ون ڈش قانون کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ

ون ڈش قانون کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ
ون ڈش قانون کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ

  



ایک وقت تھا، شادی بیاہ کی تقریب خوبصورت سماجی تقاریب میں سے ایک ہوتی تھی۔ یہ تقاریب ہماری ثقافت کا بھی حصہ تھیں۔ خاندان میں کسی کی شادی ہوتی تو مہینوں پہلے سے تیاریاں شروع کر دی جاتی تھیں۔ نئے کپڑے بنوائے جاتے تھے اور دفاتر و سکولوں سے چھٹیوں کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا کہ شادی کی مختلف تقریبات سے پوری طرح لطف اندوز ہوا جا سکے۔ اس موقع پر بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ مَیں اس وقت کی بات کر رہا ہوں جب شادی میں شرکت ہی نہیں کی جاتی تھی، بلکہ جس گھر میں شادی کی تقریب ہوتی، اس کے اہل خانہ کی ہر طرح سے مدد بھی کی جاتی تھی۔ تب کیٹرنگ کا بزنس شروع نہیں ہوا تھا اور شادی ہالوں کی وباء بھی ابھی نہیں پھیلی تھی، اس لئے مایوں، بارات اور ولیمے کا کھانا گھر والے خود ہی پکواتے تھے، چنانچہ شادی میں شرکت کے لئے آنے والوں میں سے کوئی دیگیں پکوانے لگتا، کوئی مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کی ذمہ داری لے لیتا اور کوئی مہمانوں کی دیکھ بھال میں لگ جاتا۔

شادی اگر کسی گاؤں میں ہو رہی ہوتی تو پھر پورا گاؤں ہی میزبان بن جاتا اور اہلِ دیہہ مختلف کام اپنے ذمے لے لیتے۔ پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور شادی گھروں کا رواج چل پڑا۔ اس سے اہلِ خانہ کو تو کچھ سہولت میسر آ گئی کہ کھانا پکوانے، کھلانے، اس کے لئے برتنوں کا انتظام کرنے، تمبو قناتیں لگوانے، کرسیوں کو ترتیب سے رکھنے اور تقریب کے بعد اس سارے سامان کو سمٹوانے کے جھنجھٹ سے آزاد ہو گئے، لیکن شادیوں کی تقریبات کا سارا مزا جاتا رہا۔ ماضی میں شادیوں کی تقاریب کئی کئی دن جاری رہتی تھی‘ لیکن شادی گھروں، یعنی بینکوئٹ ہالوں اور مارکیوں کے آنے سے یہ تقاریب چند گھنٹوں تک محدود ہو گئیں۔ لوگ گھروں سے شادی گھر جاتے، تقریب میں حصہ لیتے، کھانا کھاتے، سلامی دیتے اور گھروں کو واپس آ جاتے تھے، لیکن دولت والوں نے اس چند گھنٹے کی تقریب کو بھی اپنی دولت کی نمائش کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ ان کی تقاریب آدھی آدھی رات تک جاری رہتیں اور ان میں درجنوں قسم کے کھانے کھلائے جاتے۔ یہ صورت حال ان غریب والدین کے لئے تکلیف کا باعث تھی، جنہوں نے اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرنا ہوتیں اور جو ایسی پْر تکلف تقریب کا انعقاد کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔

ان کی اسی پریشانی کا ادراک و احساس کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شادی بیاہ کی تقاریب میں یہ پابندی عائد کی کہ مہمانوں کو صرف ون ڈش کھانا ہی دیا جائے تاکہ امیر غریب کی تفریق، جو بڑھتی ہی جا رہی تھی کو ختم کیا جا سکے۔ ساتھ ہی یہ پابندی بھی عائد کی گئی کہ شادی گھروں میں تقاریب رات دس بجے تک مکمل کی جائیں تاکہ مہمان انتظار کی کوفت اور بے آرامی سے بچے رہیں۔ آغاز میں اس پابندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جاتا رہا،جس کے نتیجے میں صورت حال خاصی بہتر ہو گئی تھی، لیکن پھر متمول خاندانوں اور افراد نے، جو سماجی بہبود کے لئے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کو اپنا حق سمجھتے ہیں تاکہ اپنی دولت کی نمائش کر سکیں، ان قوانین کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔

یہ خلاف ورزیاں اب اتنی بڑھ چکی ہیں کہ رات دس بجے تقاریب ختم کرنے کی پابندی اور ون ڈش کے قانون کا عملی طور پر کہیں وجود نظر نہیں آتا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں ون ڈش قانون کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں بڑے شہروں اور ان بڑے شہروں کے نواح میں واقع فارم ہاؤسز میں کی جا رہی ہیں،جبکہ شہروں کے پوش علاقوں میں واقع شادی گھروں میں ون ڈش قانون کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔ یہاں بھی صاحبِ حیثیت اپنی منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ با اثر افراد کی جانب سے سجائی گئی محافل کو بروقت ختم نہ کرنا اور شادی بیاہ کی تقاریب میں متعدد کھانوں کی فراہمی روٹین بنتی جا رہی ہے۔ نواز شریف کے دورِ حکومت میں شادی کی تقریب میں کھانے پر پابندی لگائی گئی تھی، لیکن پھر ون ڈش کی اجازت دے دی گئی تھی۔اب اس ون ڈش کی اجازت کو لوگوں نے کئی ڈشوں میں تبدیل کر لیا ہے۔

شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی، دکھاوے، نمود و نمائش نے بہت سے ایسے سماجی مسائل پیدا کر دیئے ہیں، جن کے باعث بے شمار قسم کی الجھنیں معاشرے کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ جن میں شادی کے غیر ضروری اخراجات کا بروقت بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کے رشتوں میں غیر ضروری تاخیر اور اس تاخیر کی وجہ سے خواتین میں پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل شامل ہیں۔ نمود و نمائش کی اس دوڑ میں کچھ لوگوں نے اپنی حیثیت کو بھلا کر غیر ضروری رسومات و اخراجات کی خاطر اپنے گھر اور اثاثے تک بیچ دینے، حتیٰ کہ سود پر قرض لینے اور دوسرے شارٹ کٹ اختیار کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور ان اقدامات کے باعث معاشی مسائل کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔

پھر مالی معاملات ہی شادی کے بعد پیدا ہونے والی الجھنوں، خاندانی جھگڑوں، حتیٰ کہ طلاقوں کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ وقت اور ون ڈش کی پابندی سے ایسے مسائل کی شدت میں کمی آئی تھی، لیکن اب یہ مسائل پھر سر اٹھانے لگے ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ ان کے حل پر جلد اور مناسب توجہ نہ دی گئی تو یہ پورے معاشرے میں بے چینی بڑھانے کا باعث بن جائیں گے۔ ان برائیوں کے تدارک اور اجتماعی غلط رویے کو درست کرنے کے لئے کام ہونا چاہئے اور اس حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ اسی کے پاس تمام تر انتظامی صلاحیت ہے۔ اصولاً ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امیر طبقے خود ہی غریبوں کی مشکلات کا احساس کرتے اور اپنی دولت کی نمود و نمائش سے مجتنب رہتے،لیکن اگر معاشرے میں ایسا احساس نہیں پایا جاتا تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آگے بڑھے اور اپنی رٹ کے ذریعے سماجی ہمواری پیدا کرے۔

مزید : رائے /کالم


loading...