایوان میں اکیلی نہیں رہ سکتی۔ بہرحال بلاول بھٹو زرداری خود موجود نہیں تھے، ادھر سے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور سید خورشید شاہ بھی نہیں تھے،حالانکہ ان سب کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری ہو چکے ہوئے تھے۔قارئین نے یہ بھی جان لیا ہو گا کہ مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں بہت سے سوال کئے گئے،جن کا جواب موجود نہیں تھا کہ قیادت تو لندن میں ہے اور یہاں بیانیہ کی بات کی جا رہی تھی،اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے بھی خود کو پرے رکھا کہ وہ پارلیمانی طریق کار پر اصرار کرتے اور اپنی تجاویز کو پیش کرنا چاہتے تھے،لیکن ایسا نہ ہوا اور اب تو وزیراعظم کو یہ اختیار مل ہی گیا کہ وہ تقرر اور توسیع کر سکیں۔موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع تو پہلے ہی کر دی گئی تھی،جس پر یہ سب کچھ ہوا، آج اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ ذرا گرد بیٹھے تو پھر کچھ کہا بھی جائے۔

ہمارا ارادہ تھا اور ہے کہ آج سٹیٹ بنک کی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ کے حوالے سے کچھ کہیں۔یوں بھی سارے سیاسی ہنگامے میں کسی کی توجہ ادھر نہیں جاتی،عوام پوچھتے ہیں کہ جتنی دلچسپی توسیع والے مسئلے پر لی گئی اور سرگرمیاں دکھانے کے بعد تحریک انصاف مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی ایک صفحہ پر آ گئے تو یہ سب مہنگائی، بے روز گاری،کساد بازاری اور دیگر عوامی مسائل پر کب اکٹھے ہوں گے کہ یہ سب عام آدمی کو متاثر کر رہے ہیں۔سٹیٹ بنک نے حالیہ رپورٹ میں جو بڑی بات کی وہ یہ ہے کہ مہنگائی گزشتہ سات سال سے بھی زیادہ ہو چکی اور جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4فیصد بھی نہ ہو سکے گا۔اس سلسلے میں ہماری تشویش اور بھی بڑھ گئی،جب ایران اور امریکہ کی حالیہ کشمکش اور تنازعہ نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے اور اس کے معاشی اثرات مرتب بھی ہونا شروع ہو گئے ہیں،جہاں تک ہمارے پیارے ملک پاکستان کا تعلق ہے تو مہنگائی کے جس گرداب میں ہمیں پھنسا دیا گیا ہے اس سے نکلنا محال ہو چکا اور اب تو ہر نچلے طبقے(متوسط ہو یا غریب) کے لئے پناہ گاہیں اور لنگر خانے ہی بنانا ہوں گے کہ ان طبقات کی آمدنی میں تو چھت اور روٹی میسر ہونا مشکل ہے۔اس پر سرکاری طور پر جو کچھ کیا جا رہا ہے وہی ذریعہ بھی بن رہا ہے۔

حکومت کی طرف سے گیس اور بجلی مہنگی کرنے کے علاوہ دیگر ٹیکسوں کی صورت میں جو کچھ کیا گیا اس کے سبب اشیاء ضرورت اور خوردنی ہی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔چہ جائیکہ تن ڈھانپنے اور پیر چھپانے کے لئے کپڑے اور جوتے خریدے جا سکیں، یہاں ہم صرف اور صرف بجلی کے نرخوں اور بلوں کی بات کرتے اور آج کا موازنہ گزشتہ برس سے کر کے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بوجھ میں کتنا اضافہ ہوا، ہمارے سامنے ماہِ دسمبر کے دو بل پڑے ہیں۔ ایک بل147 یونٹ اور دوسرا270 یونٹ کا ہے، تھوڑے استعمال والے میٹر کے147 یونٹ کی بجلی کی قیمت اس طرح ہے کہ پہلے سو یونٹ کی تفصیل کے مطابق نیپرا کا نرخ 12.090 فی یونٹ، اس پر سبسڈی6.300 فی یونٹ، چارجز5.790 روپے فی یونٹ ہیں، جبکہ اگلے 47 یونٹ کا ٹیرف 13.540روپے فی یونٹ سبسڈی 5.430 روپے فی یونٹ چاجز8.110 روپے فی یونٹ ہیں، سو یونٹ کی کل قیمت579.00 روپے اور دوسرے 47 یونٹ کی381.17 روپے ہے۔ یوں 147 یونٹ کی رقم960.17 روپے بنی، اس کے لئے سبسڈی885.21 روپے دی گئی۔ اب آپ ذرا یہ بھی دیکھ لیں کہ اس بل پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز 739.22 روپے، ایکسائز ڈیوٹی14.40 روپے، ٹی وی فیس35.00 روپے۔ جنرل سیلز ٹیکس176 روپے، نیلم جہلم سرچارج 14.70روپے اور ایف سی سرچارج 63.21 روپے ہے۔یوں یہاں بھی 303.31 روپے وصول کئے گئے۔لیسکو کے مطابق اس بل میں اس کو76فیصد ملیں گے، جبکہ ٹیکس24فیصد ہیں۔

اب دوسرے بل کی بات کریں جو 270 یونٹ کا ہے، اس کی قیمت بجلی2336.00 روپے اور ٹیکس636.14 روپے اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز1565.60 روپے ہیں۔اس میں ٹیکس کی شرح21فیصد اور سبسڈی1440.9 روپے ہے کہ بل300 یونٹ سے کم ہے۔ اب ذرا یہ بھی دیکھ لیں کہ ان تمام ٹیکسوں اور قیمت سمیت گذشتہ برس (2018ء) میں دسمبر کا بل271 یونٹ کے عوض 3190 روپے تھا، جبکعہ اس مہینے یہ بل270 یونٹ کا ہے اور کل رقم4538 روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف ایک سال میں اضافہ 1348 روپے ہے۔ اگر اس میں سبسڈی شامل کریں تو یہ اضافہ2788روپے ہے، جبکہ اس مرتبہ1565.60 روپے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز شامل ہیں،جو ہر ماہ کے بل میں جوڑ دیئے جاتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار فیول سے ہوئی۔

یہ حقائق حکومت اور صارفین کے لئے ہیں جو بل دیکھ کر غمزدہ ہوتے اور ایسا کوئی حساب نہیں کرتے، اسی سے اندازہ لگائیں کہ جب گرمیاں آئیں گی اور بل300یونٹ سے بڑھیں گے، سبسڈی نہیں ہو گی، نرخ زیادہ ہو جائیں گے تو حال کیا ہو گا۔کیا اب یہ توقع کی جائے کہ کل سے اراکین پارلیمینٹ عوامی مسائل پر بھی اتفاق رائے سے سوچ بچار کر کے حل کریں گے اور ان پر بھی مکمل اتفاق ہو گا؟

مزید : رائے /کالم


loading...