سازشوں کے تارعنکبوت

سازشوں کے تارعنکبوت
سازشوں کے تارعنکبوت

  



امریکہ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کے بیہمانہ قتل اور مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لئے ہمیں 70 کی دہائی میں جھانکنا ہوگا۔ 1973-74 ء میں جب نکسن امریکہ کے صدر اور ہنری کسنجر وزیر خارجہ تھے تو امریکی حکومت نے اپنے ایک تھینک ٹینک کو ٹاسک دیا کہ 2000ء میں، یعنی 25سال بعد امریکہ کو سب سے زیادہ خطرہ کہاں سیہو گا؟ جس کی رپورٹ تھینک ٹینک نے دی کہ تب امریکہ کے لئے سب سے بڑ اخطرہ اسلامی ممالک، خصوصاً پاکستان، عراق، مصر، بنگلہ دیش، افغانستان اور شام کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ رپورٹ میں یہ مثال دی گئی کہ اسرائیل کی آبادی کے تناسب سے مصر کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے،اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو مصر کی آبادی اتنی ہوجائے گی کہ اگر انہوں نے پیدل ہی اسرائیل کی طرف چلنا شروع کر دیا تو انہیں روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا،

جبکہ ان ملکوں میں ہماری حمایت یافتہ حکومتوں کا خاتمہ بھی ہو سکتاہے۔ رپورٹ کے بعد آبادی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پروگرام ترتیب دے کر عملی اقدامات کئے گئے، جو اب تک جاری ہیں اور یہ اقدامات صرف آبادی کے پھیلاؤ کو روکنے کے کسی ایک پروگرام پر منحصر نہیں ہوسکتے۔ اس رپورٹ کے تناظر میں اس کا اندازہ تو بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ مسلمانوں سے کس قدر خائف ہے؟نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا، دہشت گردی نے سر اٹھایا، اس کے بعد امریکہ بہادر نے افغانستان پر مستقل قبضہ کر لیا اور دیگر فوجی طاقت رکھنے والے اسلامی ممالک کی طاقت کو زائل کرنا شروع کر دیا گیا۔ جن ممالک کی عسکری قوت کو ختم کرنا امریکہ کے بس میں نہیں، وہاں امن و امان کے مسائل پیدا کر دئیے گئے۔ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے متعدد مقاصد پورے کر چکا ہے۔

عراق، لیبیا، شام، یمن، صومالیہ وغیرہ میں امریکہ اپنے مذموم عزائم پورے کرچکا ہے۔ ایک افغانستان کی ہڈی امریکہ کے گلے میں اٹک کررہ گئی ہے۔ اس وقت پاکستان، ترکی، ایران اور سعودی عرب امریکہ کے اہداف ہیں، لیکن سعودی عرب اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پا رہا۔ پاکستان، ایران اور ترکی اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود طاقت اور عسکری قوت رکھنے والے ممالک ہیں۔ امریکہ کبھی یہاں فوجی دہشت گردی کی حماقت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرکے یہاں کی عسکری قوتوں کو مصروف رکھنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب عسکری لحاظ سے امریکہ کے لئے کوئی خطرہ نہیں ……مگر یہ ملک ایسی مقدس سرزمین ہے،جس سے پورے عالم اسلام کی عقیدت وابستہ ہے۔

ان مقدس ترین مقامات کی حفاظت کو دنیا کا ہر مسلمان اعزاز سمجھتا ہے اور خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کو اپنی سعادت سے تعبیر کرتا ہے۔ امریکہ نے بہت پہلے ارض مقدس سے مسلمانوں کی عقیدت میں کمی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ جب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان با اختیار ہوئے تو انسانی حقوق کے نام پر ایسی ایسی تبدیلیاں ہوئیں، جن سے معاملات کو سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ سعودی عرب میں نہ صرف سینما گھر تعمیر ہوئے،بلکہ خواتین کے لئے پردے کی پابندیاں اٹھائی جا رہی ہیں، عورتوں کی میراتھن ریس اور ڈرائیونگ کی اجازت دی جا چکی ہے۔ فوج میں خواتین کی بھرتی تک کی خبر بھی سامنے آ چکی ہے۔ گویا امریکہ سعودی عرب میں اپنے مقاصد پورے کررہا ہے۔ عراقی وزیر اعظم کی جانب سے اس انکشاف کے بعد کہ جنرل سلیمانی سعودی عرب کے لئے ایک خط لائے تھے، جس میں اہم پیغام تھا،شکوک و شہبات اور بھی پختہ ہوجاتے ہیں کہ جنرل سلیمانی کا قتل کن مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے کیا گیا ہے؟

جنرل قاسم سلیمانی کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور انہیں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران میں سب سے مقبول اور بہادر مانا جاتا تھا۔ایران میں داعش کے خلاف کارروائیاں انہیں منظر پر لائیں، ورنہ شہرت سے بے نیاز اس جوانمرد کو کوئی راہرو نہ پہچانتا تھا۔ 1980ء سے 1988ء تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میں قاسم سلیمانی سینئر کمانڈر کے عہدے تک پہنچے، پھر1998ء میں قدس فورس کے کمانڈر بننے کے بعد انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے خلاف 2011ء میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لئے حکمتِ عملی بھی بنا کر دی،جو ان کی سیاسی دفاعی بصیرت کا ثبوت تھی۔ سی آئی اے کے سابق اہلکار جان میگوائر نے 2013ء میں امریکی جریدے ”دی نیویارکر“ کو بتایا تھا کہ سلیمانی ”مشرقِ وسطیٰ کا طاقتورشخص ہے“…… بغداد سے لے کر افغانستان تک سلیمانی کی دانش و حکمت کو مانا جاتا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی ایک طلسماتی اور کرشماتی شخصیت تھے،جن سے امریکہ اس قدر خائف تھا کہ صدر ٹرمپ ایک دائمی گھبراہٹ کا شکار ہو چکے تھے، کہیں جنرل قاسم سلیمانی اس کے آس پاس سے نہ نکل آئے، لیکن جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد امریکہ کے لئے یہ خوف اور بھی دو چند ہو گیا کہ ایران کا ہر شخص اب جنرل قاسم سلیمانی بنتا نظر آرہا ہے۔

امریکہ کو خدشہ ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی آج بھی قبر سے اٹھ کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوگا ۔جنرل قاسم سلیمانی عراق کی دعوت پر وہاں پہنچے تھے۔ عراقی وزیراعظم پارلیمنٹ سے خطاب میں بتا چکے ہیں کہ جنرل سلیمانی سعودی عرب کے لئے ایران کا اہم پیغام لائے تھے،جس روز انہیں قتل کیا گیا، اسی روز ان سے ملاقات طے تھی، گویا امریکہ،ایران اور سعودی عرب کی قربت سے بھی خائف تھا، اسے اس بات کا احتمال تھا کہ اگر سلیمانی کے لائے خط کا پیغام سعودیہ تک پہنچ گیا تو ایران اور سعودی عرب میں تعلقات استوار ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر شام میں بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ دوسری طرف روس، ترکی و غیرہ اسے قائم رکھنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ ترکی، لیبیا میں اپنی افواج بھجوانے کی تیاری کر رہا ہے۔ سعودی عرب یمن میں موجود ہے، شام میں بھی اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ ایرانی اثر و رسوخ بھی عربوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ اُدھر پاکستان کے اکنامک کو ریڈور پر شکوک و شہبات بڑھتے جاتے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ آئی ایم ایف نے سی پیک کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور چین اس منصوبے کی تفصیلات کسی کو دینا نہیں چاہتا جبکہ ہماری حکومت معاشی دباؤ میں اس کی تفصیلات آئی ایم ایف سے شیئر کر چکی ہے۔

سی پیک تو پہلے ہی بھارت کی آنکھ میں کھٹک رہا تھا، تبھی تو سی پیک منصوبے کے ساتھ ہی بھارت چاہ بہار میں جا پہنچا تھا۔چین کے بڑھتے ہوئے بین البر اعظمی اثرات بھی امریکہ کے من کو نہیں بھاتے۔ ترکی اور ایران نے ملائیشیا کے ساتھ مل کر کوالالمپور میں مسلمانوں کے لئے جس کانفرنس کا انعقاد کیا، عمران خان صاحب اس میں شامل نہ ہو سکے۔ سعودی عرب نے اس کانفرنس کی مخالفت کی تھی۔دوسری جانب نریندر مودی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر چکا ہے، وہاں بھارت نے فوج تعینات کردی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بنکر بنائے جارہے ہیں، ہماری سرحد وں کے پاس ہوائی اڈے متحٍرک ہو چکے ہیں، بھارت نے اربوں روپوں سے جو باڑ بنائی تھی، وہ بھی اتاری جا رہی ہے۔

ایسے حالات میں خطے کی صورت حال کا اندازہ لگانا بہت مشکل نہیں رہ جاتا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان سامنے آچکا ہے کہ وہ امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ بنیں گے، نہ ہی اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی جازت دی جائے گی۔ جہاں تک بھارت یا کسی بھی ملک دشمن قوت کا تعلق ہے تو افواج پاکستان کسی بھی طوفان کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں،جبکہ امریکہ کی کوئی گیدڑبھبھکی ہمیں مرعوب نہیں کر سکتی۔ پاکستان اب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ امریکہ ویت نام سے دم دبا کر بھاگا تھا،اس کے فوجی ہیلی کاپٹروں سے لٹک کر نکل سکے تھے۔ عراق، افغانستان اور شام میں بھی امریکہ کو ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ سیکیورٹی معاہدہ ختم اور غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کا بڑا فیصلہ کر چکی ہے۔ عالم اسلام کے تمام ممالک کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر ایک ہوجائیں توامریکہ سمیت دیگر قوتوں کی سازشوں کے تارعنکبوت کاٹے جا سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...